پنجاب میں صحت کی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں،میاں نصیر،شیخ علی

پنجاب میں صحت کی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں،میاں نصیر،شیخ علی

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ لاہور کے صدر نصیر احمد، شیخ علی سعید،یامین خان آزاد، ابو ہاشمی، عبدالکریم میو، غنی بھائی، خالد محمود بھٹی، حسن ایوب نقوی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پنجاب میں صحت کی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں ہسپتالوں میں ادویات مشینری اور سٹاف کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے مسلم لیگ ن کی حکومت دوسری مرتبہ پنجاب میں مسلسل اقتدار میں آچکی ہے لیکن دونوں مرتبہ محکمہ صحت کا وزیر مقرر نہیں کیا گیا بلکہ ایسے شخص سے مشیرِ صحت کا کام لیا جا رہا ہے جس کو صحت کی الف ب کا بی پتہ نہیں ہے صحت کی سہولتیں ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہر فرد کا بنیادی حق ہے مسلم لیگ ن کی حکومت نے سابق دورِ حکومت میں جاری صحت کے میگا پروجیکٹس کو تقریباً ختم کر دیا ہے میو ہسپتال کا سرجیکل ٹاور سروسز ہسپتال میں گائنی ہسپتال میاں میر میں تکمیل کے آخری مراحل میں ہسپتال وزیرآباد میں گاڈیالوجی ہسپتال اور دیگر پروجیکٹس کو فنڈ نہیں دیے جا رہے جس کی وجہ سے ان کی لاگت میں کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ میاں منشی ہسپتال جو کہ دو سو بیڈ پر مشتمل ہے اس کو صرف ایک ڈاکٹر چلا رہا ہے ہسپتال میں ایمرجنسی مریضوں، زچگی اوربچوں کے لیے سہولیات ختم ہو چکی ہیں پنجاب حکومت صحت کی سہولتیں عوام کو پہنچانے میں لاکام ہو چکی ہے عوام کو صحت کی سہولتوں کی نوید صرف اشتہارات میں نظر آرہی ہے جب کہ عملی طور پر ان اقدامات کا کہیں وجود نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سابق دورِ حکومت میں جاری صحت کے میگا پروجیکٹس کو فنڈز مہیا کرے تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں میسر آسکیں اور صحت کا وزیر مقرر کیا جائے تاکہ صحت کی کوئی پالیسی بن سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1