مونگی پوکس!پاکستان میں اس مرض سے کوئی خطرہ نہیں!

مونگی پوکس!پاکستان میں اس مرض سے کوئی خطرہ نہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 دنیا ابھی کورونا کی وبا سے سنبھلی ہی تھی کہ ایک نئی بیماری مونکی پوکس کا چرچا شروع ہو گیا۔ یہ بیماری اس وقت قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا اور ڈینگی کے حملے کے بعد عوام میں مونکی پوکس کا خوف پھیلتا جا رہا ہے۔ مختلف طبقہ فکر کے لوگ اس نئی بیماری کے حوالے سے ممکنہ مسائل، ملکی معیشت پر اس کے اثرات اور اس پر قابو پانے کی صلاحیت کے حوالے سے گفت و شنید کر رہے ہیں۔قومی اور صوبائی محکمہ صحت میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح ملک کو اس نئی بیماری سے بچایا اور عوام کی صحت کا خیال رکھا جائے۔ اس وقت میڈیا مونکی پوکس کے حوالے سے بہت زیادہ خبریں دے رہا ہے۔ اخبارات اور رسائل دیکھنے سے یہ لگتا ہے جیسے پاکستان پر مونکی پوکس کا حملہ ہوگیا یا یہ وبائی شکل اختیار کر گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 23 سے 25 کروڑ کی آبادی میں ابھی تک ایک ہی کنفرم کیس سامنے آیا جس کا علاج کرنے کے بعد مریض کو گھر بجھوا دیا گیا۔ اس وقت پاکستان میں اس مرض سے کوئی خاص خطرہ نہیں۔ ویسے بھی یہ مرض چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین یا دفاعی طور پر کمزور افراد کو ہوتا ہے،99 فیصد لوگ ازخود ٹھیک ہو جاتے ہیں جنہیں کسی خاص دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں اس مرض کے پھیلنے کا خطرہ ان افراد میں ہو سکتا ہے جو دنیا کے متاثرہ ممالک سے سفر کر کے پاکستان آئے ہوں اس لئے یہ مرض پاکستان میں ابھی موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود ضروری ہے کہ عوام کو اس مرض کے حوالے سے بتایا جائے۔ اس مرض کے علاج اور تشخیص کے حوالے سے بات کی جائے۔ خاص طور پر ان لوگوں پر نظر رکھنا ضروری ہے جو افریقہ، امریکہ اور یورپ سے سفر کر کے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں یا ایسے افراد جن میں کسی نہ کسی طرح مونکی پوکس یا اس سے ملتی جلتی علامات ہیں تاکہ ان کا معائنہ کیا جائے، مختلف ٹیسٹ کئے جائیں اور  یہ حتمی فیصلہ کیا جائے کہ آیا ان افراد میں مونکی پوکس ہے بھی یا نہیں۔
 پاکستان اس لحاظ سے نسبتاً محفوظ ہے کہ ہماری مذہبی روایات اور کلچر اس طرح کا ہے کہ نہ تو لوگ جنگلوں میں رہائش پذیر ہیں، نہ ہی ہماری آبادیوں کے پاس بہت زیادہ  جنگلات ہیں، نہ ہی ہمارے ملک میں جنگلی جانوروں جیسے بندر، بن مانس،گلہری یا اس قسم کے اور جانوروں کا شکار کر کے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، نہ ہی ان جانوروں کو برآمد کیا جاتا ہے۔  ہمارا مذہب بھی ہمیں جنسی بے راہ روی اور ہم جنس پرستی  سے روکتا ہے۔ یہ  وہ عوامل ہیں جو مونکی پوکس کے عدم پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2022ء  میں آنے والی اس عالمی وبا سے بھی پاکستان محفوظ رہا۔ اس مرتبہ بھی یہی امید کی جا رہی ہے کہ یہ مرض پاکستان کی حدود میں شاید اس طرح سے داخل نہیں ہو پائے گا جیسے امریکہ، افریقہ اور یورپ میں دیکھا گیا ہے۔ انسانوں میں جس طرح کسی زمانے میں چیچک کا مرض دیکھا جاتا تھا اسی طرح مختلف جانوروں میں اسی سے ملتی جلتی بیماریاں بھی دیکھی جاتی ہیں مثلاً مرغیوں میں چکن پوکس اور بندروں میں مونکی پوکس۔گزشتہ کئی دہائیوں سے انسان ماحول میں چھیڑچھاڑ اور فطری اصولوں کے خلاف کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہر چند سال بعد ایک نیا مرض  سامنے آ جاتا ہے، جو دنیا کے کسی ایک حصے میں رونما ہونے کے بعد باقی حصوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور دنیا کے کسی ایک کونے میں پیدا ہونے والی بیماری بری، بحری یا فضائی راستوں کے ذریعے چند گھنٹوں یا دنوں میں دنیا کے دوسرے کونے تک منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری جانوروں میں دیکھی جاتی تھی اور مختلف قسم کے جنگلی جانور،جن میں بندر، بدمانس، گوریلا، گلہری یا اس سے ملتے جلتے دیگر جانوروں میں اس کے کیسز دیکھے جاتے تھے۔ مونکی پوکس کی جانوروں میں تشخیص بھی زیادہ پرانی نہیں،1958ء میں ڈنمارک کے بندروں میں پہلی مرتبہ اس بیماری کی تشخیص ہوئی جو بنیادی طور پر جانوروں کی بیماری ہے۔انسانوں میں پہلی مرتبہ 1970ء میں کانگو میں ایک نو ماہ کے بچے میں اس مرض کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ بیماری انسانوں سے انسانوں اور جانوروں سے انسانوں میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مونکی پوکس کی بیماری جسے MPox بھی کہا جاتا ہے، ایک خاص قسم کے وائرس مونکی پوکس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس وائرس کی دو اقسام  ہیں جن کو Clad-1 اور Clad-2کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ مرض افریقہ اور اس کے گرد و نواح میں دیکھا جاتا ہے۔  1970ء  کے بعد آہستہ آہستہ یہ مرض افریقہ کے مختلف حصوں میں پھیلنا شروع ہوا پھر مشرقی اور وسطی افریقہ میں Clad-1 کا وائرس پایا گیا جبکہ مغربی افریقہ میں Clad-2 کا وائرس دیکھا گیا۔ 2003ء میں افریقہ سے امریکہ منگوائے جانے والے جنگلی جانوروں کے ذریعے Clad-2 کا وائرس امریکہ منتقل ہو گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ وائرس قدرتی طور پر کس جگہ پر رہتا ہے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ گلہری، بندروں، بن مانسوں اور دیگر ملتے جلتے جانوروں میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔ 2005ء کے بعد کانگو میں ہر سال مونکی پاکس کے کئی ہزار کیسز دیکھے جانے لگے۔  2017ء  میں مونکی پوکس کا حملہ نائیجیریا میں ہوا اور نائیجیریا کے مختلف شہروں میں یہ مرض پھیلنا شروع ہوگیا،پھر ان علاقوں سے دوسرے علاقوں میں جانے والے مسافروں کے ذریعے یہ وائرس دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ مئی 2022ء  میں مونکی پوکس کی بیماری اچانک تیزی سے یورپ کی طرف پھیلنا شروع ہو گئی۔ اس کے بعد امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،پھر اس مرض نے دنیا کے تمام براعظموں کا رخ کر لیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ابھی تک دنیا بھر میں صرف 112 افراد ہی مونکی پوکس کی وجہ سے موت کے منہ میں گئے ہیں جبکہ دیگر امراض جن میں ہیپاٹائٹس، ٹی بی، ایڈز، ذیابیطس و دیگر شامل ہیں، ان سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔دنیا بھر میں اس وبا کے دوران اس مرض کا حملہ زیادہ تر ہم جنس پرستوں اور جنسی بے راہ روی کا شکار لوگوں میں ہوا،یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسانوں تک جنسی بے راہ روی کے ذریعے پھیلا۔
وزیر صحت پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب مونکی پوکس سے نبردآزما ہونے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ ڈاکٹر، پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسز کی ٹریننگ کی جا رہی ہے۔ اس وقت پاکستان اور پنجاب کو اس مرض سے کوئی خطرہ نہیں لیکن پھر بھی احتیاطی طور پر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پاکستان میں بری، بحری اور فضائی راستوں سے آنے والے مسافروں کو چیک کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی مونکی پوکس کی ممکنہ علامت ظاہر ہونے پر انہیں الگ کر کے ان کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں تاکہ اس کا کوئی بھی مریض پاکستان میں داخل نہ ہو سکے۔ صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر کا مزید کہنا تھا کہ دونوں محکمہ ہائے صحت نے سرکاری ہسپتالوں میں مونکی پاکس کے حوالے سے کیسز سامنے آنے پر وارڈز مختص کردیئے ہیں تاکہ مریضوں کو علیحدہ وارڈز میں رکھ کر ان کا علاج معالجہ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو اس سلسلے میں فوکل پوائنٹ نامزد کیا گیا ہے جو علاج معالجے سے متعلق گائیڈ لائنز فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔آئی پی ایچ 24 گھنٹے شہریوں کو مونکی پاکس سے متعلق معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ڈاکٹر جمال ناصر نے  عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں پریشان نہ ہوں۔پنجاب میں  ابھی تک اس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ بغیر تصدیق کے چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کیئر علی جان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور ان کے ماتحت عملے کو بیماری اور اس کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی دے دی گئی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر پورے پنجاب سے رابطے میں ہیں، تشخیص یا علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پنجاب مونکی پوکس سے محفوظ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس مرض کو پنجاب کی حدود میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

مونکی پوکس اس وقت تک پاکستان میں صحت کا مسئلہ نہیں ہے پھر بھی عوام کو اس مرض کے حوالے سے بتانا، اس کی علامات، اس کے پھیلاؤ کے طریقے اور اس سے بچاؤ کے لئے کی جانے والی تدابیر کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسے افراد جن میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہو، انہیں چاہئے کہ وہ شروع سے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ مرض ہمارے ملک میں نہ آ سکے۔ اس مرض کی تشخیص کے لئے تین علامات کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اول، جلد پر ایک خاص قسم کا ریش (Rash) جس میں درد ہوتا ہے۔ دوئم، بخار اور سوئم، Lymph Nodes  کا سائز بڑھ جانا۔مونکی پوکس کی سب سے واضح علامت جلد پر رونما ہونے والاخاص قسم کا ریش (Rash) ہے،جلد کا یہ ریش (Rash) تقریباً چکن پوکس سے ملتا جلتا ہے، یہ جلد یا جسم کے اندرونی اعضا پرنمودار ہوتا ہے اور دو سے چار ہفتوں تک رہ سکتا ہے اس کے ساتھ بخار اور جسم کے مختلف حصوں کی Lymph Nodes swelling    ہو سکتی ہیں۔ دیگر علامات میں سر، پٹھوں، کمر میں درد اور کمزوری شامل ہے۔ بیماری کے شروع میں سب سے پہلے بخار، پٹھوں میں درد اور گلے میں خراش ہو سکتی ہے جو نزلہ زکام سے ملتی جلتی ہے۔ بعض اوقات مونکی پوکس کا مرض بغیر علامات کے بھی دیکھا جاتا ہے۔  یہ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد چند دنوں سے لے کر دو سے تین ہفتوں میں اپنے اثرات شروع کر دیتا ہے۔جلد پر نمودرا ہونے والا ریش (Rash) خاص قسم کا ہوتا ہے جوسب سے پہلے چہرے پر دیکھا جاتا ہے، بعد میں بڑھتے بڑھتے ہتھیلیوں اور پیر کے تلوؤں تک چلا جاتا ہے۔ اندرونی اعضا کی جھلیوں میں یہ زخم زیادہ پائے جاتے ہیں،  جلد پر زخم چند سے لے کر کئی ہزار تک ہو سکتے ہیں۔اس ریش (Rash) میں خارش اور درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ریش (Rash) مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ جلد شروع میں سرخی مائل ہوتی ہے اور خاص جگہ سے ابھرنا شروع ہوتی ہے پھر اس میں پانی اور آہستہ آہستہ ریشہ پڑ جاتا ہے اور پھر اس پرکھرنڈ آنے کے بعد یہ دانہ خشک ہو کر گر جاتا ہے اور نیچے سے نئی جلد نکل آتی ہے۔ یہ Rash جلد  کے علاوہ جسم کے اندرونی اعضا کی جھلیوں مثلاً منہ کے اندرونی حصے، سانس کی نالیوں، آنکھوں، آنکھوں کی اندرونی جھلی اور جنسی اعضا کی جھلیوں پر بھی پایا جا سکتا ہے۔یہ وائرس ریش(Rash) سے نکلنے والے پانی یا ریشہ یا اس پر لگے کھرنڈ میں موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ صحت مند انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔
مرض کے بارے میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مریض کب تک متعدی ہوتا ہے، یہ جان لیں کہ جب تک کسی بھی انسان کی جلد یا اندرونی اعضاء پر یہ زخم موجود رہے یا ان میں سے پانی رس رہا ہو یا جب تک اس کی جلد نئی نہ بن جائے اس وقت تک مونکی پوکس کا مریض کسی دوسرے شخص کو یہ وائرس منتقل کر سکتا ہے۔مونکی پوکس کئی طریقوں سے ایک مریض سے نارمل شخص کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے مثلاً یہ وائرس سانس کی نالیوں میں موجود زخموں میں ہو سکتا ہے اس لئے بات کرنے یا چھینکنے کے دوران منہ سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے ذرات کے ذریعے یہ وائرس باہر آتا ہے اور اگر کوئی شخص اس کے قریب بیٹھا ہو تو یہ مرض اس کو منتقل ہو سکتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ماسک کا استعمال کیا جائے اور ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پر رہا جائے، یہ مریض کے زخم کو براہ راست چھونے سے بھی بیماری پھیلا سکتا ہے۔
جنسی عمل یا بوس و کنار کے دوران یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔مونکی پوکس  کے سب سے زیادہ امکانات ہم جنس پرستوں میں ہیں،کئی ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ ہم جنسی پرستی اور ہم جنس پرست مرد ہی اس مرض کو پھیلانے کا سب سے بڑا باعث بنے۔ایسے افراد جو جنسی بے راہ روی کا شکار ہوں، ان میں مرض پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ مونکی پوکس کا وائرس مختلف قسم کے غیرجاندار اجسام جیسے کرسی، میز، تولیہ، بیڈ شیٹ یہاں تک کہ اس کمرے میں موجود الیکٹرانک کی اشیاء، فرنیچر اور دیگر سامان پر بھی لگ جاتا ہے اور اگر کوئی نارمل شخص ان چیزوں کو ہاتھ لگائے تو اس کی جلد یا اندرونی اعضا پر زخم ہوں تو یہ وائرس اس کے ذریعے ان میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ مونکی پوکس کے مریضوں کو دوسرے انسانوں سے الگ کر لینا چاہئے۔متاثرہ مریض کے کپڑوں، تولیے، چادروں، کے استعمال سے بھی  یہ بیماری منتقل ہو سکتی ہے۔مونکی پوکس کے متاثرہ جانور کے کاٹنے، پنجے مارنے، شکار کے دوران اس کو پکڑنے یا جلد اتارنے یا پکانے یا اس جانور کا آدھ گلا گوشت کھانے سے بھی یہ وائرس انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔ حاملہ خواتین میں یہ وائرس ماں سے ہونے والے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے،  اپنی جلد کو چھونے سے پرہیز کریں۔ اگر زخم کو چھیڑ کر ہاتھ دوسری جگہ لگایا جائے تو یہ زخم مزید پھیل سکتے ہیں۔
مونکی پوکس کی تشخیص ہونے کے بعد ضروری ہے کہ متاثرہ شخص اپنے آپ کو الگ کر لے۔  مرض دو سے چار ہفتے میں ٹھیک ہو جاتا ہے  جب تک کہ اس کے جسم پر موجود ریش خشک ہو کر جھڑ نہ جائیں اور اس کے نیچے سے نئی جلد نہ آ جائے۔ ایسے مریض کے لئے ضروری ہے کہ ریش کو کھلا نہ چھوڑے، جلد پر موجود زخموں کو ڈھانپ لے اور ماسک کا استعمال کرے۔ ہاتھوں کو سادہ پانی اور صابن سے صاف کریں خاص طور پر جلد پر موجود زخموں کو چھونے کے بعد صاف پانی اور صابن سے اس کی صفائی  رکھیں۔ نمک کے پانی سے غرارے کریں تاکہ منہ میں موجود زخم بھی بہتر ہو جائیں، درد کے لئے سادہ ادویات مثلاً بیروفن یا پیراسٹامول کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگر مرض کا حملہ ہو جائے تو پانی کے ٹب میں بیکنگ سوڈا ڈال کر کم از کم 5منٹ تک اس میں بیٹھیں اور نہائیں تاکہ مریض کو سکون مل سکے۔
عام طور پر 99 فیصد افراد مونکی پوکس سے ازخود ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن  چند افراد خصوصی طور پر چھوٹے بچے، حاملہ خواتین یا دفاعی طور پر کمزور افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان میں اگر مسائل پیدا ہو رہے ہوں تو فوراً قریبی مرکز صحت سے رابطہ کرنا چاہئے۔ ایسے افراد جو ایڈز میں مبتلا ہوں وہ بھی اس مرض کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔ کئی مرتبہ چکن پوکس میں مبتلا بچوں کو مونکی پوکس میں مبتلا سمجھا جاتا ہے، اس لئے دونوں میں تمیز کرنا  بیحد ضروری ہے۔ مرض کی تشخیص کے لئے جلد سے نکلنے والے پانی، پیپ یا کھرنڈ کا ٹیسٹ کیا جانا ضروری ہے، PCR کے ٹیسٹ سے ہم مونکی پوکس کی تشخیص کر سکتے ہیں۔جو ادویات اور ویکسین چیچک کے لئے دنیا بھر میں مستند قرار دی گئی تھیں ان کو مونکی پوکس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خاص ادویات اس کے لئے موجود نہیں لیکن درد کشا ادویات، بخار کم کرنے والی ادویات کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنے والی ملٹی وٹامنز اور دیگر چیزیں بھی اس کے لئے مفید ہو سکتی ہیں۔ مونکی پوکس کے علاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم درد کو بہتر کریں اور مرض سے ہونے والی کمپلی کیشنز کو روکیں تاکہ کسی قسم کے مزید مسائل پیدا نہ ہوں۔کسی قسم کے مسئلے کی صورت میں قریبی طبی مرکز سے رابطہ قائم کیا جائے۔۔        ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -