عدلیہ انتظامی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں رکھتی

عدلیہ انتظامی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں رکھتی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی میرج پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے اور پادریوں کومیرج لائسنس کے حصول کے لئے کم از کم میٹرک کی شرط عائد کئے جانے کے خلاف دائر درخواست نمٹادی۔مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدلیہ انتظامی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں رکھتی،اگر کم از کم تعلیمی معیار اختیار کیا گیاہے تو اس پر اعتراض بلاجواز ہے۔درخواست گزار بشپ ڈاکٹر جانثار آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انگریز دورحکومت میں 1872ء میں بنایا گیا مسیحی میرج ایکٹ موجودہ دور سے مطابقت نہیں رکھتا۔میرج پالیسی کے مطابق پاکستان میں موجود تمام پادریوں کو میرج لائسنس کی پانچ سال بعد تجدید کرانا لازم ہے۔محکمہ ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ اقلیتی مشاورتی کونسل کی منظوری سے تمام ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے مشاورتی کونسل کے اجلاس کی تحریری کارروائی کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔

مسیحی میرج

مزید : صفحہ آخر