میں بے یقینی اور ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن جیل کے مباحثوں کا تجربہ کام آیا , ہر روز کام سے فارغ ہو کر جھونپڑ پٹی میں باصلاحیت سیاہ فاموں کو مسلمان بنانے کے لیے نکل پڑتا

میں بے یقینی اور ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن جیل کے مباحثوں کا تجربہ کام آیا , ہر ...
میں بے یقینی اور ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن جیل کے مباحثوں کا تجربہ کام آیا , ہر روز کام سے فارغ ہو کر جھونپڑ پٹی میں باصلاحیت سیاہ فاموں کو مسلمان بنانے کے لیے نکل پڑتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : میلکم ایکس( آپ بیتی)
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
قسط :83
چند مہینوں کی کوشش کے بعد دکان کے بیرونی حصے میں واقع معبد نمبر ایک کے اراکین3 گنا ہو گئے۔ اس بات سے ایلیا محمد اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے خود تشریف لا کر ہماری عزت افزائی کی۔ جب منسٹر لیموئل حسن نے انہیں میری محنت کے متعلق بتایا تو انہوں نے میری بہت تعریف کی۔ 
ہمارا کارواں بڑھتا گیا ہم جب بھی شکاگو جاتے ایلیا محمد ہمیں اپنے گھر پر کھانے کی دعوت دیتے۔ وہ میری استعداد اور صلاحیتوں میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے جس کا اندازہ ان کی گفتگو سے ہو جاتا تھا اور میں .... میں تو ان کی پرستش کرتا تھا۔ 
میں نے 1953ءکے اوائل میں فرنیچر کی دکان چھوڑ کر ڈیٹرائٹ میں گار ووڈ فیکٹری میں ہفتہ وار ا جرت پر نوکری کر لی جہاں کوڑے کے ٹرکوں کے ڈھانچے بنتے تھے۔ 
ایک ر وز مسٹر ایلیا محمد نے کھانے کی میز پر فرمایا کہ انہیں ایسے نوجوانوں کی سخت ضرورت ہے جو منسٹرز کی ذمہ داریاں اٹھانے کے اہل ہوں کیونکہ اب تعلیمات کا دائرہ وسیع کرنے اور نئے معبد قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں بھی منسٹر بن جاﺅںگا اور مسٹر ایلیا محمد کی براہ راست نمائندگی کا تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اگر کوئی منسٹر بننے سے متعلق میری رائے لیتا تو میں یہی کہتا کہ میں انتہائی نچلے درجے پر رہ کر مسٹر ایلیا محمد کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اور اسی میں خوش ہوں۔ 
نامعلوم یہ مسٹر ایلیا محمد کی تجویز تھی یا منسٹر لیموئل حسن نے خود فیصلہ کرتے ہوئے مجھے اجتماع سے خطاب کرنے کے لیے کہا۔ میں نے اپنی ذات پر مسٹر ایلیا محمد کی تعلیمات کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”اگر میں آپ کو اپنی سابق زندگی کے متعلق بتاﺅں تو آپ یقین نہیں کریںگے.... جب میں سفید فام کے متعلق بات کرتا ہوں تو میں کسی ایسے شخص کے متعلق بات نہیں کر رہا ہوتا جس سے میں ناواقف ہوں....“ 
اس کے بعد ایک مرتبہ لیموئل حسن نے مجھے فی البدیہہ خطاب کے لیے کھڑا کر دیا ۔میں بے یقینی اور ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن جیل کے مباحثوں کا تجربہ کام آیا (مجھے اب یاد تو نہیں ہے کہ میں نے اس وقت کیا کہا تھا لیکن اتنا یاد ہے کہ میرے ابتدائی موضوعات میں ”عیسائیت اور غلامی“ سر فہرست تھا کیونکہ جیل میں مطالعے کی وجہ سے اس موضوع پر میری گرفت کافی مضبوط تھی) 
”میرے بھائیو اور بہنوں! ہمارے سفید آقا کے عیسائی مذہب نے شمالی امریکہ کے ویرانے میں بھٹکنے والے سیاہ فام لوگوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ مرنے کے بعد ہمارے کاندھوں پر پر نکل آئیں گے اور ہم اڑ کر آسمان پر چلے جائیں گے جہاں اللہ نے ہمارے لیے جنت میں خصوصی جگہ بنا رکھی ہے۔ یہ ہے سفید فاموں کا عیسائی مذہب جو ہم سیاہ فاموں کے ذہن دھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہم نے اسے تسلیم کر لیا قبول کر لیا اس پر ایمان لائے اور اس پر عمل بھی کیا اور جب ہم یہ سب کچھ کر رہے تھے تو اس نیلی آنکھوں والے شیطان نے عیسائیت کو ہی بدل کر رکھ دیا تاکہ ہماری پشت پر پاﺅں رکھ کر کھڑا ہو سکے۔ ہم اگلی دنیا کی جنت اور اس کی نعمتوں میں محو رہیں اور وہ اسی دنیا میں، اسی زندگی میں جنت کا لطف اٹھاتا رہے۔“ 
آج جب ہزاروں مسلمان میرا خطاب سنتے ہیں یا لاکھوں سامعین ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر مجھے سنتے ہیں تو مجھے کبھی وہ حرارت اور جوش محسوس نہیں ہوتا جو اس وقت سو پچھہتر مسلمانوں اور چند متجسس حاضرین کے سامنے دکان کے بیرونی حصہ میں بوچڑ خانے سے آتی ہوئی سوروں کی آواز کے دوران محسوس ہوتا تھا۔ 
1953ءکی گرمیوں میں اللہ کی مہربانی سے مجھے ڈیٹرائٹ معبد نمبر ایک کا اسسٹنٹ منسٹر مقرر کر دیا گیا۔ ہر روز کام سے فارغ ہو کر میں جھونپڑ پٹی میں باصلاحیت سیاہ فاموں کو مسلمان بنانے کے لیے نکل پڑتا۔ میں اپنے سیاہ فام بہن بھائیوں کی نقوش دیکھتا جن کے ذہن سفید فام نے دھو ڈالے تھے۔ ان کے بال بھی میرے بالوں کی طرح لئی کے آتشیں محلول میں پک پک کر بے جان ہو کے گوروں کے بالوں کی طرح سیدھے ہو گئے تھے۔ وقتاً فوقتاً جناب ایلیا محمد کی تعلیمات کا مذاق اڑانے والوں سے بھی سابقہ پڑ جاتا تھا جب کوئی میرا ہم نسل مجھے کہتا ”تم نیگروز پاگل ہو گئے ہو، چلو اپنی شکل گم کرو“ تو میرا سر گھومنے لگتا۔ مجھے اس پر رحم بھی آتا اور غصہ بھی اور میں اگلے خطاب کا بے چینی سے موقع ڈھونڈنے لگا۔ (جاری ہے )
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -