زیادہ کپاس اگاؤ مہم،آئندہ 15دن اہم،فیلڈ ٹیموں کو ہدف پورا کرنیکا ٹاسک

زیادہ کپاس اگاؤ مہم،آئندہ 15دن اہم،فیلڈ ٹیموں کو ہدف پورا کرنیکا ٹاسک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


     ملتان (سپیشل رپورٹر)سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہونے کہا ہے کہ آئند پندرہ دن کپاس کی کاشت کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے بشمول محکمہ زراعت کی فیلڈ ٹیمیں، متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور ریونیو کا عملہ ملکرکپاس کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کو یقینی بنانے کے لئے کاشتکاروں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگو ریسرچ انسٹیٹیورٹ ملتان میں کاٹن ایکشن پلان2023-24 سے متعلق جاری سرگرمیوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل،ایڈیشنل سیکرٹریز ٹاسک فورس جنوبی پنجاب محمدشبیر احمدخان وامتیاز احمد وڑائچ،ڈائریکٹر جنرل زراعت(توسیع) پنجاب ڈاکٹرمحمد انجم علی،ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں سمیت محکمہ زراعت ملتان ڈویژن کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس سال ملتان ڈویژن میں 12 لاکھ69 ہزار ایکڑ مقرر کیا گیا ہے جس میں سے اب تک قریباً7 لاکھ40 ہزاررقبہ کپاس کے زیرِ کاشت لایا جا چکا ہے جو کہ کل ہدف کا58 فیصد ہے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ بہتر کوآرڈی نیشن سے ہی کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل ہوگا۔محکمہ زراعت کا فیلڈ عملہ ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تمام متعلقہ محکموں سے رابطے جاری رکھے تاکہ کپاس کی کاشت کے ہدف کو مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کا ہر اہلکار زیادہ "زیادہ کپاس اگاؤ  "مہم کا حصہ ہے۔زرعی توسیعی کارکنان کاشتکاروں کو کپاس کی کاشت  کیلئے فنی راہنمائی و معاونت فراہم کریں۔ کپاس کی کاشت کے ہدف کے حصول میں کوتاہی کی صورت میں متعلقہ ڈویژنل افسران کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ کپاس کی کاشت کے حوالے سے درست اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ فراہم کی جائے۔ان اعداو شمار کی پڑتال بھی کرائی جائے گی اورغلط رپورٹ کرنے والے جوابدہ ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے کپاس کی منظور شدہ اقسام کے تصدیق شدہ بیجوں پر60 کروڑ روپے جبکہ کھادوں پر بھی اربوں روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کھادوں کی ترسیل کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت متعلقہ اضلاع کے کوٹہ کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔اس موقع پرسیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہاکہ کپاس کی قیمتوں کے حوالے سے کاشتکاروں کے تحفظات دور کرنے کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے8500روپے فی من کپاس کی قیمت کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگیتی کاشتہ کپاس کی نگہداشت کیلئے کاشتکاروں کو بروقت ٹیکنکل ایڈوائزری بھی فراہم کی جارہی ہے۔  زرعی یونیورسٹی میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے دورہ۔پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے سیکرٹری زراعت کو یونیورسٹی میں جاری مختلف ترقیاتی اور ریسرچ پراجیکٹس بارے بریفنگ دی۔رئیس جامعہ نے بتایا کہ کہ یونیورسٹی خاص طور پر جنوبی پنجاب کے کسانوں کی فلاح کے لیے  مختلف ریسرچ پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے جس میں خاص طور  گندم کا ہائیبرڈ بیج، فلاپی ایریگیشن سسٹم،بائیو پیسٹیسائیڈ،مینگو سمال ٹری سسٹم،سمارٹ ٹریپ اور سولر ڈرائیر سسٹم شامل ہیں۔مزید کہا کہ انڈیا کی زراعت ترقی میں اچھے بیج کا مرکزی کردار ہے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر زرعی یونیورسٹی ملتان زراعت کی بہتری اور کسان کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد نے مکمل ہونے والے انٹرنشپ پراجیکٹ کے بارے بریفنگ دی۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے زرعی یونیورسٹی ملتان کی جنوبی پنجاب کی زراعت کی بہتری کے لیئے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی یونیورسٹیاں اپنے علاقے کی زراعت کے مسائل پر توجہ مرکوز کر تے ہوے جدید رجحانات پر تحقیق کریں۔مزید اس بات پر زور دیا کہ ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان نے جو پائلٹ سکیل پراڈکٹس،مشینری اور پروٹوٹائپ تیار کیے ہیں ان کو انڈسٹری کے ساتھ مل کمرشل سطح پر تیار کریں تاکہ کسان اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔مجھے اس ادارے میں آکر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ یہ پورے ملک کی زراعت خصوصا جنوبی پنجاب کے کسانوں کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔میں امید کرتا ہوں کے یہ زرعی یونیورسٹی ایک دن نمبر ون ادارہ ہوگا۔ترقی پسند کسان خالد کھوکھر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس یونیورسٹی کے دروازے کسانوں کے مسائل  کا حل اور رہنمائی کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔یونیورسٹی میں جاری مختلف پروجیکٹس خصوصاً گندم کا ہائیبرڈ بیج گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید،پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رضا،عمران محمود،شفیق فاروقی،ذوالفقار علی تبسم سمیت دیگر فیکلٹی موجود تھی 

مزید :

صفحہ اول -