بدنام جلادایموازی عرف ’’جہادی جان‘‘ ڈرون حملے میں مارا گیا

بدنام جلادایموازی عرف ’’جہادی جان‘‘ ڈرون حملے میں مارا گیا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) بدنام جلاد ’’جہادی جان‘‘ شام میں اتحادیوں کے فضائی حملے میں مارا گیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام نے بتایا ہے کہ محمد ایموازی کی جاسوسی کی جا رہی تھی اور جب وہ رقہ کی ایک عمارت سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اس پر تین ڈرون گرائے گئے اور وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

داعش کی طرف سے جاری ہونے والی متعدد ویڈیوز میں اسے اپنے قبضے میں لئے گئے کئی افراد کے سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جن میں امریکی صحافی جیمز فولی، امریکی سماجی کارکن عبدالرحمان کیسگ، برطانوی سماجی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ کے علاوہ جاپانی صحافی کینجی گوٹو شامل تھے۔ ہاتھ میں تلوار تھامے سیاہ نقاب پوش 27 سالہ ’’جہادی جان‘‘ جو برطانوی لہجے میں بات کرتا تھا، دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ وہ 1988ء میں کویت میں پیدا ہوا تھا، جس کے بعد ان کا خاندان لندن منتقل ہوگیا، وہ 2012ء میں شام آیا اور جلد ہی داعش میں شامل ہوگیا۔ چند ماہ قبل افواہ تھی کہ وہ داعش کے کمانڈروں کے خوف سے شام سے فرار ہوگیا تھا لیکن یہ اطلاع درست ثابت نہیں ہوئی۔ سی این این نے ہلاکت کی خبر آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا تبصرہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ ایموازی ہلاک ہوگیا ہے تو یہ داعش کی قوت پر منفی اثر چھوڑے گا۔ دوسروں کی جان لینے والے دہشت گرد کی ہلاکت دراصل مدافعت شمار ہوگی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...