پولیس کی ناقابل دست اندازی معاملات میں مداخلت قوانین کا ناجائز استعمال عام ہو گیا

پولیس کی ناقابل دست اندازی معاملات میں مداخلت قوانین کا ناجائز استعمال عام ...

 لاہور(بلال چودھری) اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ناقابل دست اندازی معاملات اور دیگر اداروں کے اختیارات میں مداخلت پنجاب پولیس کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ناقابل دست اندازی معاملات میں بھی پنجاب پولیس اور بلخصوص لاہور پولیس نے "ٹانگ اڑاکر " لوگوں کو حراست میں لینا یا ان کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا اپنا شعار بنا لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قابل دست اندازی پولیس میں ایسے معاملات شامل ہیں جن کے مقدمے درج کیے جائیں اور وہ تعزیرات پاکستان 1860کی مختلف دفعات کے تحت درج کے گئے ہوں ۔ایسے معاملات میں پولیس لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہے ان معاملات میں ڈکیتی ،قتل ،چوری ،لڑائی وغیرہ کے معاملات آتے ہیں جبکہ نا قابل دست اندازی پولیس ایسے معاملات ہیں جن میں پولیس اہلکار کسی کو گرفتارنہیں کر سکتے ان میں لین دین اور پراپرٹی اور دیگر ایسے معاملات آتے ہیں جن میں کوئی تحریر موجود نہ ہو یا کوئی چیک کا لین دین یا ایسے ہی ثبوت نہ ہوں ۔ایسی صورت میں استغاثہ کرنا لازم ہے ۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان قوانین کی دھجیاں اڑانا عام ہو گیاہے جس کی وجہ سے لوگوں کو بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تنگ کیا جاتا ہے ۔ناکوں پر موجود پولیس اہلکاروں کے پاس لوگوں کی سواریوں کی رجسٹریشن بکس تو چیک کرنے کا اختیار ہے لیکن وہ محکمہ ٹریفک پولیس کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بکس پر موجودٹوکن بھی چیک کرتے ہیں اور نامکمل یا ٹوکن نہ لگنے ہونے پر سواریوں کو بند کرنا معمول کی بات بن چکا ہے ۔اسی طرح سے سگریٹ نوشی ،ریڑھی بانوں کو پکڑ لینا ،گدھا ریڑھی والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا اور ان کو پکڑنا پولیس کے اختیارات میں نہیں آتا ۔دوسری جانب پولیس اہلکار لین دین کے معاملات میں مدعی کے ساتھ ساز باز کر کے خیانت کی دفعہ 406لگا کر لوگوں کے خلاف مقدمات درج کر لیتے ہیں جو کہ سراسر خلاف قانون ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرنے کے ایسے رویہ کی وجہ سے معاشرہ میں پولیس کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے جبکہ ناقابل دست اندازی پویس معاملات کوبدل کر لوگوں کے خلاف مقدمات کا اندراج پولیس میں کرپشن کوفروغ دے رہا ہے جبکہ عوام کااعتماد پولیس پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...