روپیہ گر گیا، ڈالر بڑھ گیا!

روپیہ گر گیا، ڈالر بڑھ گیا!

معاصر کی خبر کے مطابق وزارتِ خزانہ نے بڑے فخر کے ساتھ بتایا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے سربراہ کی تو یہ کہتے ہوئے زبان نہیں سوکھتی، لیکن زرمبادلہ کے ان ذخائر کو قوم کیا کرے ۔اگر مُلک کے اندر روپیہ ڈالر کے مقابلے میں سستا ہوتا چلا جائے اور یہ107روپے تک پہنچ جائے۔کچھ عرصہ قبل جب ڈالر106روپے کا ہوا تو وزیراعظم نے اسے سابقہ شرح پر لانے کا کہا اور جب یہ96روپے تک پہنچ گیا تو یہ بھی بڑے فخر سے کہا گیا تھا کہ ڈار صاحب اس سے بھی نیچے لا سکتے ہیں۔اب ڈالر مسلسل مہنگا ہو رہا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا، درآمدی اشیاء تو مہنگی ہوئیں، مقامی صنعت اور تجارت بھی متاثر ہوئی، مہنگائی بڑھ گئی، عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محترم اسحاق ڈار نے برآمد کنندگان خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر کا یہ مطالبہ کہ روپے کی قیمت کم کی جائے مانا تو نہیں، لیکن تکنیکی طریقے سے روپے کی شرح کم ہونے دی ہے تاکہ برآمد کنندگان مطمئن ہو جائیں اور وہ بھی کہہ سکیں کہ ہم نے اُن کا مطالبہ نہیں مانا۔ یہ پالیسی عوامی مفادات کے مطابق نہیں، حکومت کو اس کا نقصان ہو گا کہ یہاں صرف برآمدکنندگان ہی نہیں ہیں، دوسرے کاروباری اور پھر عوام بھی ہیں جو متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم اب پھر مداخلت کریں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کم ہونا سود مند نہیں۔

مزید : اداریہ


loading...