پبلک مقامات پلاٹوں میں تبدیل کرنے پر سمال انڈسٹریز ہاؤسنگ سو سائٹی کیخلاف تحقیقات کا آغاز

پبلک مقامات پلاٹوں میں تبدیل کرنے پر سمال انڈسٹریز ہاؤسنگ سو سائٹی کیخلاف ...

لاہور(اپنے خبر نگار سے) نیب نے پنجاب سمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی کارپوریشن میں قبرستان ‘ گرین بیلٹ ‘ سکول ‘ ڈسپنسری اور دیگر پبلک مقامات اپنے عزیزوں کے نام کروائے اور ہاؤسنگ سوسائٹی کی متعدد فائلیں غائب کرنے پر انکوائری کرتے ہوئے سابق صدر سعید احمد عثمانی کو طلب کرکے انکوائری شروع کرتے ہوئے اس کو اپنی جائیداد کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کیلئے کہا گیا ہے جبکہ نیب پنجاب نے ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹری ہاؤسنگ کارپوریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سعید احمد عثمانی کا سروس ریکارڈ،اثاثہ جات اور اس کی جائیداد کی تفصیلات طلب کرلی ہیں،اس سلسلہ میں نیب نے12نومبر کو سمال انڈسٹری کے ایم ڈی بلال سے بھی معاملے پر بات چیت کی،اس کے علاوہ نیب نے پنجاب سمال انڈسٹریز کے ڈائریکٹر لیگل سے بھی بات کی،میجر عتیق نے الزام لگایا کہ پنجاب سمال انڈسٹریز ہاؤسنگ سوسائٹی کی عوامی مقامات کو پلاٹوں میں تبدیل کرنے میں سوسائٹی کے رجسٹرار جاوید اقبال بخاری اور ڈپٹی رجسٹر ار سیٹھ اقبال بھی سعید احمد عثمانی کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب سمال انڈسٹری‘ ہاؤسنگ سوسائٹی کارپوریشن کے رہائشی میجر(ر) عتیق الرحمان نے نیب میں درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر سعید احمد عثمانی 1987میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں بطور الیکٹریشن بھرتی ہوا اور تین چار سال کے بعد آٹھویں سکیل پر ترقی کرگیا2008 میں کروڑ پتی بن گیا اور ایک کروڑ مالیت کا گھر تعمیر کیا اور ملی بھگت کرکے سوسائٹی کا صدر بن گیا اور اس نے اپنے ایک عزیز ظہیر بابر جو کہ کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہے اسی کو بطور آفس بوائے رکھاجس کو بعد ازاں اس کو سائٹی کا کلرک بنا دیا اورقبضہ کرتے ہوئے متعدد فائلیں غائب کرپلاٹ اپنے دوستوں اور عزیزوں کے نام کروائے سعید عثمانی نے ایف بلاک کے پارک کو 5 پلاٹوں میں تقسیم کیا اور اپنے ساتھ ساتھ ظہیر بابر کے اہل خانہ کے نام کروائے ان پلاٹوں کے نمبرF/26/1 سے ایف 26/5 تک ہیں اور ان پلاٹوں کا سوسائٹی کی ویب سائٹ پر کوئی تذکرہ نہیں ہے اس طرح ڈی بلاک پارک پر68 سے لیکر70 تک کے پلاٹ اپنے عزیزوں میں تقسیم کردیئے گئے۔ڈی 71 سابق سیکرٹری میجر(ر) ذوالفقار کو اس کی خدمات کی وجہ سے دیا گیا جس کو بعد ازاں غیر قانونی طور پر سعید احمد عثمانی کی بہن سمینہ عثمانی کے نام ٹرانسفر کردیا گیا بی بلاک کے مین پارک کے دونوں سائیڈ کو کمرشل ایریا میں تبدیل کرتے ہوئے غیر قانونی طور سیل کردیا گیا جبکہ گریڈ اسٹیشن کی جگہ کو بھی ختم کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر اپنے من پسند لوگوں کو فروخت کردیا گیا بی بلاک کی گرین بیلٹ کو کمرشل میں تبدیل کرکے فروخت کردیا گیا جبکہ اے بلاک میں موجودڈسپنسری اور بچوں کے سکول پر قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا اور ساتھ ساتھ سوسائٹی کے نقشہ میں موجود قبرستان کی جگہ پر پلاٹ بنا کر فروخت کردیئے گئے میجر(ر) عتیق الرحمان نے درخواست میں الزام لگایا گیا کہ سعید احمد عثمانی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے تھے انہوں نے کرپشن کرتے ہوئے 5 گاڑیاں‘علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک میں40 دکانوں پر مشتمل مارکیٹ بنائی کریم بلاک میں2 گھر، المدینہ شادی ہال ‘2 گھر سمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی اور 63 مرلے کا ایک ڈیرہ بنایا ہوا ہے نیب نے میجر(ر) عتیق الرحمان کی

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...