عمران خان اور بلاول بھٹوزرداری میں لفظی جنگ کتنے دن چلے گی ؟

عمران خان اور بلاول بھٹوزرداری میں لفظی جنگ کتنے دن چلے گی ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

عمران خان نے تو اپنی طرف سے ’’بلاول بیٹے‘‘ کو مفت مشورہ دے دیا تھا کہ نانا اور والدہ کی تصاویر لگانے اور لکھی ہوئی تقریریں پڑھنے سے وہ لیڈر نہیں بن سکتے۔ انہیں سیاست سیکھنا ہے تو ان کے پاس آئیں، لیکن نوجوان بلاول کو ’’انکل عمران‘‘ کا یہ مشورہ کوئی زیادہ اچھا نہیں لگا اور انہوں نے شیخ سعدی شیرازی کے اس قول کا سہارا لے کر کہ ’’بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال‘‘ ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے کہ سیاست اور عقل میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ سیاست میں بڑا آدمی عمر سے نہیں، بلکہ اعمال سے بنتا ہے، انہوں نے عمران خان کو یہ بھی کہا کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، عمر کوٹ میں بھرپور ناشتے کے بعد عمران خان کا خطاب اوورایٹنگ کا شاخسانہ لگتا ہے، بلاول نے اپنے جوابی بیان میں ’’انکل عمران‘‘ کو بھی کچھ مشورے دے ڈالے ہیں اور کہا ہے کہ آپ ریٹائرمنٹ کی عمر سے بھی گزر چکے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ آپ ریٹائر ہوجائیں۔ لگتا ہے عمران خان کا طرز تخاطب بلاول بھٹو کو پسند نہیں آیا، انہوں نے محسوس کیا کہ عمران ان کا مضحکہ اڑا رہے ہیں اور انہیں سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ ابھی نوجوان ہیں، لیکن اس نوجوانی میں بھی وہ ایک بڑی پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جو اس وقت بھی ایک صوبے کی حکمران ہے، اگرچہ عمران خان کے الفاظ میں وہ اب وفاق کی جماعت نہیں رہی، اس کے مقابلے میں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف اب وفاق کی پارٹی بن گئی ہے۔ ان کے اس دعوے میں کتنی صداقت ہے، یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چلے گا، اس وقت تحریک انصاف کی ایک صوبے میں مخلوط حکومت ہے اور قومی اسمبلی میں 34 نشستیں جو زیادہ تر دو صوبوں سے حاصل ہوئی ہیں، بلوچستان میں تحریک انصاف کی کوئی نشست نہیں اور سندھ میں ان کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ اس کے باوجود وہ اگر اپنے آپ کو وفاق کی جماعت کہتے ہیں تو چشم ما روشن دل ماشاد، آدھے وفاق میں تو وہ بہرحال موجود ہیں، کہنے کو تو آدمی جو چاہے کہہ سکتا ہے اور اگر سیاستدان ہو تو پھر اس کا فرمایا ہوا مستند بھی ہے۔ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کہا کرتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) جی ٹی روڈ کی پارٹی ہے، ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ لاہور کو لاڑکانہ بنا دیں گے، اس سے ان کی مراد یہ تھی جس طرح پیپلز پارٹی کو لاڑکانہ میں کوئی چیلنج نہیں کرتا، اسی طرح لاہور میں بھی اس کی پوزیشن ہوجائیگی، لیکن وہ اپنے اس دعوے کو سچ ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ 2013ء کے الیکشن میں سلمان تاثیر کی جماعت کو لاہور سے قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ مل سکی، بلکہ پورے پنجاب سے ایک نشست ملی اور اکتوبر کے مہینے میں لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں تو پیپلز پارٹی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوگئی، ممکن ہے سلمان تاثیر حیات ہوتے تو اپنے کسی فارمولے کے تحت لاہور کو لاڑکانہ بنا دیتے، تو خیر ہم بات کر رہے تھے عمران خان کے مشورے کی اور جواب میں بلاول بھٹو کے تند و تیز بیان کی۔

سیاست میں تند و تیز بیانات تو چلتے ہی رہتے ہیں اور بلاول بھٹو نے اب تک جو چند تقریریں کی ہیں، ان میں جو ش و جذبے سے خاصا زیادہ کام لیتے ہیں، جو ان کی عمر کا تقاضا بھی ہے، وہ اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوئے ہیں، اب اگر کوئی انہیں بچہ سمجھ کر ٹریٹ کرے گا یا بیٹا کہہ کر مخاطب کرے گا تو پھر اسے جواب میں ’’انکل‘‘ تو سننا پڑے گا، حالانکہ یہ کوئی ناپسندیدہ لفظ نہیں، احترام کا لفظ ہے لیکن پیپلز پارٹی کی سیاست میں ’’انکل‘‘ ہمیشہ پارٹی قیادت کے لئے مشکلات کا سبب بنتے رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو جب اپنی والدہ محترمہ کو چیئرپرسن کے عہدے سے الگ کرکے خود چیئرپرسن بنیں تو انہیں اپنی پارٹی کے کچھ سینئر سیاستدانوں کے مفت مشوروں کا سامنا تھا، یہ لوگ ان کے والد محترم کے ساتھیوں میں سے تھے، اور یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ ان کی پارٹی کے لئے بہت زیادہ خدمات ہیں، یہ بے نظیر کو جو مشورے دیتے تھے، وہ ظاہر ہے سب کے سب انہیں قبول نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے انہوں نے آہستہ آہستہ ان ’’انکلوں‘‘ کو پارٹی میں غیر موثر کر دیا۔ اس صورت حال سے پریشان ہوکر کچھ انکل خود پارٹی چھوڑ گئے اور اپنا اپنا دھڑا بنا لیا، ان میں سے بعض دھڑے اب تک قائم ہیں لیکن سیاست میں غیر موثر ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو اگر اپنی پارٹی کے اندر کے انکل قابل قبول نہیں تھے، تو بینظیر کے صاحبزادے بلاول بھٹو پارٹی سے باہر کے کسی انکل کو کیسے گوارا کرسکتے ہیں؟

عمران خان نے انہیں ’’بیٹا بلاول‘‘ اور ’’بے بی بلاول‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تو جواب میں انہوں نے ’’انکل عمران‘‘ کو سیاست چھوڑنے کا مشورہ دے ڈالا، بلاول نے لگے ہاتھوں اپنی ہی جماعت کے سابق رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی کو نام لئے بغیر ہدف تنقید بنا ڈالا، بیان میں جن پیر صاحب کا تذکرہ ہے، وہ یہی شاہ محمود ہیں جن کے والد مخدوم سجاد حسین قریشی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تھے۔ اب چونکہ شاہ محمود قریشی عمران خان کے ساتھ ہیں، اس لئے بلاول کو کہنا پڑا، پیروں کو ساتھ لے کر مریدوں سے ووٹ نہیں ملتا، یہ بات زیادہ غلط بھی نہیں، شاہ محمود نے سندھ کے اس حلقے سے جہاں ان کے مریدین بڑی تعداد میں ہیں، خود قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا، مگر جیت نہیں سکے تھے۔ انہیں قومی اسمبلی کی نشست ملتان سے ہی ملی۔ بلاول نے عمران خان کے سندھ کے دورے کو ’’ناکام دورہ‘‘ قرار دیا ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ ناکامی کے بعد وہ مایوس ہوگئے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تو تحریک انصاف کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی، پنجاب میں تو پھر بھی چند نشستیں مل گئیں، سندھ میں یہ پوزیشن بھی نہیں۔ ان حالات میں عمران خان اگر سندھ کو آزاد کرانے نکلے ہیں اور بلاول کو سیاست سکھانا چاہتے ہیں تو اس کا فیصلہ 19 نومبر (دوسرا مرحلہ) اور 5 دسمبر (تیسرا مرحلہ) کے بعد ہو جائے گا۔

اپنے لیڈر کی حمایت میں نثار کھوڑو بھی فوری طور پر بول پڑے، جن کے بارے میں ذوالفقار مرزا ناگفتی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔ خیر اب دیکھنا ہوگا، لفظوں کی یہ جنگ کتنے دل چلتی ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...