بھارت، سلامتی کونسل کے لئے برطانوی حمایت!

بھارت، سلامتی کونسل کے لئے برطانوی حمایت!

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک سے زیادہ مرتبہ سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کر چکی، لیکن بھارت کی کوشش اب تک جاری ہے کہ توسیعی فارمولا منظور کراکے وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرلے۔ اس کے لئے بھارت کی ہر حکومت نے لابنگ کی اور دنیا کی سب سے بڑی (آبادی کے لحاظ سے) جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرکے اس رکنیت کے لئے حمایت حاصل کی۔ اب مودی حکومت نے جہاں تعصب اور اقلیتوں پر ظلم اور ہمسایہ ممالک سے پھڈے بازی شروع کر رکھی ہے وہاں بڑے زور و شور سے سلامتی کونسل کے لئے حمایت حاصل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دورۂ امریکہ میں اوباما سے حمایت لے لی، تو اب برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی کہہ دیا کہ برطانیہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت کرتا ہے۔امریکہ اور برطانیہ دونوں انسانی حقوق کے بڑے علمبردار بنتے ہیں اور بھارت دُنیا میں انسانی حقوق پامال کرنے میں اسرائیل سے بھی چند قدم آگے ہے اس کے باوجود ہر دو نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت کی۔ اس وقت سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ہیں، جن کو ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے۔ نئی تجویز کے مطابق یہ تعداد بڑھا کر سات کرنا مقصود ہے۔ پاکستان اس کے خلاف ہے اور لابنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔جنرل کونسل میں چھوٹے اور مسلمان دوست ممالک فیصلہ کن اکثریت رکھتے ہیں، اس لئے پاکستان کی لابنگ کام آ جاتی ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقل اراکین (بڑے ممالک) میں صرف چین پاکستان سے تعلق نبھا رہا ہے اور بھارت کی رکنیت کا مخالف ہے اور شاید یہی وجہ بھی ہے کہ جنرل کونسل میں حمایت حاصل نہیں ہو پاتی۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو ڈیوڈ کیمرون کی حمایت نے دُنیا بھر کے ممالک کو دکھ پہنچایا، جو ممالک جنرل اسمبلی میں مخالفت کرتے اور جنہوں نے اب تک یہ تجویز منظور نہیں ہونے دی ان کو افسوس ہوا ہو گا، اب یہ پاکستان کے دفتر خارجہ اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ اِس صورت حال کا بغور جائزہ لے اور اپنی لابنگ تیز کرے۔ برطانیہ سے بھی احتجاج کرنا چاہیے، پاکستان کو خطے میں اپنی اہمیت کا احساس کرکے اس حیثیت کو استعمال بھی کرنا ہوگا۔ *

مزید : اداریہ


loading...