مرد نہیں گھر کی عورتیں قاتل ہیں ،بہو قتل کیس میں پولیس کی انوکھی تفتیش ،مدعی انصاف کے لئے خوار

مرد نہیں گھر کی عورتیں قاتل ہیں ،بہو قتل کیس میں پولیس کی انوکھی تفتیش ،مدعی ...
 مرد نہیں گھر کی عورتیں قاتل ہیں ،بہو قتل کیس میں پولیس کی انوکھی تفتیش ،مدعی انصاف کے لئے خوار

  


لاہور(کامران مغل )میری بہن کو اس کی ساس ، سسر،نندوں ،دیور اور شوہر نے مل کر گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتاردیا،ملزموں نے ڈرامہ رچاتے ہوئے قتل کو حادثاتی موت قرار دیا کہ وہ بجلی کاکرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئی ہے ، ہمارے گھر کی خوشیاں چھیننے والے میری معصوم بہن کے قاتل ضمانتیں کرواکرکھلے عام دھندناتے پھر رہے ہیں ،پولیس بھی ظالموں سے مل گئی ہے جواپنی تفتیش میں شوہر،سسر اور دیور کو بے گناہ لکھ چکی ہے ۔گزشتہ 3سالوں سے عدالت سے انصاف کی امید لگائے بیٹھا ہوں۔عدالت تب انصاف دے گی جب زندہ نہیں رہوں گا؟پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میںکئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران تاج پورہ سکیم غازی آباد کے رہائشی سجاد علی نے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ اس کی بہن سمیرا شمشاد کی شادی ساندہ کے رہائشی محمد آصف سے ہوئی تھی ،شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی آصف نے میری بہن سے معمولی باتوں پر تلخ کلامی شروع کردی ،آئے روز گھریلو ناچاقی پر ان کا آپس میں جھگڑا رہتا ،بہنوئی کی جانب سے ہر بار میری بہن کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا لیکن اس کے باوجود کہ بہن کا گھر ہنستا بستا رہے ہم نے ہر بار ان کی آپس میں صلح صفائی بھی کروائی ۔متاثرہ شخص سجاد علی نے الزام عائد کیا ہے کہ 23مئی 2012ءکو گھریلو ناچاقی پر طیش میں آکر اس کے بہنوئی محمد آصف، سسر سعید احمد، دیور خالد ، ساس نسیم بی بی ، نندیں یاسین بی بی ، خالدہ اور عاصمہ نے مل کر میری بہن سمیرا کو پہلے گلا دبا کر قتل کیا بعد میں ڈرامہ رچایا کہ وہ گھر میں صفائی کررہی تھی کہ اچانک کرنٹ لگنے سے اس کی حالت غیر ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگئی تھی ،بعدازاں تحقیق کے پتہ چلا کہ مذکورہ ملزمان نے مل کر اس کی بہن کو قتل کیا ہے،بعد میں میڈیکل رپورٹ سے بھی ثابت ہوا کہ اسے گلا دبا قتل کیا گیا ہے جس کے بعدپولیس نے مذکورہ تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر656/12بجرم302/34تھانہ ساندہ میں درج کیا۔ مذکورہ مقدمہ میں اس وقت کے تفتیشی افسراے ایس آئی خالد محمود نے مبینہ طور پر ساز باز کر کے میری بہن کے قاتل شوہر محمد آصف، سسر سعید احمد اور دیور خالد کو اپنی تفتیش میں بے گناہ قرار دے دیا جبکہ دیگر تین خواتین کو گناہ گار ٹھہرایا ہے ،مقدمہ مدعی سجاد علی کا کہنا تھاکہ مقتولہ سمیرا شمشاد ان کے گھر میں تمام گھر والوں کی لاڈلی تھی ،ظالموں نے اسے قتل کرکے ہمارے گھر کی خوشیاں چھین لی ہیں ،آج بھی ملزمان ضمانتیں کروا کر دھندناتے پھر رہے ہیں ۔بہن کے قاتلوں کو ان کے کئی کی سزا ملے بس یہ ہی تمنا ہے ،متاثرہ شخص کا مزید کہنا تھا کہ آج اس کیس کی سماعت کو3برس بیت گئے ہیں ،ابھی تک ٹرائل ہی چل رہا ہے لیکن کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے ،عدالت سے انصاف کب ملے گا جب میں دنیا فانی سے کوچ کرجاﺅں گا۔مقدمہ مدعی کے وکلاءکا کہنا تھاکہ یہ کیس مختلف عدالتوں میں زیرسماعت رہا ہے جبکہ اب یہ کیس ایڈیشنل سیشن جج نسیم احمد ورک کی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن بدقسمتی سے اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔

مزید : لاہور


loading...