شیخ الحدیث ڈاکٹر مولانا سید شیر علی شاہؒ کا سفرِ آخرت

شیخ الحدیث ڈاکٹر مولانا سید شیر علی شاہؒ کا سفرِ آخرت

اللہ تعالیٰ کی ذات خالق کائنات ہے اس کا نظام ایسا ہے، جس کے مطابق ہر چیز فنا ہو جاتی ہے اور اس میں نہ تو مخلوق کی مداخلت کارگر ہو سکتی ہے اور نہ ہی خالق کائنات کے فیصلے میں کوئی تغیر و تبدل ہو سکتا ہے،نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۂ مُلک میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے موت و حیات کا سلسلہ اس لئے قائم کیا ہے تاکہ انسان کے عمل و کردار کی حقیقت معلوم کی جائے کہ ان میں سے کون اچھے اور احسن کام کرتا ہے اور کون بدعملی و بدکرداری کا مظاہرہ کرتا ہے۔۔۔اس نظامِ قدرت کے تحت اس کائنات کے بے شمار انسان اللہ کے دیئے گئے وقت کے مطابق سفر اختیار کر رہے ہیں انہی مسافرین آخرت میں سے پاکستان کی ایک جلیل القدر اور منفردانہ خصویات و کمالات کی حامل شخصیت حضرت شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ (جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک) کی ذات گرامی تھی، ڈاکٹر صاحب مختلف علوم و فنون میں زبردست دسترس اور مہارت کے حامل تھے۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک(صوبہ خیبر پختونخوا) کے منصبِ شیخ الحدیث پر فائز ہونا بذات خود بڑا اعزاز ہے، کیونکہ حقانی یونیورسٹی اسلامی علوم و معارف کی ایک منفرد اور مثالی تعلیم گاہ ہے، اس چشمۂ فہم و ادراک سے سیراب ہونے والے صرف صوبہ پختونخوا سے ہی متعلق نہیں ہیں، بلکہ اس کا دائرہ فیض رساں مملکت افغانستان وایران تک وسیع ہے۔ آپ نے ایران میں ختمِ بخاری شریف کے طلباء سے فارسی میں خطاب کیا تو سامعین ان کے تجرِ علمی سے بے حد متاثر ہوئے، چنانچہ ان کا ایران کے حلقہ اہل سنت و الجماعت کے ساتھ گہرا تعلقِ خاطر تھا۔

ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ کئی بلند پایہ کتب کے مصنّف اور ان کے کئی تحقیقی مقالات تھے، نیز مختلف دینی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں خصوصاً دینی مدارس کے مہتمم حضرات کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے اور ان کی روح افروز عقیدت و احترام کا مرکز تھے۔مخدوم و محترم شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ کی زیارت اور شرف ملاقات کا راقم الحروف فقیر کو چند مرتبہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ایک مرتبہ اس فقیر کے درویش خانے پر رونق افروز ہوئے تو بڑی فکر مندی اور دِل سوزی کے ساتھ علمائے حق کی باہمی کشمکش اور دھڑے بندی کے نقصانات کی نشاندہی کی۔ دورانِ گفتگو اس فقیر نے خصوصی طور سے علمائے کرام کے گروپوں کے ساتھ ختمِ نبوت کے مقدس نام سے کئی گروپوں اور تنظیموں کا نام لے کر تذکرہ کیا تو ڈاکٹر صاحب نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ حقانیہ کے مہتمم مولانا سمیع الحق صاحب اپنے مزاج اور رجحانِ طبع کے اعتبار سے لچک دار پہلو رکھتے ہیں، سنجیدہ اور صلح جُو ہیں، لیکن دوسری جانب کے رہنما سیماب فطرت اور غیر مستقل مزاج ہیں، ان حضرات کے مابین اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار کرنے کی کوشش جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ پھر شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ نے سرد آہ بھرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ختمِ نبوت کے نام پر یہ جدا گانہ تنظیمیں درحقیقت پاکستان میں قادیانیت کے لئے راہ ہموار کر رہی ہیں اور اس فتنے کے فروغ کا افسوسناک ذریعہ بن رہی ہیں۔

اس خلفشار اور کشمکش کے اسباب و محرکات پر نگاہ ڈالتا ہوں تو ان میں کوئی نظریاتی خرابی یا عقیدے میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں پاتا، ان کے عقائد صحیح ہیں، ان کا ہدف بھی ایک ہی ’’فتنہ قادیانیہ‘‘ ہے، بایں ہمہ جُدا جُدا ختمِ نبوت کی تنظیمیں سرگرمِ عمل دیکھ کر میری تو نیند کافور ہو جاتی ہے اور دِل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی ایسا ’’رجل رشید‘‘ موجود نہیں ہے جو ختمِ نبوت کے مقدس مشن پر باہمی نزاع کی فضا ختم کرا کے وحدت و اتفاق کے حلقے میں لا سکے اور بلا وجہ گروپ بازی کے شیطانی ہتھکنڈوں سے بچا کر اُمت مسلمہ کا حضور خاتم الانبیاء و مرسلینؐ کی ناموس کا تحفظ کرانے کی سعادت پائے‘‘۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’مذہبی جماعتوں کو متحد کرنے کے سلسلے میں جو بھی کوشش کرے گا، مَیں اس کے ساتھ ہوں۔ یہ کوشش موجبِ خیر و برکت اور ذریعۂ نجات اخروی ہے‘‘۔ حضرت شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ کی خدمت میں راقم نے عرض کیا کہ آپ اگر اجازت دیں تو اس سلسلے میں ختمِ نبوت کے نام کی تنظیموں کے رہنماؤں کو اس مقدس مقصد کے حصول کی دعوت دی جائے ان میں سے جو اس اجلاس میں شمولیت پر آمادہ ہوں ان پر مشتمل فیصل آباد یا لاہور میں عظیم الشان اجتماع کا اہتمام کر کے واحد ختمِ نبوت تنظیم کا اعلان کیا جائے، دورانِ گفتگو راقم نے یہ بھی عرض کیا کہ ختمِ نبوت نام کے متحدہ محاذ کی پہلے بھی کوشش کی گئی ہے اور قیامِ پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے کئی متحدہ محاذ شکست و ریخت کے مراحل سے گزر چکے ہیں، آج مختلف مذہبی جماعتوں بالخصوص ختمِ نبوت کے زیرِ عنوان کسی اتحاد کی نہیں، بلکہ ان تنظیموں کے کسی ایک میں ادغام کی ضرورت ہے، مذہبی جماعتوں کی جانب سے ’’شغل محاذ سازی‘‘ کے سارے تجربے بُری طرح ناکام ہو گئے ہیں، عصرِ حاضر میں کئی دیگر سیاسی جماعتیں باہمی اتحاد کی سعی لاحاصل کر رہی ہیں۔ غلط نظام ختم کر کے اور اپنی تنظیمیں توڑ کر نئی موثر تنظیم معرض وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔

غرضیکہ حضرت شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ کی خدمت میں جو معروضات پیش کی گئی تھیں ان کے مطابق لائحہ عمل ابھی مرتب ہونے کو تھا کہ یہ افسوس ناک خبر موصول ہو گئی کہ پاکستان کی عظیم دینی،علمی و عملی اور علومِ عصر پر محققانہ دسترس رکھنے والی شخصیت سفرِ آخرت اختیار کر گئی ہے اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران کے لاکھوں علمائے کرام اور سیاسی رہنماؤں اور دینی مدارس کے طلباء نے ان کے جنازے میں شرکت کر کے زبردست خراجِ عقیدت و احترام پیش کیا ہے اور ان کے لئے جنت الفردوس میں ’’مقام علیین‘‘ پر فائز کرنے کے اللہ کے حضور دُعائیں کی ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث ڈاکٹر سید شیر علی شاہ ؒ دورِ حاضر میں ’’ اللہ کی نعمت اور ولی کامل ‘‘ تھے، ان کی وفات سے یوں محسوس ہُوا کہ یکایک تیز روشنی بجھ گئی اور ماحول گہرے ظلمت کدے میں ڈوب گیا ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث ؒ کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو شرف ِ قبولیت سے نواز کر انہیں اپنے خاص جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا کرے اور ہم سب کو ان کی روشن کردہ علمی، دینی اور روحانی شمع تابناک رکھنے کی توفیق سے نوازتا رہے۔ آمین

آزاد امیدواروں کی ووٹروں سے بے وفائی

حالیہ بلدیاتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں مختلف جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ کئی آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں ان سب کی خدمت میں مبارکباد پیش ہے، لیکن کامیابی کے بعد بعض نمائندے اپنے حلقے کے ووٹ دہندگان سے مشاورت اور ان کی اجازت کے بغیر دوسری جماعتوں میں شرکت کا اعلان کر رہے ہیں یہ اقدام ووٹ دہندگان سے بے وفائی کا مظہر ہے، حکومت کو انتخابی قوانین میں ترمیم کرنی چاہئے کہ جو نمائندے ووٹ دیتے وقت اپنی حیثیت کا اعلان کریں، اس پر انہیں قائم نہ رہنے کی صورت میں اپنی نشست سے مستعفی ہو کر جس پارٹی میں شرکت کا ارادہ ہو اس کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخاب میں حصہ لینا چاہئے۔ خصوصاً آزاد امیدواروں کو سودے بازی اور کسی عہدے یا دولت کے لالچ میں دوسری جماعتوں میں شرکت کا فیصلہ اپنے حلقے کے ووٹروں کی اجازت کے بغیر نہ کرنا چاہئے یہ رجحان کرپشن کو جنم دینے کا موجب بن رہا ہے،نیز عدل و انصاف اور اخلاقی قدروں کا بھی تقاضا ہے کہ ووٹ کی امانت کو منڈی کا سودا نہ بنانا چاہئے، بلکہ حلقے کے ووٹروں کی جانب سے دیئے گئے اختیارات کا احترام کرتے ہوئے اگر کسی دوسری جماعت میں شرکت کرنی ہو تو از سر نو الیکشن کی صورت اختیارکرنی چاہئے۔ *

مزید : کالم


loading...