ہر شعبے میں مافیا جو تبدیلی نہیں آنے دیتا،خراب کارکردگی پر اپنا تجزیہ خود کرتا ہوں :عمران خان

ہر شعبے میں مافیا جو تبدیلی نہیں آنے دیتا،خراب کارکردگی پر اپنا تجزیہ خود ...
 ہر شعبے میں مافیا جو تبدیلی نہیں آنے دیتا،خراب کارکردگی پر اپنا تجزیہ خود کرتا ہوں :عمران خان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کو بھارت میں ہرانے کا اپنا ہی مزا ہے،خراب کارکردگی پر اپنا تجزیہ خود کرتا ہوں۔ہر جگہ مافیا ہے جو تبدیلی نہیں آنے دیتا۔نجم سیٹھی کو دھاندلی کرنے پر تحفے میں کرکٹ بورڈ میں اہم عہدہ دیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ” دنیا نیوز“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے ماضی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے کبھی بھی کپتان بننے کی خواہش نہیں تھی۔واحد کپتان تھا جس سے دو بار کپتانی سے استعفیٰ دیا تھا۔کپتان کو آخری گیند تک کھیلنا چاہیے۔آج تو باﺅلر مشکل سے20اوور کرتے ہیں میں29اوور کیاکرتا تھا۔بھارت میں ایک سیریز میں40وکٹیں حاصل کیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایامیں ساتویں نمبر پر بیٹنگ کیاکرتا تھا لیکن ٹیم میں اچھے بلے بازوں کے چلے جانے پر مجبورا تیسرے نمبر پر آگیا اور ایک اچھا بیٹس مین ہونے بھی ثابت کیا۔ڈومیسٹک کرکٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا پاکستان جیسا ٹیلنٹ کہیں نہیں دیکھا لیکن ہمارے ہاں ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی سسٹم ہی نہیں،تمام ممالک میں6,6ٹیمیں ہیں ہمارے ہاں25ہیں۔پہلے خیبر پختونخواہ میں کرکٹ کو ٹھیک کروں گا۔ڈومیسٹک میں مافیا ہے جو سسٹم نہیں بنانا چاہتا۔محمد عامر کے بارے میں انہوں نے بتایا وہ سزا بھگت چکا،غلطی مان چکا، اب اسے کھیلنے دیا جائے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا نجم سیٹھی اور شہریار خان ایسے منہ اٹھا کربھارت چلے گئے،ہمیں وہاں سے بہت ذلت ملی۔انکی حکومت کی بھی انتہا پسند پالیسیاں ہیں۔پاکستان کو جان بوجھ کر پریشر میں رکھنا چاہتے ہیں۔اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ باکسر محمد علی جیسا کوئی کھلاڑی نہیں دیکھا وہ میرے فیورٹ سپورٹس مین ہیں۔محمد عرفانکے بارے میں انہوں نے بتایا اگر وہ میری کپتانی میں ہوتا تو اس اکیلے سے میچ جتوادیتا۔دیگر مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کپتان نے بتایا کہ میانداد بہت بڑا بیٹس مین تھا،ورزش کے بغیر آپ فٹ نہیں رہ سکتے،میں فٹ رہنے کیلئے ہاکی،سکوائش،سوئمنگ کھیلا کرتا تھا۔دنیا میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی سے کرکٹ میں بہت بہتری آئی ہے۔آخر میں انہوںنے کہا اپنے مقصد،اپنے خوابوں کے پیچھے جاﺅ،دنیاکی باتیں نہ سنو۔انہوں نے اپنی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا لوگ کہتے تھے ورلڈ کپ نہیں جیت سکتا،شوکت خانم ہسپتال نہیں بنا سکتا،نمل یونیورسٹی قائم نہیں کرسکتا،سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن میں نے سب کچھ کرکے دکھایا ہے۔

مزید : قومی