بداخلاقی کے بعد قتل کا جرم، سزائے موت کا قیدی بیانات میں تضاد پر بری

بداخلاقی کے بعد قتل کا جرم، سزائے موت کا قیدی بیانات میں تضاد پر بری

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے 14سالہ طالبہ کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کے مقدمہ میں سزائے موت پانے والے قیدی کو گواہوں کے بیانات میں تضاد ہونے کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دے دیا۔ مسٹر جسٹس طارق محمودعباسی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے ملزم شاہدکی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت کی،اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تاندلیانوالہ فیصل آباد پولیس نے اپیل کنندہ کے خلاف 14سالہ طالبہ آسیہ بی بی کو بداخلاقی کے بعد گلا دبا کر قتل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کیا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فیصل آباد نے گواہوں کے بیانات میں تضاد اور ڈی این اے رپورٹ میں بداخلاقی ثابت نہ ہونے کے باوجود اپیل کنندہ کو موت کی سزا کا حکم سنایا ہے، انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا جائے، ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ٹھوس شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں اپیل کنندہ کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے ۔

تضاد بری

مزید : صفحہ آخر