لندن دوسرے روز بھی ’’ گو مودی گو‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا ، ویمبلے سٹیڈیم کے باہر بھی احتجاج

لندن دوسرے روز بھی ’’ گو مودی گو‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا ، ویمبلے سٹیڈیم ...

 ویمبلے ،لندن( آن لائن) لندن کی سرزمین گو مودی گو کے نعروں سے گونج اٹھی ،ویمبلے سٹیڈیم کے باہر کشمیریوں اور مودی کا آمنا سامنا بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی برطانیہ آمد پر ویمبلے سٹیڈیم کے باہرہزاروں برطانوی نژاد پاکستان و کشمیری کمیونٹی ہندوستانی شہریوں ، سکھوں اور نیپالیوں نے تاریخی احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پرلکھا ہوا تھاکہ مودی جنوبی ایشیا کے امن کے لئے خطرہ ہیں اور مودی کا برطانیہ میں استقبال نہیں ہے مودی کی برطانیہ آمد پر اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرے سے یہ ثابت ہوگیا کہ انسانیت کے قاتل کی دنیا میں کہیں بھی کوئی جگہ نہیں ہے مظاہرین میں مودی کی آبائی ریاست گجرات سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے جبکہ تامل ناڈو کی بھی کافی نمائندگی تھی تاہم بھاری تعداد میں کشمیری اور سکھ مظاہرے میں شامل تھے۔ احتجاج میں شرکت کرنے والوں مین اکثریت پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی تھی ۔لندن میں جموں اینڈ کشمیر لبریشن کونسل اور تحریک کشمیر یو کے نے مشترکہ طور اس مارچ کا اہتمام کیا تھا جس میں مختلف یورپی ممالک میں متعدد کشمیری تنظیموں کے ہزاروں کارکنان بھی شامل تھے ،برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے اراکین لارڈ نذیر احمد اور لارڈ قربان بھی احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے ،احتجاجی مظاہرے میں کل جماعتی رابطہ کونسل کی جانب سے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سربراہ عبدالرشید ترابی ،آزاد جموں و کشمیر کے سینئر وزیر چودھری محمد یٰسین ، چیئرمین مسلم ایکشن فورم مولانا سید ظفر اللہ شاہ،مولانا بوستان قادری، مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و اوورسیزکے قائم مقام صدر حافظ مفتی فضل احمد قادری ،جنرل سیکرٹری جمعیت علما اسلام برطانیہ، علامہ مولانا رفیق احمد شاہ،سینٹرمولانا محمد رمضان رضا سلطان باہو،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ محمد افضل بٹ ،نامور صحافی مشتاق منہاس ،اینٹی مودی مارچ کے کنوینئر راجہ ایاز ،تحریک کشمیر یبرطانیہ کے سربراہ فہیم کیانی ، فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نعیم ملک جبکہ سکھ کمیونٹی کی نمائندگی کے لئے ویندر سنگھ نے خصوصی شرکت کی ۔

مزید : صفحہ اول