پاک چین اقتصادی راہداری کی سیکیورٹی کے لئے چینی تعاون

پاک چین اقتصادی راہداری کی سیکیورٹی کے لئے چینی تعاون

پاکستان اور چین نے اقتصادی راہداری منصوبے کی بروقت تکمیل اور اس کے تحفظ کے لئے بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا ہے، عوامی جمہوریہ چین کے سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل فان چینگ لونگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے بہترین دوست، فولادی تعلق والے بھائی اور سٹرٹیجک پارٹنر ہیں، چین انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے عزم اور استقامت کا معترف ہے اور مختلف شعبوں میں کامیاب آپریشنوں کو سراہتا ہے۔ چین کے خلاف برسرِ پیکار انتہا پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خلاف پاکستانی فوج کی کوششوں کو چین قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جنرل فان چینگ لونگ نے گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات قائم ہیں، وزیراعظم نے اِس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزمودہ دوستی، باہمی مضبوط اعتماد، تعاون عالمی اور علاقائی امور پر یکساں خیالات پر مبنی ہے۔ جنرل لونگ نے کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت سے نپٹنے کے بارے میں مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ چینی فوجی وفد نے جنرل لونگ کی قیادت میں جی ایچ کیو کا بھی دورہ کیا، یاد گار شہدا کو سلامی دی، پھول چڑھائے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی، جنرل راحیل شریف نے کہا پاکستان اور چین قریبی دوست ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی اور وقت کی تمام آزمائشوں پر پورے اُترنے والے تعلقات قائم ہیں، آنے والے وقت میں اِن تعلقات میں مزید وسعت آئے گی۔ جنرل فان چینگ لونگ نے جائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا، اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود سے ملاقات کی، جس میں جیو سٹرٹیجک صورتِ حال اور سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ چین کے دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل گوون یوفا نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی مستفید ہوں گے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے بعض حصوں پر تعمیراتی کام شروع ہے، تاہم اس اہم اقتصادی پراجیکٹ کی بروقت تکمیل اور راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے موقع پر جب46ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے تو چینی صدر کو اقتصادی راہداری کی تعمیر کرنے والے انجینئروں اور فنی ماہرین کی حفاظت کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور اِس مقصد کے لئے بنائی جانے والی خصوصی فورس سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا، جس کے متعلق چینی صدر نے اظہارِ مسرت کیا تھا، اب سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کے دورے کے موقع پر اس معاملے پر مزید اظہارِ خیال کیا گیا ہے اور چین نے بھی تعاون کی پیشکش کی ہے، تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں مُلک اس اقتصادی راہداری کی بروقت تکمیل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، چند ماہ قبل جنرل راحیل شریف نے بنفسِ نفیس راہداری کے ایک حصے کی تعمیر کا معائنہ کیا تھا اور کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کیا تھا، پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں کی خواہش ہے کہ یہ راہداری جلد مکمل ہو، کیونکہ اس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان اور چین استفادہ کریں گے، بلکہ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کو بھی فائدہ ہو گا، بھارت نے منصوبہ بندی کے تحت اِس راہداری کی تعمیر پر اعتراضات کئے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورۂ چین کے موقع پر یہ معاملہ اُٹھایا تھا جسے چینی صدر نے مسترد کر دیا۔ اب چینی جنرل نے راہداری کی تعمیر کی سیکیورٹی میں تعاون کی، جو پیشکش کی ہے وہ اس لحاظ سے بہت بروقت ہے کہ اِس منصوبے کے لئے سیکیورٹی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ یہ منصوبہ بلوچستان کے علاقوں میں جہاں جہاں سے گزرتا ہے، وہاں امنِ عامہ کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ بلوچستان میں سرگرم عمل مختلف گروہ اِس منصوبے کو جلبِ زر کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں اُن کا طریق کار یہ ہے کہ پراجیکٹ پر کام کرنے والے اہم افراد کو تاوان کے لئے اغوا کر لیا جائے۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) جو مغربی روٹ کے حصے کے طور پر870کلو میٹر روڈ پراجیکٹ تعمیر کر رہی ہے اب تک سیکیورٹی سے متعلق 200واقعات میں اپنے25کارکنوں کو گنوا چکی ہے۔ پاکستان آرمی دس ہزار افراد پر مشتمل خصوصی سیکیورٹی فورس تشکیل دے رہی ہے جو پاک چائنہ اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں کے سیکیورٹی امور کی نگرانی کرے گی۔

جہاں تک دفاعی امور میں دونوں مُلکوں کے باہمی تعاون کا تعلق ہے یہ اب عشروں پر محیط ہے، چین کے تعاون سے دفاعی پیداوار کے بہت سے منصوبے شروع کئے گئے ہیں خصوصاً جے ایف17تھنڈر طیارہ دونوں مُلکوں کے باہمی تعاون کی انتہائی خوشگوار علامت ہے۔اس طیارے کی وجہ سے پاکستان کا انحصار امریکی ایف16طیاروں پر کم ہو گیا ہے اور جوں جوں اِس طیارے کی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور پاک فضائیہ میں ان طیاروں کی تعداد بڑھتی جائے گی، توں توں یہ انحصار مزید کم ہوتا جائے گا۔ چین اس وقت پاکستان کے لئے جدید ترین آبدوزیں بھی بنا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر آٹھ آبدوزیں پاکستان کو فروخت کی جائیں گی جن کی ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کی جائے گی، ان چھ چینی آبدوزوں میں سے تین کراچی ڈاک یارڈ میں تعمیر کی جائیں گی۔ اس شعبے میں تعاون بڑھتا رہا تو ایک وقت وہ بھی آ سکتا ہے جب جے ایف17تھنڈر طیاروں کی طرح یہ پاکستان میں تیار ہوں گی۔ چین کے تعاون سے جو طیارے بنائے جا رہے ہیں طیاروں کی عالمی نمائشوں میں اُن میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور بہت سے مُلک یہ طیارے خریدنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں تیار کردہ مشاّق تربیتی طیاروں کی طلب بھی بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ اسلحے کی عالمی منڈی میں مقابلتاً بہت کم قیمت پر دستیاب ہیں، پاکستان دفاعی پیداوار کے اس شعبے میں اگر آگے بڑھے گا تو اس کی برآمدات کے نئے اُفق پیدا ہوں گے اور اس وقت پاکستان کو برآمدات کی کمی کا جو مسئلہ درپیش ہے وہ اِن ہائی ٹیک برآمدات کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ سستا خام مال اور معمولی قدرو قیمت کی اشیا کی بجائے جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل دفاعی مصنوعات کی فروخت سے پاکستان برآمدات کے ایک نئے تصور سے آشنا ہو گا۔چین اور پاکستان کے دفاعی تعاون کی وجہ سے پاکستان نہ صرف دفاعی لحاظ سے مضبوط ہُوا ہے، بلکہ اس کی وجہ سے روس کو بھی اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے۔ روس نے طویل عرصے تک پاکستان کو دفاعی سازو سامان کی فروخت پر پابندی لگائے رکھی، لیکن اب روس نے محسوس کیا ہے کہ یہ پابندی خود اُس کے حق میں نہیں، چنانچہ پاکستان کو جدید ترین ایم آئی35ہیلی کاپٹر فروخت کئے جا رہے ہیں اور آنے والے دِنوں میں پاکستان جدید طیارے بھی روس سے حاصل کر سکتا ہے، چین اور روس دونوں عالمی طاقتیں ہیں اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی وجہ سے تینوں ممالک کا ایک بڑا بلاک بھی تشکیل پا رہا ہے جو خطے میں امن و امان میں اہم کردار ادا کرے گا، اِس وقت ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو پروگرام کے مطابق مکمل کیا جائے، راہداری کی تکمیل علاقے میں مواصلات کے ایک نئے روشن تصور کی بنیاد بنے گی۔

مزید : اداریہ


loading...