بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا

  

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا

 جو چیرا تو اک قطرہ خوں نکلا

مرزا غالب نے یہ شعر شائد عمران خان کے لئے ہی کہا تھا، جو کرکٹ میں ایک مرتبہ ورلڈکپ جیتنے کے بعد 16برس سے سیاست کا ورلڈکپ جیتنے کے لئے شدید بے چینی کا شکار ہیں۔کرکٹ میں تو وہ اپنی ٹیم کی شکست کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا کرتے تھے، لیکن سیاست کے ایک میچ میں بھی وہ اپنی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سیاست میں وہ ہر میچ ہار رہے ہیں اور ہر میچ ہارنے کے بعد الزام امپائروں پر لگا رہے ہیں۔ ہارنے کے بعد وہ امپائروں سے استعفے طلب کرتے ہیں۔ وہ ہرسیاسی میچ ہارنے کے بعد سیاسی کرکٹ کے میدان کے باہر دھرنا دے دیتے ہیں۔ اگر وہ حقیقی کرکٹ کے اپنے دور میں ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے تو ورلڈ کرکٹ بورڈ انہیں ہمیشہ کے لئے نااہل قرار دے دیتا، لیکن پاکستان کا سیاسی میدان ہی ایسا ہے، جہاں نااہل تو اہل ہو جاتے ہیں اور اہل نااہل کر دیئے جاتے ہیں۔ اس بات میں شک نہیں کہ عمران خان اپنے زمانے کے بہت اچھے کھلاڑی تھے، لیکن سیاسی میدان میں وہ اچھے کھلاڑی ثابت نہیں ہوئے۔2013ء کے عام انتخابات میں انہوں نے صرف اتنی نشستیں حاصل کیں کہ وہ خیبرپختونخوا میں دوسری جماعتوں سے مل کر ایک مخلوط حکومت بنا سکے، لیکن انہوں نے صرف چار نشستوں پر انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کا اتنا شور مچایا کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہر رکن اسمبلی دھاندلی کے بل بوتے پر الیکشن جیتا ہے، حالانکہ جیتنے والوں میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔

انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا اور دارالحکومت کو طویل عرصے تک مفلوج رکھا، جس کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین اور راولپنڈی، اسلام آباد کے عوام کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ غریب لوگ جو اسلام آباد میں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے، فاقہ کشی کا شکار ہو گئے، لیکن پورے مُلک سے آئے ہوئے خوشحال گھرانوں کے چند ہزار مرد و خواتین دھرنے کی موج مستی میں مصروف رہے، پھر عمران خان کے مطالبے پر میاں نواز شریف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کر دیا، جس نے2013ء کے عام انتخابات کا مکمل جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں دھاندلی کا ذکر کرنے کی بجائے بعض نشستوں پر بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا ذکر کیا۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسی بے قاعدگیاں امیدواروں کی سطح پر کی جاتی ہیں اور یہ پاکستان میں ہونے والے ہر الیکشن کا خاصہ ہیں۔ حکومت نے درجنوں مرتبہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو پیشکش کی کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ایسے قوانین وضع کریں کہ آئندہ کسی الیکشن میں کوئی بے قاعدگی یا بے ضابطگی نہ ہو سکے، لیکن عمران خان اور ان کی پارٹی نے کبھی اس جمہوری پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

حالیہ بلدیاتی الیکشن سے پہلے بھی عمران خان دھاندلی کی پیشین گوئی کرتے رہے اور الیکشن کمیشن سے فوج کی نگرانی میں الیکشن کروانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ بکسوں کو حفاظت سے پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانے ، پھر واپس ریٹرننگ افسروں تک پہنچانے کا فرض فوج کو سونپ دیا۔ محاورتاً عمران خان نے چائے کی پیالی میں طوفان اُٹھا رکھا ہے، لیکن ووٹروں کا حقیقی طوفان ان سے بہت دور ہے۔عام انتخابات میں بھی اور اب بلدیاتی الیکشن میں بھی انہوں نے عوام کی نفسیات سے کھیلنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ اپنے شورو غوغا اور اپنے مخالفین کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ سے عوام کے شعور کو شکست نہیں دے سکے۔ پنجاب کی خاموش اکثریت نے اپنا ووٹ شریف برادر ان کے حق میں استعمال کر کے ان سے پنجاب چھیننے والوں کے خواب ملیا میٹ کر دیئے۔ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی، حالانکہ پنجاب میں لوگوں کا خیال تھا کہ سندھ میں قائم علی شاہ کی نااہل حکومت، ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر اور ہر کام میں سست روی کے باعث اس مرتبہ پیپلزپارٹی بلدیاتی الیکشن نہیں جیت سکے گی، لیکن ایک مرتبہ پھر سندھ کے عوام نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا۔

ابھی کراچی، حیدر آباد اور چند دیگر شہروں میں بلدیاتی الیکشن ہونا باقی ہیں۔ عمران خان کی حکمت عملی یہ بھی ہے کہ وہ مسلسل مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خلاف آئندہ عام انتخابات تک شدید مخالفانہ مہم جاری رکھیں تاکہ وہ حکومت کو بدنام کر کے آئندہ الیکشن میں اپنے لئے بہتر نتائج حاصل کر سکیں، لیکن پُلوں کے نیچے سے بہت ساپانی گزر چکا ہے اور اب عوام الزام برائے الزام کی سیاست کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریف برادران نے مدبرانہ سیاست کا آغاز کیا ہے 90ء کی دہائی کی سیاست کو یکسر فراموش کر دیا ہے اور اِسی مدبرانہ سیاست کے باعث وہ ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اب عوام کے سیاسی شعور میں پختگی آ چکی ہے، وہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر مُلک ترقی کرے گا تو خوشحالی آئے گی، لیکن عمران خان پاکستان کی سیاست کو واپس90ء کی دھائی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ نظریہ ان کی مقبولیت میں روز بروز کمی کا باعث بن رہا ہے۔

عمران خان کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کوئی انقلابی پروگرام بھی نہیں ہے، جو عوام کے دِلوں کی آواز بن سکے۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کے ارکان ملکی بھلائی کے لئے کوئی قابلِ قدر تجاویز سامنے نہیں لا سکے۔ وہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کردہ میگا پراجیکٹس سے بھی خوفزدہ ہیں، کیونکہ ایسے پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بڑھ جائیں گے اور ان کے ووٹ مزید کم ہو جائیں گے۔ عمران خان نے اپنے گرد ارب پتی لوگوں کو جمع کر رکھا ہے تاکہ وہ روپے کے بل بوتے پر ووٹ حاصل کر سکیں۔ ان کا یہ انداز ہمارے مُلک کی روایتی سیاست کا انداز ہے ،وہ ایک نئے پاکستان اور تبدیلی کی بات بھی کرتے ہیں،پھر اپنی جماعت میں ارب پتی لوٹے جمع کر کے وہ ان لوگوں کے ذریعے کیسے پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں۔عمران خان کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں ہے،جسے دیکھ کر لوگ یہ کہہ سکیں کہ یہ لیڈر اپنے ساتھیوں کی مدد سے نیا پاکستان تعمیر کر سکتا ہے اور مُلک میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی لا سکتا ہے۔ محض دعوؤں اور مخالفین پر جھوٹے الزامات لگا کر مُلک میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ لوگ حیران ہیں کہ عمران خان ابھی تک کوئی ایسا پروگرام پیش نہیں کر سکے، جس پر عمل درآمد کر کے کوئی نیا پاکستان تعمیر کیا جا سکے۔ *

مزید : کالم