فرانس کے 1500 نوجوان جہاد کی غرض سے شام گئے،300مارے گئے،200قید ہوئے ۔۔۔

فرانس کے 1500 نوجوان جہاد کی غرض سے شام گئے،300مارے گئے،200قید ہوئے ۔۔۔
فرانس کے 1500 نوجوان جہاد کی غرض سے شام گئے،300مارے گئے،200قید ہوئے ۔۔۔

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی جنگی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے فر انسیسی وزیر داخلہ برنارڈ کازنیو نے کہا تھا کہ فرانس میں دہشتگردی کا خطرہ ہے لیکن اتنے بڑے لیول کی دہشتگردی کی کوئی بھی توقع نہیں کررہا تھا۔ فرانس میں بیک وقت چھ جگہوں پر دہشتگردی اور پیرس میں خود کش حملے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔گلوبل وارمنگ پر تیس نومبر سے شروع ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر دہشتگردی کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھااسی لئے فرانسیسی حکومت نے تیرہ نومبر سے تیرہ دسمبر کے درمیان سرحدیں سیل کرنے کافیصلہ کیا تھا لیکن اس سے قبل ہی اتنا خوفناک حملہ ہو گیا ۔مختلف ملکی وغیر ملکی نشریاتی اداروں سے نشر ہونے والے پروگراموں میں ماہرین کا کہنا تھا کہ فرانس کے پندرہ سوکے قریب نوجوان جہاد کی غرض سے شام گئے۔ ان میں سے تین سو کے قریب وہیں جنگ میںہلاک ہوئے جبکہ دو سو کے قریب جیلوں میں ہیں اور بقیہ ایک ہزار میں سے کچھ” جہادی“ فرانس میں واپس آگئے تھے جن کی نگرانی کی جارہی ہے اور کچھ شام میں آج بھی داعش کے ہمراہ لڑ رہے ہیں۔عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ دہشتگردوں کی کوشش تھی کہ کسی طرح اسٹیڈیم میں داخل ہوکر حملہ کرکے بڑی تباہی مچائیں مگر وہ اسٹیڈیم میں داخل نہ ہوسکے اور باہر ہی دھماکا کردیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ فرانس نے جنگی بیڑا شارل ڈیگال شام بھیجا ہے ایسے میں داعش کے ردعمل کیلئے تیار رہنا چاہیے تھا کیونکہ دوسروں کی جنگ میں کو دکر آپ خود بھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔

مزید : بین الاقوامی