طالبان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں سوچ تہذیب اور نظریہ کی جنگ تھی ، اسفند یارولی

طالبان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں سوچ تہذیب اور نظریہ کی جنگ تھی ، اسفند یارولی

 چارسدہ (بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پہلے امریکہ اور اب اپنی فوج حکومت سے ڈو مور کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو آئین کے حدود میں رہ کر کام کرنا ہو گا ۔ حکومت کے محاسبہ کا احتیار صرف عوام اور پارلیمنٹ کو حاصل ہے ۔ طالبان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ سوچ ، تہذیب اور نظریہ کی جنگ تھی۔ وہ چارسدہ میں ورکر ز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر ضلعی صدر ارشد عبداللہ ، تپہ اگرہ کے صدر فضل وہاب نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سابق ایم پی اے شکیل بشیر خان ، اے این پی کے مقامی رہنماء خالد خان ، محمد احمد خان ، سلیم شاہ ،مر ز احسان اللہ ، تحسین عبداللہ اور دیگر بھی موجود تھے ۔ ورکر ز کنونشن سے خطاب کر تے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہاکہ افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان میں دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدہ ہواکہ دونوں ملکوں کی سر زمین دہشت گردی کے لئے ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کیا جائیگامگر بد قسمتی سے دونوں ملکوں کے درمیان وہ معاہدہ حقیقی معنوں میں نافذ نہ ہو سکا۔ دونوں ریاستیں مل بیٹھ کر غلط فہمیاں ختم کریں اور ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کریں کیونکہ دونوں قوموں اور ریاستوں کی بقاء امن سے وابستہ ہے۔انہوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی شدید مخالفت کی اور کہاکہ یہ پختونوں کے بقا کا مسئلہ ہے ۔اسفندیار ولی خان نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ 300کنال کے گھر میں رہ کر خود ایک روپیہ ٹیکس نہیں دے رہے ہیں جبکہ حکومت سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی پر ویز خٹک پر ان کے اپنے پارٹی کے وزیر نے اسمبلی فلو ر پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے مگر عمران خان اور ان کا احتساب کمیشن ا س پر خاموش ہے۔ عمران خان نے آفتاب شیر پاؤ کے لوگوں پر کرپشن کے الزامات لگا کر حکومت سے چلتا کیا مگر اپنی ضرورت کیلئے ان کو کلین چٹ دیکر کرپشن سے پاک قرار دیکر حکومت میں شامل کیا ۔ تحریک انصاف احتساب کمیشن کے ذریعے مخالفین کو دبانے کی کو شش کر رہی ہے مگر ہم کسی احتساب سے نہیں ڈرتے ۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات سے پہلے عمران خان نے پاکستان کو یورپ کے برابر لانے کا وعدہ کیا مگر گزشتہ ڈیڑ ھ سال میں خیبر پختون خواہ میں ایک اینٹ کا ترقیاتی کام شروع نہ کیا جا سکا اور خیبر پختون خواہ کے عوام مسائل اور مشکلات کے دلدل میں ڈوب رہے ہیں ۔ اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ طالبان ہم سے تہذیب ، سوچ اور نظریہ چھیننا چاہتے تھے ۔ان سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی صرف نظریے اور سوچ کی جنگ تھی ۔ اسفندیار ولی خان نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان پھر آگئے اور ہمارے تہذیب ، سوچ اور نظریے پر حملہ آور ہوئے تو دوبارہ قربانیاں دینگے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہاکہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں پارٹی اکابر کی 100سالہ جد وجہد کی جنگ جیت کر پختونوں کو اپنی شناخت ، وسائل پر اختیار دیا جبکہ پورے صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جھال بچا کر 68سالہ محرومیوں کا آزالہ کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ اول