مسلم خاتون نے حسن سلوک کی نئی مثال قائم کردی، سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے ہر تضحیک آمیز پیغام کے جواب میں کیا کرتی ہے؟ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

مسلم خاتون نے حسن سلوک کی نئی مثال قائم کردی، سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے ...
مسلم خاتون نے حسن سلوک کی نئی مثال قائم کردی، سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے ہر تضحیک آمیز پیغام کے جواب میں کیا کرتی ہے؟ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

  


سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ سلوک کا برتاﺅ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی مغربی باشندے اپنے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو تنقید و تضحیک کا نشانہ بناتے رہتے ہیں، لیکن ایک آسٹریلوی مسلمان خاتون نے ایسا تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنے والے مغربی باشندوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس خاتون کا نام سوزان کارلینڈ ہے اور وہ اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ایسے لوگوں کی طرف سے موصول ہونے والی ہر نفرت انگیز ٹویٹ کے بدلے میں 1آسٹریلوی ڈالر(تقریباً75روپے)اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کو بطور چندہ اداکرتی ہیں۔

سوزان اب تک 1ہزار آسٹریلوی ڈالر (تقریباً75ہزار روپے) بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کو دے چکی ہیں۔سوزان مونش یونیورسٹی آف میلبرن میں پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے 22اکتوبر کو ایک ٹویٹ کی کہ وہ خود کو ملنے والی ہر نفرت آمیز ٹویٹ پر یونیسیف کو ایک ڈالر چندہ دے رہی ہیں۔سوزان کا کہنا ہے کہ میں ماضی میں ایسے لوگوں کو بلاک ، میوٹ اور نظرانداز کرتی رہی ہوں لیکن کچھ ماہ قبل میں نے قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جس کا ترجمہ ہے کہ”روشنی سے اندھیرے کو ختم کر دو۔“انہوں نے کہا کہ ”مجھے محسوس ہوا کہ مجھے دنیا میں ہر برے لفظ کے بدلے میں اچھائی پھیلانی چاہیے۔ مسلمانوں کو انٹرنیٹ پر بہت سے نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مسلمانوں کو اس کے جواب میں بہتر سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...