ایک عرصے تک اسلام پر مسلم سکالر سے بحث کرنے والی امریکی مصنفہ نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد خوشی ہوگی

ایک عرصے تک اسلام پر مسلم سکالر سے بحث کرنے والی امریکی مصنفہ نے ایسی بات کہہ ...
ایک عرصے تک اسلام پر مسلم سکالر سے بحث کرنے والی امریکی مصنفہ نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد خوشی ہوگی

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) اسلام کی اصل روح کو جانے بغیر اس کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے والے غیر مسلموں کی تو کوئی کمی نہیں لیکن یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جب بھی کسی غیر مسلم سکالر نے اس معجزاتی کتاب پر درحقیقت غور و فکر کیا تو ناصرف اس کی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زندگی ہی بدل گئی۔ ایک ایسی ہی روح پرور کہانی امریکی سکالر، مصنفہ اور محقق کارلا پاور کی ہے جنہوں نے مسلم سکالر شیخ محمد اکرم ندوی کے ساتھ قرآن مجید کے معنی و مفہوم پر ایک سال تک بحث مباحثہ کیا اور بالآخر کہہ اٹھی ہیں کہ یہ کائنات کے خالق کا وہ پیغام ہے کہ جو ناصرف اس دنیا میں انسان کے لئے سب سے بڑا سہارا ہے بلکہ ابدی فلاح کا نسخہ بھی یہی کتاب مبین ہے۔

کارلا پاور کے روحانی سفر کی ایمان افروز کہانی امریکی براڈکاسٹنگ نیٹ ورک پی بی ایس پر شائع کی گئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی میں برپا ہونے والے انقلاب کی حیران کن جزیات بیان کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر کام کرتے ہوئے انہوں نے شیخ محمد اکرم کے ساتھ مل کر قرآن مجید کے پیغام پر غوروفکر شروع کیا۔ا گرچہ ابتدائی طور پر ان کا انداز ناقدانہ تھا لیکن جیسے جیسے وہ اس مقدس کتاب کے معنی و مفہوم کو سمجھتی گئیں ویسے ویسے ان کی سوچ، فکر اور زندگی بھی تبدیل ہوتی گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ ایک غیر مسلم تھیں اور اسلام پر یقین نہیں رکھتی تھیں لیکن قرآن کا مطالعہ ان کے لئے دنیا میں سب سے بڑا سکون و اطمینان اور دنیا کی بے ثباتی سے سب سے بڑی پناہ گاہ ثابت ہوا۔

کارلا کہتی ہیں کہ جب انہوں نے آسمانوں اور زمین کے مالک کی عظمت اور بڑائی کو محسوس کیا تو خود کو بہت ہی چھوٹا پایا لیکن کائنات کے مالک کی عظمت اور بڑائی کے سامنے اپنے چھوٹے پن میں بھی ایک سکون اور تحفظ محسوس کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے انتہائی ذاتی لمحات میں خدا کے نام کی برکت اور اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے بھائی کی وفات ہوئی تو انہیں پہلی دفعہ سمجھ میں آیا کہ لفظ ”انشاءاللہ“ انسان کو غم و الم میں کس طرح طاقت و ثابت قدمی عنایت کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انسان یہ بات دل سے تسلیم کرتا ہے کہ ہر کام خدا کی منشاءکے مطابق ہوتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے تو انسان کے وجود کی بے یقینی اور کم مائیگی کے باوجود اس کے دل کو قرار نصیب ہوجاتا ہے۔ کارلا لکھتی ہیں کہ غم کے دنوں میں یہ سب سے بڑا سہارا تھا کہ وہ ایک ایسے حلقے میں تھیں کہ جو دنیا کی بے ثباتی میں ان کے لئے تحفظ کا ضامن تھا۔

انہوں نے نماز کے بارے میں لکھا کہ متعدد سائنسی تحقیقات ثابت کرچکی ہیں کہ نماز پڑھنے کا انداز اور اس کے دوران پڑھی جانے والی آیات انسان کے لئے ذہنی سکون اور جسمانی صحت کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ پانچ وقت نماز کی ادائیگی انسان کو ناصرف متعدد جسمانی مسائل سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ اسے وہ ذہنی سکون بھی عطا کرتی ہے، کہ جس کا آج مغربی معاشرہ شدت سے طلبگار نظر آتا ہے، لیکن نہیں جانتا کہ اسے کہاں تلاش کرے۔

قران مجید کے بارے میں یہ امریکی سکالر جو الفاظ کہتی ہیں وہ ان مسلمانوں کے لئے بھی انتہائی اہم ہیں کہ جو قرآن مجید کو صرف ایک مقدس کتاب قرار دے کر غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں اور کبھی اس کے معنی و مفہوم پر غور نہیں کرتے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک سال تک قرآن کے مطالعہ کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ یہ ایک جلد کے درمیان موجود کچھ صفحات نہیں ہیں کہ جنہیں ہم صرف مقدس کتاب کہہ کر ایک طرف رکھ دیں، بلکہ یہ تو انسان کی زندگی تبدیل کردینے والا معجزہ ہے، جس کی گہرائیوں میں غوطہ لگانے والے اس حقیقت کو پاسکتے ہیں کہ ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس