22سو فیکٹریوں کو شہر بدر کرنیکا منصوبہ التوا کا شکار ،14محکموں کی رپورٹ منظر عام پر آگئی

22سو فیکٹریوں کو شہر بدر کرنیکا منصوبہ التوا کا شکار ،14محکموں کی رپورٹ منظر ...

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت سے شہری زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی 22سو فیکٹرویوں کو شہر بدر کرنے کا منصوبہ لٹک گیا ہے معاملہ التوا میں چلے جانے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے منگوائی گئی 14محکموں سے سروے رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے آغاز میں شہر بھر میں سات ہزار فیکٹریوں کو خطرناک قرار دے کر شہر سے باہر منتقل کرنے کی رپورٹ تیار کی گئی جن کی تعداد کم ہوتے ہوتے 22 سو رہ گئی ہے ۔بعد ازاں ان میں سے 50فیصد میں ایمرجنسی ایگزٹ کا نام ہی نہیں شہر میں ایسے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو بعد ازاں واپس لے لیے گئے ۔پہلے مرحلے میں ان میں سے اندرون شہر میں واقع کپڑوں کی ڈائنگ کے لیے لگائے گئے 52بوائلر ز کو بھی نکالا جانا تھا جو جوں کے توں ہیں اس کے ساتھ ساتھ تیزاب بنانے کے 87کارخونوں کی نشاندہی کی گئی جن میں 52تیزاب کے گودام تھے انہیں بھی نہیں نکالا جا سکا قصور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی کپڑے کی ڈائنگ کی بڑی فیکٹری کو رہائشی آبادی سے باہر نکالنے کے احکامات جاری کیے گئے اس فیکٹری میں 12بڑے بوائلرز لگائے گئے ہیں اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا اس طرح کیبل اور کاپر وائرنگ کے 187یونٹوں کو بھی شہر سے باہر منتقل کرنے کی رپورٹ تیار کی گئی وہ بھی جوں کے توں قائم ہیں لوہے کی 28فیکٹریاں جو واہگہ ٹاؤن ،راوی ٹاؤن اور شالامار ٹاؤن کی حدود میں ہیں ان کی بھی شہر بدری کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں مگر اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا ۔ذرائع کے مطابق رہائشی آبادیوں میں درجنوں ڈینٹنگ پینٹنگ کی ورکشاپس کو شہر سے نکالنے کے احکامات جاری کیے گئے مگر محکمہ ماحولیات کے یونس زاہد نامی افسر کی ملی بھگت سے یہ بھی قائم دائم ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے ان خطرناک ترین قرار دی گئی صرف 17فیکٹریوں کو شہر بدر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں بقایا 2183فیکٹریاں آج بھی شہر کی آبادی کے رہائشیوں کے لیے خطرے کی علامت بن چکی ہیں جنہیں ٹاؤنوں ،محکمہ لیبر اور محکمہ انڈسٹری اور ماحولیات کی ملی بھگت سے بچالیا گیا ہے اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے فیکٹریوں کی شہر بدری کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے ابتدائی طور پر 17فیکٹریوں کو 24گھنٹے میں شہر بدر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں مرحلہ وار خطرناک قرار دی گئی تمام فیکٹریون کو شہر بدر کر دیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...