بادشاہ چارلس کی تقریب تاج پوشی   کروڑوں افراد کی توجہ کا مرکز بن گئی! 

بادشاہ چارلس کی تقریب تاج پوشی   کروڑوں افراد کی توجہ کا مرکز بن گئی! 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم اور ملکہ کمیلا کی تاج پوشی کی شاندار تقریب گزشتہ ہفتے منعقد ہوئی جس میں عالمی رہنماؤں، شاہی خاندان کے افراد اور معززین سمیت 2 ہزار سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب میں برطانوی عوام کے علاوہ دنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح بھی شریک ہوئے۔بادشاہ چارلس اِس تاج کو پہننے والے ساتویں شاہی سربراہ ہیں۔چارلس سوئم اور ان کی اہلیہ ملکہ کنسورٹ کمیلا کی تاج پوشی کی تقریب ویسٹ ایبے میں ہوئی جس میں مختلف مذہبی اور شاہی رسومات ادا کی گئیں۔ آرچ بشپ آف کینٹربری نے شاہ چارلس سے حلف لیا، جس کے بعد بادشاہ نے حلف نامے پر دستخط کئے اور سینٹ ایڈورڈ چیئر سنبھال لی۔ برطانیہ میں گزشتہ 70 سال کے دوران تاج پوشی کی یہ پہلی تقریب تھی۔ شہزادہ اینڈریو، پرنس ایڈورڈ، شہزادی یوجین اور این کے ساتھ ساتھ شاہی سٹیٹس ترک کر دینے والے پرنس ہیری بھی تاجپوشی کی تقریب میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف سمیت دنیا بھر سے سربراہان مملکت، شاہی خاندانوں اور حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ دو ہزار کے قریب مہمانوں نے اس شاندار اور رنگارنگ تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم رِشی سونک نے استقبالیہ پیش کیا۔تاجپوشی کی یہ روایت 1066ء میں شروع ہوئی تھی جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے، شاہ چارلس سوئم برطانیہ کے 40ویں بادشاہ ہیں، تاج پوشی کی رسم کے بعد ملک بھر میں بگل بجے اور توپوں کی سلامی پیش کی گئی، تقریب کے بعد شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا جارج سوئم کے لیے چار ٹن سونے سے بنائی گئی سٹیٹ کوچ (بگھی) میں روانہ ہوئے،جبکہ 39 ممالک کے چار ہزار فوجی اہلکاروں کے ایک میل طویل جلوس میں گھرے واپس بکنگھم پیلس پہنچے۔ شاہ چارلس کی مرحوم والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی تاجپوشی کے بعد یہ برطانیہ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تقریب تھی جس کے دوران ہزاروں برطانوی سڑکوں پر آمڈ آئے اور دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے اِس تقریب کو ٹی وی سکرینوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے براہ راست دیکھا۔ بکنگھم پیلس میں واپسی کے بعد وہاں موجود ہزاروں افراد کے لئے شاہی خاندان بالکونی میں آ گیا، اِس موقع پر برطانوی فوج کے ہوائی جہازوں نے انہیں فضائی سلامی پیش کی۔ اتوار کی رات ونڈسر کیسل میں ”کورونیشن کانسرٹ“ منعقد کیا گیا جس میں ایک ہزار افراد شریک ہوئے۔ جشن کی اِس تقریب پر اربوں روپے خرچ ہوئے،کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس جشن میں شاہی خاندان کی تمام تر رسوم و رواج اور روایات نبھائی گئیں، تقریباً ایک ہزار سال میں اب تک ایسی 40 تقاریب منعقد کی جا چکی ہیں۔ دور بدلتے رہے، تاج کے حقدار بھی بدلتے رہے لیکن رسوم و رواج اور تقریب کی شان و شوکت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شاہی روایات آج بھی برقرار ہیں اور پورے جوش و خروش سے نبھائی جاتی ہیں۔
شاہ چارلس برطانیہ کے علاوہ 14 دولتِ مشترکہ ممالک کے بھی بادشاہ ہیں جن میں آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔ بادشاہ چارلس 14 نومبر 1948ء کو پیدا ہوئے، انہیں 1969ء میں باقاعدہ طور پر پرنس آف ویلز بنایا گیا۔ انہوں نے فوجی خدمات بھی انجام دیں۔ ان کی پہلی شادی 1981ء میں آنجہانی پرنسس آف ویلز ڈیانا سے ہوئی، اس شادی نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی پھر کمیلا پارکر کے ساتھ 2005ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ بادشاہ چارلس کے دوبیٹے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری ہیں، شہزادہ ولیم کو اب پرنس آف ویلز کا اعزاز عطا کردیا گیا ہے، وہ برطانیہ کے اگلے بادشاہ ہوں گے۔ برطانوی حدود سے اگر سمندر پار علاقے نکال دئیے جائیں تو برطانیہ آبادی کے لحاظ سے 22ویں نمبر پر آتا ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے یہ 78واں بڑا ملک ہے۔ اِس کے باوجود دنیا کی پانچویں بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ گمان یہی ہے کہ 2030 ء تک یہ جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی چوتھی جبکہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ کہنے کو یہ چھوٹا سا ملک ہے لیکن تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اِس کا طوطی بولتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے سپر پاور بننے تک برطانیہ کو ہی سپر پاور کا درجہ حاصل تھا، برطانوی سامراج کی کئی کالونیاں تھیں اور اِس کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر بھی لگ بھگ سو سال تک نو آبادیاتی نظام قائم کیے رکھا۔ آج بھی سکاٹ لینڈ کے علاوہ کئی ریاستیں ہیں جو انگلستان کے ساتھ مل کر متحدہ مملکت (یونائیٹڈ کنگڈم یعنی یو کے) بناتی ہیں، ان کے لا تعداد مسائل بھی زیر بحث رہتے ہیں تاہم اِس سب کے باوجود برطانیہ اِس اتحاد کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
جمہوریت کے باوجود برطانیہ میں آج بھی شاہی نظام رائج ہے کیونکہ وہاں کے شاہی خاندان اور عوام کے درمیان ایک توازن قائم ہے، صدیوں کی جدوجہد کے بعد 1804 ء میں وہاں پارلیمان تشکیل دی گئی جو دنیا بھر کی جمہوریتوں کے لیے ایک مثال تھی اِس لیے اِسے ”پارلیمنٹ کی ماں“ بھی کہا جاتا ہے۔موجودہ برطانوی وزیراعظم رِشی سونک کا تعلق ہندو مذہب سے ہے،دنیا بھر کے لگ بھگ ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے اور مختلف قومیتوں کے افراد اِس پارلیمان کے ممبر ہیں، گزشتہ انتخابات میں آٹھ خواتین سمیت 13 مسلمان برطانوی رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ برطانیہ کی ترقی میں جہاں سائنسی دریافتوں اور تجارتی بحریہ سمیت کئی دیگر عوامل کا عمل دخل ہے، وہاں سیاسی نظم و ضبط ایک اہم ترین وجہ ہے جس کے باعث برطانیہ نہ صرف متحدہ مملکت بنائے ہوئے ہے بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چھ سالوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر تین وزرائے اعظم مستعفی ہو چکے ہیں، رِشی سونک چوتھے وزیراعظم ہیں۔ وہ اِس سے قبل مستعفی ہونے والے سابق وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ میں بطور وزیر خزانہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوپر تلے کئی وزیراعظم بدلنے کے باوجود وہاں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، وہاں وزیر اعظم کرسی سے الگ ہوتے گئے اور گھر جاتے گئے، کسی نے دھمکایا ڈرایا اور نہ ہی ہڑتال اور احتجاج کا سہارا لیا، اْن کا ملکی نظام بھی بخوبی چل رہا ہے بلکہ دوڑ رہا ہے۔ہمارے اہل ِسیاست کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہئے، ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفاد کو مقدم رکھنا چاہئے۔اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ملک کا نظم و نسق بہترین طریقے سے چلانا مقصود ہے تو تمام ترجمہوری تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں۔ اچھے کام کی تعریف اور بہترین عمل کی تقلید میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ بات یاد رکھنا لازم ہے کہ آج جو لوگ حکومت میں ہیں انہیں کل اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے اور جو آج اپوزیشن میں ہیں وہ کل اقتدار سنبھال سکتے ہیں، اِس لیے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے اور بدلے کی سیاست کی بجائے اپنی تمام تر توانائی ملک کو آگے بڑھانے پر لگائیں،عوام کی آشیر باد حاصل کرنے کے لیے نعروں اور دعووں کا سہارا لینے کی بجائے کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھنے سے ہی بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔
٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -