تبتی  اپنی خوشی اور تحفظ کے لئے دیوتاؤں کے علاوہ دریاؤں، چشموں، پہاڑوں اور ہواؤں کی بھی پوجا کرتے ہیں اور نذرانے کے طور پر جانوروں کی بلی چڑھاتے ہیں 

تبتی  اپنی خوشی اور تحفظ کے لئے دیوتاؤں کے علاوہ دریاؤں، چشموں، پہاڑوں اور ...
تبتی  اپنی خوشی اور تحفظ کے لئے دیوتاؤں کے علاوہ دریاؤں، چشموں، پہاڑوں اور ہواؤں کی بھی پوجا کرتے ہیں اور نذرانے کے طور پر جانوروں کی بلی چڑھاتے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:15
”یہاں انسانوں کی موجودگی کے آثار کم ہیں۔ میرے بالائی حصہ میں تبتی باشندے محض پوجا پاٹ یا تجارت کرنے یا پھر بھیڑ بکریاں چرانے کے لئے ہی آتے ہیں۔تبتی مظاہر پرست ہیں۔ ان کے عقیدے کو موسموں کی شدت، قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی و بربادی مزید تقویت دیتی ہے۔ وہ بے شمار دیوتاؤں کو پوجتے ہیں اور اپنی خوشی اور تحفظ کے لئے دیوتاؤں کے علاوہ دریاؤں، چشموں، پہاڑوں اور ہواؤں کی بھی پوجا کرتے ہیں اور نذرانے کے طور پر جانوروں کی بلی چڑھاتے ہیں۔ ”بون“ قدیم ترین حکومتی مذہب تھا جس کے ماننے والے پروہت اور کاہن کی صورت عوام پر اپنی برتری اور اقتدار کے جال ڈالا کرتے تھے۔ بالکل ویسے ہی جیسے تمھارے دیس میں آج بھی کچھ مخصوص طبقے کے مذہبی پیشواؤں نے ڈال رکھا ہے۔ساتویں صدی عیسوی میں تبت کے بادشاہ نے بدھ مذہب کی ماننے والی 2 خواتین سے شادی کی، خود بھی بدھ مت اختیار کیا تو بدھ مت یہاں کا حکومتی مذہب بن گیا اور اسے فروغ ملنے لگا۔ اس کے باوجود قدیم مقامی مذہب بون کو ختم نہ کیا جا سکا۔ بدھ پروہتوں، عالموں اور راہبوں کے ساتھ ساتھ آج بھی غیب دان، جوتشی، جادوگر، آسیب اتارنے والے اور مذہبی رقاص اپنی اپنی رسوم ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ میرے دوست؛ شعبدہ بازی اور بت پرستی کی یہ عجیب و غریب ملغوبہ دنیا ہے۔بدھ مت کی جو صورت ”لاما ازم“ میں یہاں پروان چڑھی اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی ہے۔ لاما کا مطلب ہے ”استاد، آقا، یا عظیم تر۔“سترھویں صدی  عیسوی میں سب سے بڑے لاما کو تبت کا سردار دیوتا ”چنرازی“ کا دوسرا جنم قرار دے کر ”دلائی لامہ یعنی زندہ بدھا“ کا خطاب دیا گیا۔اس وقت سے لے کر چینی حملوں تک بدھ پروہت یہاں بلا شرکت غیر حکومت کرتے رہے۔  1950؁ء میں چینی سول وار کے خاتمے پر تبت کو چین میں شامل کرنے کے لئے چودھویں دلائی لامہ سے 7 نکاتی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کی پا سداری نہ کرتے ہوئے دلائی لامہ  1859ء میں اپنے دارالحکومت سے فرار ہو ئے اور ”دھرم شالا“ (بھارت) میں خود کو جلا وطن کر لیا اور تب سے وہیں مقیم ہیں جہاں انہوں نے جلاوطن حکومت قائم کر رکھی ہے۔ تم بڑے لوگ ہوتے ہی ناقابل بھروسہ ہو۔ اپنے مطلب کے صرف۔“
 ”تبتی مذہب پسند لوگ ہیں۔ ہر گھر میں قربان گاہ اور عبادت کے لئے مخصوص جگہ ہے۔ ہرے بھرے میدانوں اور صحراؤں میں بھی پگوڈا کی شکل کے ”چارٹنر“ یا مقبرے قائم ہیں جن میں مرنے والوں کی راکھ رکھی جاتی ہے۔ دعائیہ چرخ ہیں جن کو مسافر گھماتے ہیں، لمبے لمبے بانسوں پر علم لہراتے ہیں۔یوں دنیا سے چلے جانے والوں سے اظہار عقیدت کرتے ہیں۔زندوں کی ناقدری اور مردوں سے عقیدت۔ یہ بھی تمھاری دنیا کا نرالا اصول ہے۔“
”میرے گرد آباددیہاتی گھروں کی سر نکالتی ہوئی سنہری چھتیں، سرخ، بھورے اور پیلے رنگ والی بڑی بڑی خانقاہیں۔صدیوں سے ویسی کی ویسی اپنی نوک دار چوٹیوں کے ساتھ کھڑی گھورتی نظر آتی ہیں۔ یاد رکھو؛یہاں مادیت کا غلبہ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ تبتی دنیا میں شاید سب سے آزاد اور خود مختار قوم ہے۔ یہاں دھونس سے لاگو کی جانے والی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بقول ایک سیاح؛
”تبتی ایک خوش باش چھوٹی سی قوم ہے جس کا مزاج بچوں جیسا ہے۔ وہ ہنسنے کا کوئی موقع ضا ئع نہیں کرتے، ہر چیز اور شخص کا مذاق اڑانے کے عادی ہیں۔“
”ویسے ہی جیسے فلم ”گائیڈ“ میں دیو آنند ہر شے کو دھوائیں میں اڑا دیتا ہے۔تبتی لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ نئے اور مختلف نظریات کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ یہ دنیاوی معاملات میں کسی دوسری قوم سے کم نہیں۔ تاہم اپنے روحانی پیشواؤں کی پیروی میں وہ ہمیشہ مذہب کو تجارت پر فوقیت دیتے ہیں۔“ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -