واہ، شہر یارخان، فیصلہ سنا دیا اب تحقیقات؟

واہ، شہر یارخان، فیصلہ سنا دیا اب تحقیقات؟
واہ، شہر یارخان، فیصلہ سنا دیا اب تحقیقات؟

  

بزرگوں کا قول ہے کہ جب کسی کو پریشانیوں کا سامنا ہو تو اسے احتیاط کرنا چاہیے کہ اندھیرے میں تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔ اس لئے جب قسمت ساتھ نہ دے رہی ہو تو سیدھا کام بھی الٹا ہو جاتا ہے اور نصیب یاور ہوں تو مٹی بھی سونا بن جاتی ہے، زندگی کے عملی میدان میں یہی کیفیت ہوتی ہے۔ اس لئے انسان کو ہرلمحہ محتاط رہنا چاہیے، بلکہ عروج ہو تو زیادہ احتیاط کرنا چاہیے۔ یہ سب یوں کہنا پڑا کہ اکمل برادران کے تیز طرار بھائی عمر اکمل پھر ایک نئے چکر میں پڑ گئے اور ماشاء اللہ کرکٹ بورڈ والے کتنے سمارٹ ہیں کہ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک لمحہ میں نہ صرف عمر اکمل کو ٹی 20 ٹیم سے خارج کر دیا، بلکہ اس کا کنٹریکٹ معطل کرکے شوکاز نوٹس دے کر تحقیقات کا حکم دے دیا ۔

اس پر تو بات بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے عمر اکمل کی بات کرلیں جو ایسی خبروں میں رہے ہیں۔ ایک مرتبہ ٹریفک وارڈن سے جوڑ پڑا تو اس سپرسٹار کو حوالات کی ہوا کھانا پڑی اور پھر پورے خاندان کو سبق سکھایا گیا کہ عمر کے والد کو ٹریفک وارڈن سے معذرت کرنا پڑی۔ اب اس میں قصور کس کا اور کتنا تھا یہ فیصلہ اب تک نہیں ہوا حالانکہ اگر عمر اکمل کا قصور تھا تو اسے تھانے کی حوالات سے کچہری تک رلانے اور اس کے والد سے معافی منگوانے کی کیا تُک تھی؟ یہ بات ابھی تک سمجھ سے بالاتر ہے، اس کے بعد کرکٹ بورڈ کے دفتر میں گاڑی پارک کرنے پر تنازعہ ہو گیا اور شکار عمر اکمل ہی تھے۔ یہاں بھی انہی کو سرزنش کا سامنا ہوا اور اب عمر اکمل کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام ہے کہ وہ اور اس کے دوست حیدرآباد کے ایک بنگلہ سے گرفتار کئے گئے جہاں انہوں نے ڈانس پارٹی میں حصہ لیا، ابتدائی خبر تو یہ ہے کہ پولیس نے گرفتاری کے بعد بورڈ حکام کو اطلاع دی اور حکام کی سفارش پر ان کو چھوڑ دیا گیا جبکہ حیدرآباد سے یہ اطلاع بھی موصول ہوئی کہ میزبانوں نے خود معاملہ رفع دفع کرا دیا،عمر اکمل کا جواب ہے کہ وہ کوچ سے اجازت لے کر کھانے کی دعوت پر آئے ان کے ساتھ اور بھی کھلاڑی تھے وہ کھانا کھا کر بروقت واپس آ گئے تھے وہ انصاف کے منتظر ہیں؟

عمر اکمل جس انصاف کے منتظر اور یہ کہتے ہیں کہ بورڈ ان کی حمایت کرے گا تو بورڈ نے ان کے ساتھ انصاف بھی کر دیا اور حمائت بھی کی کہ اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ تحقیقات کا حکم دیا اور تحقیقات کی تکمیل سے قبل ان کا بورڈ کے ساتھ کنٹریکٹ معطل کرکے ان کو ٹی 20 ٹیم سے خارج کر دیا۔ اب تحقیقات کیسی اور اگر وہ تحقیقات میں بے قصور ثابت ہوئے تو بورڈ نے جو سزا دے دی اس کا ازالہ کیسے ہوگا؟ ویسے سوئی ناردرن گیس کی کرکٹ ٹیم کے کوچ باسط علی نے بورڈ کے چیئرمین محترم شہریار خان کو بتایا ہے کہ عمر اکمل نے ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔

اکمل برادران کرکٹ کے میدان میں شہسوار ہیں، ان بھائیوں کو بہت عروج ملا ، کامران اکمل کے ریکارڈ میں بہت کچھ ہے اور عمر اکمل کو بہت ہی ٹیلنیٹڈ مانا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے سپرسٹار اس کی تعریف کر چکے ہیں، ان کا تیسرا بھائی بھی اچھا وکٹ کیپر اور بلے باز ہے۔ کامران اور عمر نے تو بہت عروج دیکھا ہے لیکن پھر ان پر زوال آیا تو یہ احساس ہونے لگا کہ ان کو کسی کی بددعا لگ گئی ہے، اگرچہ بات وسط اور جنوب کی ہے کہ جنوب والے طاقتور اور بااثر ہیں اور ہر مرتبہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حمایت پر کمربستہ رہتے ہیں، اب ذرا عمر اکمل کی بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ ایک نچلے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔قدرت نے کرکٹ کی بدولت ان بھائیوں کو شہرت اور عروج دیا جو غالباً ان سے سنبھالا نہیں گیا کہ ان کی حمایت پر بڑے گھرانے نہیں ہیں اور یہ بات عمر اکمل کی سمجھ میں نہیں آتی وہ اب بھی غصیلا اور غلطیوں کا ارتکاب کرنے والا لڑکا ہے۔کامران اکمل سے خراب فارم کی وجہ سے جگہ خالی کرائی گئی، اس کی جگہ عمر اکمل پر دہرا بوجھ ڈالا گیا۔ پہلے اسے ٹیسٹ کرکٹ سے دور کیا گیا پھر ایک روزہ میچوں میں وکٹ کیپر کی اضافی ذمہ داری کے ساتھ شامل کیا گیا۔ ساتویں اور آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرائی گئی اور خراب کارکردگی کا کہہ کر ایک روزہ میچوں سے باہر کرکے اسے ٹی 20تک محدود کر دیا گیا اور اب وہاں سے بھی چھٹی۔

عمر اکمل کے خلاف فوری کارروائی اور اسے ٹیم سے ڈراپ کرنے پر اگر کسی کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی تو وہ چیف کوچ وقار یونس ہوں گے جو عمر اکمل اور احمد شہزاد کے خلاف اس لئے ہیں کہ مبینہ طور پر ان دونوں نے وقار یونس کی آمریت کے سامنے زبان کھولنے کی کوشش کی تھی۔عمر اکمل کو نچلے نمبروں پر بھیج کر اس سے بہتر پرفارمنس کی توقع کی گئی اور پھر اسے باہر نکالا گیا اب آخری، انٹرنیشنل گیم سے بھی فارغ ہو چکا اور شاید ہی واپس ہو۔

عمر اکمل ہمارے گگلی باؤلر عبدالقادر کا داماد بھی ہے اور اب ایک بچے کا باپ ہے۔ شاید عبدالقادر بھی اسے سمجھانے یا اس کی حمایت سے معذور ہے کہ خود اسے کرکٹ بورڈ سے ایسے نکالا گیا تھا جیسے دودھ سے مکھی نکالی جاتی ہے۔ وہ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے کہ وہاں سے ان کو فارغ کر دیا گیا کہ کرکٹ بورڈ پر مافیا قابض ہے اس کا زندہ ثبوت انتخاب عالم اور ہارون رشید ہیں جو سخت خراب موسم کے باوجود بھی بورڈ کی عنایت سے محروم نہیں ہوئے۔ اب یہی دیکھ لیں ہارون چیف سلیکٹر ہیں تو انتخاب عالم کرکٹ ٹیم کے منیجر ہو گئے ہیں، جہاں تک ہمارے شہر یار خان کا تعلق ہے تو ان کی نوابی شان ہے۔ یونس خان بیچ منجھدار میں اپنی انا کی تسکین کے بعد ٹیم کو چھوڑ دے اور بیان بازی بھی کرے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ سعید اجمل اگر مجبور ہو کر حقیقت کے مطابق لب کشائی کرلے تو اس کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا جاتا ہے اور اب عمر اکمل کے ساتھ انصاف ہو گیا ہے ، بورڈ والوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ وہ مستقبل کی ٹیم بنا رہے ہیں اور وقار یونس کھلاڑیوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ یقین مانئے اب کامران اکمل، عمر اکمل اور احمد شہزاد کی ٹیم میں کوئی گنجائش نہیں اور ان کی جگہ نہیں بنتی، ان کے لئے بہتر ہجرت ہے وہ آسٹریلیا یا انگلینڈ جا کر کاؤنٹی اور پھر وہاں کی قومی ٹیم کے لئے کوالیفائی کرسکتے ہیں، سعید اجمل کا ذکر یوں نہیں کیا کہ وہ اکیڈیمی کا روگ پال چکے اگرچہ وہ بھی ان کے گلے آ گئی ہے۔ بہرحال ان چار حضرات کا قومی کرکٹ میں اب کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ان کو اپنا برا بھلا سوچ لینا چاہیے کہ نچلے متوسط طبقے کے حضرات کو عروج میں بہت زیادہ سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے محترم شہریارخان کو داد دیں کہ بھارت اور آئی سی سی کے سامنے ۔۔۔بکری ، اپنوں کے لئے شیر؟ *

مزید : کالم