سندھ میں قومی ایکشن پلان پر موثر انداز میں کام جاری ہے ، نثار کھوڑو

سندھ میں قومی ایکشن پلان پر موثر انداز میں کام جاری ہے ، نثار کھوڑو

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ صوبے کے 15اضلاع میں 19نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے سیکوریٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرلئے گئے ہیں اس موقع پر 51ہزار پولیس اہلکار اور رینجرز کے 3798اہلکار سکیورٹی کے فرائض سنبھالیں گے ، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج بھی موجود ہوگی جبکہ ریپڈ رسپانس فورس کو بھی الرٹ رہنے کے لئے گہا گیا ہے، وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر سندھ میں انتہائی اطمینان بخش طریقے سے عمل درآمد جاری ہے جس کا اعتراف کئی مرتبہ وفاقی سطح پر بھی کیا جاچکا ہے اس لئے وفاقی وزیر عبدلقادر بلوچ کو غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد چیف منسٹر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیر اطلاعات نے میڈیا کو اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ گزشتہ دنوں سندھ کے آٹھ اضلاع میں مجموعی طور پر امن و امان کے ماحول میں بلدیاتی الیکشن کے پہلا مرحلہ مکمل ہوا لیکن دارزا شریف میں ایک ناخوشگوار واقعہ ہو ا جس میں سندھ کے 12 لوگوں کی جانیں گئیں اس سانحہ کے بعد سندھ حکومت نے یہ مناسب جانا کے الیکشن کے اگلے مراحل میں مزید موچر اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ 15اضلاع میں پولیس کی 51ہزار اور رینجرز کے 3798 اہلکار سیکوریٹی پر مامور ہونگے۔ انہوں نے بتا یا کہ ہنگامی صورتحال میں فوج کی مدد کے لئے پہلے ہی سندھ حکومت درخواست دے چکی ہے پولنگ کے دوران کسی بھی جگہ اگر کوئی ناخوشگوار صورتحال ہیدا ہوئی تو ریپڈ رسپانس فورس اور گشت پر موجود نفری بھی وہاں پہنچ جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 17نومبر سے ان تمام اضلاع میں جہاں الیکشن ہورہے ہیں اسلحہ لیکر چلنے اور ان کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اس موقع پر تمام اسلحہ لائسنس معطل کردئے جائیں گے اور پولیس اہلکار بھی جو مختلف لوگوں کے گارڈز کی حیثیت سے ڈیوٹی کرتے ہیں وہ بغیر وردی اسلحہ لیکر نہیں چل سکیں گے۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ جو بلدیاتی امیدوار الیکشن کمیشن کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں گے انہیں نااہل قرار دینے کی سفارش کی جائے گی۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سانحہ درازا شریف کی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کوخط لکھ دیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے خود پیر پگارا سے بھی رابطہ کیا تھا وہ یقیناًانکوائری کے حولاے سے ہونے والی پیش رفت پر مطمن ہونگے۔ وزیر اطلاعت نے کور کمانڈر کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر جنرل ریٹائرڈ عبدلقادر بلوچ کے سندھ سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قراردیا اور کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں پورے ملک کی مجموعی صورتحال پر بات ہوتی ہے کسی ایک صوبے کی نہیں۔ قادر بلوچ نے سندھ میں 240ارب روپے کی کرپشن کی جو بات کی ہے اس حوالے سے انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ سندھ میں جسٹس کورائی کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے سامنے پیش ہوکر کسی نے کیوں ثبوت پیش نہیں کئے نثار کھوڑو نے کہا کہ ایک سابق جنرل بلند اختر نے میڈیا پر آکر وفاقی حکومت کے مختلف اداروں میں 180ارب روپے کے کرپشن کی نشاندہی کی ہے انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری بات کریں گے تو پھرہم بھی آپ کی بات کریں گے اور معاملہ بہت دور تک جائے گا۔ وزیر اطاعات نے کہا کہ سندھ میں قومی ایکشن پلان پر انتہائی موثر انداز میں کام جاری ہے اب تک اپیکس کمیٹی کے 9اہم اجلاس ہوچکے ہیں سندھ حکومت نے امن ومان کے حوالے بجٹ ا20ارب سے بڑھا کر 60ارب روپے کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سزائے موت کے کل 458قیدی ہیں اب تک 18مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے396سزا یافتہ مجرموں کی اپیلیں سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں ایک قیدی کی وفاقی شرعی عدالت میں اور 53کی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔4مجرموں کے بلیک وارنٹ پر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کررکھا ہے۔ نثار کھوڑو نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق 85مقدمات کی اسکروٹنی کی گئی سندھ حکومت نے 74 کیسوں کو ملٹری کورٹس میں چلانے کی سفارش کی تھی لیکن وفاقی وزارت داخلہ نے محض 11کیوں کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 61کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک اور سرگرمیوں کا پتہ چلاکر8077 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا سات سو کے قریب دہشت گرد مارے گئے جن میں القاعدہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کے 167اور لیاری گینگ وار کے 186کارندے شامل تھے اسی طرح سندھ میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا اور نفرت انگیز تقاریر پر 1578مقدمات درج کرکے 870 گرفتاریا کی گئیں۔ عمران خان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے آج تک جنرل مشرف کے رفنڈم کی حمایت کرنے پر قوم سے معافی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان سے کئی بار کہ چکا ہوں کہ وہ تبدیلی لانے کا دعوی ٰ کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی سے کہیں کہ وہ اپنے مریدوں کو ہدایت کریں کہ وہ آئندہ ان کے پاؤں اور ہاتھ نہ چومیں کیونکہ یہ چیز انسانیت کی توہین ہے اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت مون گارڈن کے مکینوں کے ساتھ ہے اور بلڈر کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں سندھ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے انہدام کی کارروائی رکوادی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول