اپنی اپنی تشریحات

اپنی اپنی تشریحات
اپنی اپنی تشریحات

  

کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں ایک جملے نے کیا سماں باندھ دیا ہے۔ ہر کوئی اس جملے کی اپنی اپنی تعریف لے کر میدان میں کود پڑا ہے۔ اسے ایسے ایسے بقراطی معانی پہنائے جا رہے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ بعض منچلے تو اس جملے میں مارشل لاء کی بُو بھی محسوس کر رہے ہیں۔ایک بار پھر اُن کاریگروں نے وزیراعظم کو دام میں لانے کے لئے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا ہے کہ وہ کسی غیر آئینی تبدیلی کی حمایت نہیں کریں گے۔ محمود خان اچکزئی جیسے رہنما، جنہوں نے موجودہ دورِ حکومت میں سب سے زیادہ عہدے اور مفادات لئے ہیں، یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اگر دو شریفوں میں سے انہیں کسی ایک شریف کا ساتھ دینا پڑا تو وہ سویلین شریف کا ساتھ دیں گے۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ وہ یہ دور کی کوڑی کیوں لا رہے ہیں؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ بچہ پیدا نہیں ہُوا، اُس کی شادی کے انتظامات شروع کر دیئے جائیں۔ پنجابی میں کہتے ہیں ’’ تو کون،مَیں خوامخواہ‘‘۔۔۔دو شریفوں میں گہری انڈر سٹیڈنگ چل رہی ہے۔ کڑے وقتوں میں بھی اُن کے درمیان کوئی خلیج حائل ہونے نہیں پائی، پھر یہ ایک جملہ کیسے اتنا بھاری ہو گیا کہ سب کچھ ملیا میٹ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مجھے تو یہ سب کچھ ان لوگوں کے خوف کا شاخسانہ لگتا ہے، جنہیں یہ ڈر ہے کہ فوج کی اگر سنی گئی اور گڈ گورننس کے لئے عملاً کام ہُوا تو وہ گرفت میں آ جائیں گے۔ انہوں نے رائی کا پہاڑ بنا دیا ہے، حالانکہ فوج کی طرف سے معمول کے عین مطابق بات کی گئی ہے کہ ضربِ عضب میں فوج نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اُن کو پائیدار بنانے کے لئے گڈ گورننس ضروری ہے، اِس حوالے سے جو کمزوریاں ہیں، انہیں دور کیا جائے۔ وزیراعظم اس بات کو سمجھتے ہیں، وہ کبھی اس حوالے سے اپنا منفی ردعمل ظاہر نہیں کریں گے، مگر اُن کے خیر خواہ اور اُن کے ترجمان ایسی باتیں ضرور کریں گے، جو غلط فہمیوں کو جنم دیں اور کشیدگی کو بیدار کریں۔

پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی گزر گیا ہے، مگر ہمارے سیاستدان پا رلیمنٹرین اور تجزیہ کار ابھی تک ماضی میں زندہ ہیں، وہ ہر بات کی تان اس نکتے پر توڑتے ہیں کہ مُلک کسی غیر آئینی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھئی یہ مہم جوئی کرنا کون چاہتا ہے؟ کیا جنرل راحیل شریف سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جمہوریت کو ختم کر کے آمریت کو نافذ کریں، کیا وہ اپنے ایک پیشہ ور سپاہی کا جو امیج ہے، اُسے اپنے ہاتھوں سے برباد کر دیں گے؟ایسا سوچنا بھی بعید از قیاس نظر آتا ہے۔ آج اگر فوج کی مقبولیت کا گراف آسمان کو چھو رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے فوج کو سیاست سے دور کر دیا ہے۔ فوج ایک ایسا ادارہ بن کر ابھری ہے،جو مُلک سے ہر نوعیت کے گند کو صاف کرنا چاہتا ہے،جس کے اقدامات سے مُلک میں بہتری آئی ہے اور جنرل راحیل شریف جو کام کر رہے ہیں، اُسے پورے مُلک میں سراہا جا رہا ہے۔ آج ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ فوج جمہوریت کے خلاف نہیں، بلکہ جمہوریت کا گند صاف کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ یا جمہوریت مٹی کے کھلونے نہیں، جن سے کھیلا جاتا رہے، بلکہ یہ معاشرے کو بہتری کی طرف لے جانے والے ذریعے ہیں۔ انہیں شو کیس میں سجا کر نہیں رکھا جا سکتا، ان سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے، کیا ہم اپنی جمہوریت اور پارلیمنٹ پر اطمینان کا اظہار کر سکتے ہیں، یا ہمیں ان کو ثمر آور بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟

جو لوگ پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ اسمبلی یا سینیٹ میں جاتے ہی نہیں۔ اب تو یہ نوبت آ گئی ہے کہ خود سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ وزراء اور ارکان اسمبلی پارلیمنٹ کی کارروائی میں دلچسپی لیں۔ فوج کی طرف سے ہلکا سا بیان بھی آ جائے تو پارلیمنٹ کی بالادستی کا راگ الاپنے والے میدان میں آ جاتے ہیں، لیکن عام حالات میں یہ کبھی نہیں سوچتے کہ وہ اس ادارے کی بالادستی کے لئے خود کتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پھر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی نوبت آ جائے گی اور اس میں ارکان اسمبلی سمیت وزراء اور وزیراعظم بھی بھرپور شرکت کریں گے اور جتنے دن جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر یہ اجلاس چلتا رہے گا، اس میں شریک ہوتے رہیں گے۔ ایسے اجلاسوں میں چونکہ قانون سازی نہیں، بڑھک بازی ہوتی ہے، اس لئے سب کی دلچسپی برقرار رہے گی، مگر وہ اجلاس جس میں کوئی مفاد عامہ کا کام ہو سکتا ہے، عوامی فلاح کا کوئی قانون بن سکتا ہے، مُلک سے استحصالی نظام کو ختم کرنے کے لئے قانون سازی ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا، جب یہی کام کوئی دوسرا ادارہ کرنا چاہے گا، عوام کی دادرسی کے لئے کوئی قدم اٹھائے گا تو سب خواب غفلت سے جاگ کر اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائیں گے۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان نے سینیٹ سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بھی اسی نکتے کی نشاندہی کی کہ جب ریاست کا کوئی ایک ادارہ کام نہیں کرے گا تو لامحالہ کوئی دوسرا ادارہ اس کی کمی پوری کرنے کی سعی کرے گا، کیونکہ معاشرہ چلانے کے لئے خلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ہمیشہ سے جمہوریت اور پارلیمینٹ کی دہائی دینے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم اپنا کام اتنی جانفشانی اور ذمہ داری سے کریں کہ کسی کو مداخلت کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ آج جنرل راحیل شریف کا طوطی کیوں بول رہا ہے، کیوں ایک منتخب وزیراعظم سے زیادہ عوام ان کو ہیرو سمجھ رہے ہیں ؟ سوائے اس فرق کے کہ جنرل راحیل شریف کارکردگی دکھا رہے ہیں اور وزیراعظم اس قسم کے بولڈ فیصلے نہیں کر رہے، جن کی اس وقت ضرورت ہے۔

مَیں یہ نکتہ پہلے بھی اٹھاتا رہا ہوں کہ عوام کو دہشت گردی کے واقعات میں ریلیف کے سوا اب تک اور کیا ریلیف حاصل ہُوا ہے؟ لوڈشیڈنگ کم ہوئی، نہ امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی۔تھانے اور پٹوار خانے کے ظلم و ستم سے نجات ملی اور نہ روزگار کے مواقع بڑھے۔ غربت میں کمی آئی اور نہ مہنگائی کم ہوئی، سب کچھ تو ویسے ہی ہے، اوپر سے نظام انصاف کا مزید بیڑہ غرق ہو گیا ہے،کیونکہ بالادست طبقوں نے اس کے سارے عمل کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے۔ مَیں آج ہی ایک خبر پڑھ رہا تھا کہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے نیب کو مطلوب رجسٹرار ملک منیر حسین ضمانت قبل از گرفتاری کرانے کے بعد بضد ہیں کہ انہیں رجسٹرار کے منصب پر ہی بٹھایا جائے، وہ تبادلہ قبول نہیں کریں گے۔۔۔ جس کیس میں نیب سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو گرفتار کر کے ایک اُستاد کی تذلیل کر رہا ہے، اس کیس کا بڑا ملزم عدالت کے حکم سے آزار پھر رہا ہے۔ اب تو عدالت کو خواجہ علقمہ کو بھی ضمانت پر رہا کر کے تفتیش میں شامل ہونے کا حکم دینا چاہئے تھا۔ یہاں جو جتنا شاطر اور چالاک ہے، وہ اتنا ہی قانون دوست ہے اور جو معصوم ہے، قانون اس کے لئے شکنجہ بن جاتا ہے۔ ایک منتخب حکومت کی موجودگی اور جمہوریت میں بھی اگر عوام کو علاج معالجے سے لے کر زندگی کی دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں آتیں تو عوام اس بات کو کیا اہمیت دیں گے، جو اکثر جمہوریت اور پارلیمنٹ بچانے کے لئے کی جاتی ہے۔۔۔ جس جمہوریت اور پارلیمنٹ کی کمزور حالت ایک عسکری جملے کا بوجھ برداشت نہ کر سکے، وہ مضبوط کیسے ہو سکتی ہے؟ جس جمہوریت کے پیچھے عوام کی طاقت نہ ہو،جس پارلیمنٹ میں عوامی نمائندے تو بیٹھے ہوں، مگر اُن کا عوام کے دُکھ درد سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ اِسی طرح کا شور مچاتے ہیں، جیسا کورکمانڈرز کانفرنس کے ایک جملے کے بعد مچا رہے ہیں۔ *

مزید : کالم