بہار کی مہا بھارت

بہار کی مہا بھارت
بہار کی مہا بھارت

  


بھارتی ریا ست بہار کے انتخابات پر پا کستان کے پرنٹ اور ا لیکٹرانک میڈیا نے بھر پور توجہ دی۔ حالیہ تاریخ میں شاہد ہی کسی بھارتی ریاست کے انتخابات کو پاکستانی میڈیا میں اتنی توجہ ملی ہو۔ 9نومبر کے روزایک بھی پا کستانی ، اردو یا انگریزی اخبا ر ایسا نہیں تھا کہ جس نے بہا ر میں بی جے پی کی شکست کی خبر کو سب سے بڑی سرخی کے طور پر پیش نہ کیا ہو۔پا کستانی میڈیا کے بڑے حصے نے بہا رمیں بی جے پی کی شکست کیلئے مودی کی انتہا پسند ہندو نوازاور مسلم اور پا کستان مخالف پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیا۔امریکی اور برطانوی اخبا رات میں بھی ایسے تبصرے سامنے آئے کہ بہا رمیں مودی کی شکست ہندو انتہا پسندی کی شکست ہے۔اس امر میں کو ئی شبہ نہیں کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے آر ایس ایس کی مدد سے ’’ہندوتوا ‘‘کے کا رڈ کا بھر پور استعمال کیا۔ مو دی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر ہو نے والے مظالم پر معذرت خوا ہا نہ رویہ اپنا نے کی بجا ئے ان پر فخر کیا گیا۔گائے کشی کے ایشو کو بھر پور طریقے سے اٹھا یا گیا، پاکستان کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کی گئی۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے یہاں تک کہا کہ اگر بہا ر میں بی جے پی ہا ر گئی تو پا کستان میں خو شی سے پٹا خے چھوڑے جائیں گے۔ یہ درست ہے کہ بہا ری ووٹوں کی اکثریت ’’ ہندو توا ‘‘کے نعروں سے رام نہ ہو ئی،مگر بنیا دی سوال یہ ہے کہ بہا ر میں بی جے پی کی شکست اور گرینڈ الا ئنس (جس میں نتیش کما ر کی جنتا دل یو نا ئیٹڈ، لا لو پر شاد یادیوکی راشٹریہ جنتا دل اور کا نگرس شامل ہیں) کی جیت میں کیا سب سے بڑا عامل یہی رہا کہ ہندو انتہا پسندی کو شکست ہو ئی اور سیکولر ازم فتح یاب ہو گیا؟کیا بہا ر کے انتخابات محض ’’ہند وتوا‘‘ اور سیکو لر ازم کے مابین ایک طرح کی جنگ تھی کہ جس میں سیکولر ازم فتح یا ب ہوا؟ ایسا نہیں ہے۔ بہا ر کے ریا ستی انتخابات میں انتہا پسندی بمقابلہ سیکولرازم ایک عامل تو ضرور تھا، مگر یہ نہ تو سب سے اہم عامل تھا اور نہ ہی سب سے زیادہ حاوی ۔

ذات پا ت کی سیا ست نے ویسے تو تقریبا پو رے بھا رت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر بہا ر کا شما ر ان ریاستوں میں ہو تا ہے جہا ں پر سیا سی شعور کے تعین میں ’’ذات‘‘ ہی سب سے زیا دہ اہم کر دار ادا کرتی ہے۔ سیاست میں ذات پا ت کی اہمیت ہی کے باعث بہا ر میں علاقائی سطح پر ذات کو ہی بنیا د بنا کر سیا سی جما عتوں کو وجو د میں لا یا جا تاہے۔بہار میں دیگر پسما ندہ طبقات کی تعداد 51فیصد جس میں 14فیصد یا دیو، 4فیصد کرمی، 8فیصد کو ئری ہیں۔انتہا ئی پسما ندہ طبقات کی تعداد 24فیصد،مہا دلت10فیصد،دلت 6فیصد،اونچی ذات کی تعداد 15فیصد،قبا ئلی آبا دی کی تعداد1.3فیصد ہے، جبکہ بہا رکی دیگر آبا دیاں مسلمانوں، عیسائیوں، جین اور بدھ مت کے پیروکا روں اور سکھوں پر مشتمل ہیں۔بہا ر کی سیاست پر ذرا سی نظر رکھنے ولاکو ئی بھی شخص جا نتا ہے کہ بہا ر کی سیا ست اور خاص طور پر انتخابات میں ذات کے پہلو کو ہی مد نظر رکھا جا تا ہے۔ بہا ر کے حالیہ ریا ستی انتخابات کی مہم کا ذرا سا مشا ہدہ کرنے پر معلوم ہو جا ئے گا کہ بہا ر کی دیگر علاقائی سیا سی جما عتوں کی طرح ان انتخابات میں کامیابی حاصل کر نے والے نتیش کما ر اور لالو پر شاد یا دیو کی سیا سی جماعتوں کی سیاست کا محور بھی پسماندہ طبقات، دلتوں، مہا دلتوں ،اور انتہا ئی پسما ندہ طبقات کی سیا ست کے ہی گرد گھومتا ہے۔ انہیں ذاتوں کی سیاست کو بنیاد بنا کر یہ سیاسی جماعتیں مرکزی اور ریاستی انتخا بات میں حصہ لیتی ہیں۔بی جے پی جو ذات پات کی سیا ست پر شدید تنقید کر تی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ واحد ایسی سیاسی جما عت ہے کہ جس کا ذات پات کی سیا ست سے کو ئی تعلق نہیں ۔حقیقت میں بی جے پی بھی بہا ر جیسی ریا ست میں سیاسی حما یت حاصل کرنے کے لئے انہیں ذاتوں کی حما یت پر انحصار کر تی آئی ہے۔ جیسے گزشتہ سال 2014ء کے مرکز ی انتخا با ت میں بی جے پی اتحاد یعنی این ڈی اے نے لوک سبھا میں بہا ر کی کل 40نشستوں میں سے 31نشستوں کو حا صل کیا۔

بہار میں زبر دست کا میا بی حاصل کرنے کے لئے کیا بی جے پی نے مودی کے کرشمے پر ہی انحصار کیا تھا؟ہر گز نہیں۔ مرکزی انتخابا ت میں بی جے پی نے دلت رہنما رام ولاس پاسوان کی ’’لوک جن شکتی پا رٹی‘‘ اور ’’راشٹریہ لوک سمتا پا رٹی‘‘ کے اتحا د پر انحصا ر کیا ۔تاکہ بہار کی دیگر پسما ندہ اقوام، اور دلتوں کی حما یت حاصل کی جا سکے۔اس مرتبہ تو بی جے پی نے دلتوں اور مہا دلتوں کی سیاست کے علمبردار اور نتیش کمار کے ساتھ بے وفائی کرنے والے جتن رام مانجھی کی جماعت ’’ہندوستانی عوام مورچہ‘‘ کے ساتھ بھی اتحاد کیا تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زیادہ سے زیا دہ ووٹ حاصل کئے جا سکیں۔اب یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر بی جے پی نے بہا ر میں ذات پا ت کی سیا ست کرنے والی سیا سی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا تو اس کے با وجود وہ اکثریت، یعنی پسما ندہ ذاتوں کے ووٹ حاصل کرنے میں نا کام کیوں رہی اور نتیش کمار اور لالو پرشاد کی جما عتیں پسماندہ ذاتوں کی بھرپور اکثریت حاصل کر نے میں کامیاب کیوں ہو پائیں؟ دراصل پسماندہ ذاتوں کی سیاست کرنے والی جماعتوں سے اتحاد کر نے کے با وجود بی جے پی نے ریاستی انتخابات کی مہم میں ایسی سیا سی غلطیاں کیں کہ جن کا اسے خمیا زہ بھگتنا پڑا۔سب سے پہلے تو بی جے پی بہا ر کی مقامی قیا دت پر انحصا ر کرنے کی بجا ئے بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور سب سے بڑھ کر مودی پر انحصار کرتی رہی۔ وزیر اعظم ہو نے کے با وجود مو دی نے بہار میں 30کے لگ بھگ جلسے کئے۔ ان انتخابات میں امیت شاہ اپنی شخصیت کو اجاگر کر تے رہے۔ حتی ٰکہ انتخابی بینرز پر بھی مقامی رہنما وں کی بجا ئے صرف مو دی اور امیت شاہ کی ہی تصا ویر ہو تیں۔ مودی اور امیت شاہ دونوں کا تعلق بہا ر سے نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ نتیش کمار اور لا لو پرشاد نے اس کا بھر پور فا ئدہ اٹھایا اور ان انتخابات کو ’’بہاری‘‘ اور ’’باہری‘‘ کی لڑائی قرار دے دیا۔ اسی طرح آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کا یہ بیان بہار میں بی جے پی کے لئے سیا سی مو ت کا پروانہ ثابت ہوا کہ جس میں مو ہن بھگوت نے کہا کہ پسما ندہ ذاتوں کے لئے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں کوٹہ پر نظرثانی ہونی چاہئے ۔

سابق وزیراعظم وی پی سنگھ نے 1990ء میں پسماندہ ذاتوں کے دباؤ کے با عث منڈل کمیشن رپورٹ (پسماندہ ذاتوں کے لئے تعلیمی اداروں اور ملا زمتوں میں مخصوص کو ٹہ کا نفاذ)پر عمل کروانے کا اعلان کیا ۔ اب آر ایس ایس نے اس پر نظر ثا نی کی با ت کی تو پسما ندہ ذاتوں کے مہا گڑھ بہا ر کے دلتوں اور مہادلتوں نے متحد ہو کر پسما ندہ ذاتوں کے لئے مخصوص کو ٹے کی علمبر دار لا لو پرشاد یا دیو اور نتیش کمار کی جما عتوں کو ووٹ دیئے۔ یوں بی جے پی بڑے پیما نے پر ان دلت ووٹوں سے محروم رہی۔ اسی طر ح مودی نے جلسوں میں پسما ندہ ذاتوں کے لئے مخصوص کو ٹے کی مخالفت میں کہا کہ اس کوٹے سے دلتوں کو نہیں، بلکہ کسی ’’ اور‘‘ کو فائدہ ہو تا ہے ظاہر ہے بہا ر کے مسلمانوں نے اس ’’ اور‘‘ کو سمجھنے میں غلطی نہیں کی اور پو ری طرح متحد ہو کر گرینڈ الائنس کو ووٹ ڈالا۔ اسی طرح بی جے پی کے تجویز کردہ land acquisition قانون (جس کے تحت کسانوں کو آسانی سے ان کی زمنیوں سے محروم کر کے یہ زمینیں سرما یہ کا ری کے مقاصد کے لئے حاصل کی جا سکیں گی) اس منصوبے کے خلاف بہار کے کسانوں کی اکثریت کے ووٹ بھی گرینڈ الائنس کو ملے جو اس کسان دشمن قانون کے خلاف بات کرتی رہی۔ ریا ستی انتخابات سے چند روز پہلے دالیں مہنگی ہونے کے اثرات سے بھی بی جے پی اپنے آپ کو نہ بچا سکی ۔ دالیں کئی گنا مہنگی ہو نے کے بعد ایسے احتجا جی جلوس نکا لے گئے جن پر درج تھا کہ ’’دالیں مہنگی اور گائے کا گو شت سستا ہے اب ہم کیا کھائیں‘‘۔ مو دی کے گجرات ما ڈل کے دعووں کا بھی بہاریوں پر اس لئے اثر نہیں ہوا کہ کئی غیر جا نبدار سرویز ثابت کرتے ہیں کہ مودی کے گجرات کا وزیراعلیٰ بننے سے پہلے بھی گجرات کا جی ڈی پی ترقی کر رہا تھا، مگر جب نتیش کمار 2005ء میں بہار کے وزیراعلیٰ بنے تو اس وقت بہا ر میں پسماندگی، معاشی بد حالی کر پشن اور غنڈوں کا راج تھا۔ نتیش کمار اس صورت حال میں خاصی بہتری لے کر آئے۔اس لئے بہاریوں کے لئے نتیش کا ’’بہا ر ماڈل‘‘ مو دی کے گجرات ماڈل کے مقابلے میں زیا دہ پُر کشش رہا۔

بہا ر کے انتخا بی نتا ئج کا مودی سرکا ر پر بہت منفی اثر ہو گا ۔ آنے والے دو برسوں میں یو پی، مغربی بنگا ل اور تامل ناڈو جیسی انتہا ئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں۔بی جے پی پہلے ہی راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہو نے کے با عث کئی قوانین کو منظور نہیں کروا پا رہی۔ ریاستی انتخابات میں مزید شکستوں سے یہ راجیہ سبھا میں مزید کمزور ہو جا ئے گی۔مودی اپنا ایجنڈا پو را کر وانے میں نا کام رہیں گے، جس کا انہیں مزید سیا سی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔بی جے پی کے اندر مو دی کی مخالفت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے ۔ بہا ر انتخا بات کے بعد لال کشن ایڈوانی ، مرلی منو ہر جو شی اور شترو گھن سنہا جیسے بڑے رہنماؤں کی مو دی پر تنقید اس پھوٹ کا پیش خیمہ ثا بت ہو سکتی ہے۔ *

مزید : کالم


loading...