بھائی کے قتل کے بعد بھتیجوں کی کفالت اور انصاف ملنے میں تاخیر

بھائی کے قتل کے بعد بھتیجوں کی کفالت اور انصاف ملنے میں تاخیر

لاہور(کامران مغل )عدالت سے واپسی پر ہر بار بچوں کا ایک ہی سوال ہوتاہے کہ چچا ہمارے ابوکے قاتلوں کو سزا مل گئی ؟لیکن میں لاجواب ہوتاہوں ؟ عدالت سے انصاف مانگتے 5سال بیت گئے لیکن حقیقت میں خواری کے سوا میں اب تک کچھ حاصل نہیں ہواہے۔ڈرائیوری کرکے بچوں کا پیٹ پالنے والے میرے 50سالہ بڑے بھائی ہارون الرشید کوبہانے سے گھر بلا کر3خواتین سمیت 6 افراد نے دیرینہ عداوت پر فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔بھائی کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی نبھارہا ہوں،۔ ملزموں کوسزا آج ہوگی یہ ہی امیدلئے پیشی پر جاتاہوں لیکن بدقسمتی سے ہربار سماعت ملتوی کا سن کر واپس لوٹ آتا ہوں۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران محمد پورہ چونگی امرسدھو کے رہائشی ذوالفقار علی نے بتایا کہ اس کے بھائی ہارون الرشیدنے نشترکالونی میں رہائش اختیار کرلی ۔جہانزیب اشرف عرف ببلونے بہانے سے 23دسمبر 2010ء کواپنے گھر بلایا ،جہاں اشرف نے رات 8:45پر اپنے ساتھی ملزمان سہیل اشرف،محمد اکبر ،یاسمین ،صغراں بی بی اور مختاراں بی بی کے ساتھ مل کر نے دیرینہ عداوت پر گولیاں مار کرقتل کردیا۔ گزشتہ 5برسوں نے عدالتوں میں چکر لگا رہاہوں کہ آج انصاف لے کر گھر جاؤں گا لیکن ہربار مایوس ہی گھر لوٹنا پڑتا ہے ۔ اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر مقتول بھائی کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے لیکن ہربار تاریخ سے واپسی پر مقتول کے بچوں کا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ چچا،کیا ہمارے باپ کے قاتلوں کوسزا مل گئی ہے تو میں شرمساری کے ساتھ گردن جھکا لیتا ہوں اور میرے پاس ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا ۔اس حوالے سے مذکورہ مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی سماعت عرصہ دراز سے جاری ہے لیکن ابھی تک مقدمہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا ہے ،مخالف فریق ہر تاریخ پر مختلف ہیلوں بہانوں سے کام لیتے ہوئے کوئی نہ کوئی عذر پیش کرکے عدالت سے اگلی تاریخ لے لیتے ہیں جس کے باعث کیس التواء کا شکار ہے اور اسی وجہ سے ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...