دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے انسانوں نے اتنی زیادہ زبانیں کیوں اور کیسے ایجاد کرلیں؟ سائنسدانوں نے انتہائی دلچسپ انکشاف کردیا

دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے انسانوں نے اتنی زیادہ زبانیں کیوں اور ...
دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے انسانوں نے اتنی زیادہ زبانیں کیوں اور کیسے ایجاد کرلیں؟ سائنسدانوں نے انتہائی دلچسپ انکشاف کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال آتا ہو گا کہ کہ جب تمام انسانوں کا ارتقاءایک ہی جگہ سے ہوا ہے تو پھر مختلف علاقوں کے لوگ مختلف زبانیں کیوں بولتے ہیں؟ اسلامی نقطہ¿ نگاہ سے بھی دیکھیں تو تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور شاید ان تمام کو وہی ایک زبان بولنی چاہیے تھی جو حضرت آدمؑ کی تھی مگر آج ایک ہی ملک میں لوگ درجنوں مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ یونیورسٹی آف نیومیکسیکوکے ماہرین نے اس پہلو پر تحقیق کی ہے۔ ماہرین کی اس ٹیم نے دنیا کی 628زبانوں پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر انسانوں کامختلف ماحول اور آب و ہوا ان کی مختلف زبانوں کی وجہ ہو سکتی ہے۔

مزید جانئے: یورپ میں داخل ہونے کا شرمناک ترین طریقہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ماحول میں مختلف صوتی موافقت کے پیش نظر دنیا میں نئی زبانیں معرضِ وجود میں آئی ہیں۔ماہرین یہ نتیجہ اس مشاہدے سے اخذکیا ہے کہ جانوروں کی مختلف اقسام جب ایک ماحول سے دوسرے میں جاتی ہیں تو اپنی آواز کو زیادہ سے زیادہ دور پہنچانے کے لیے لہجہ تبدیل کرتے ہیں۔انسانی زبانوں کے حوالے سے ماہرین نے زبانوں کے ”مستقل حروف“ (Consonants)کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مستقل حروف ہائی فریکوئنسی ( بلند آوازدینے والے)حروف تصور کیے جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے جنگلوں میں رہنے والے افراد کی زبانوں میں یہ حروف انتہائی کم ہوتے ہیں کیونکہ یہ حروف نباتاتی زندگی(درخت، جھاڑیاں وغیرہ)سے ٹکرا کر منعکس ہو جاتے ہیں اور دور تک سنائی نہیں دیتے۔اس کے علاوہ زیادہ گرم درجہ حرارت والے علاقوں میں بھی واول حروف کی یہی صورتحال ہے کیونکہ درجہ حرارت کی زیادتی ہوا میں لہریں پیدا کر دیتی ہے جس سے یہ لفظ دور تک واضح سنائی نہیں دیتے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس