امریکی ادارے گلوبل سٹریٹجک کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف

امریکی ادارے گلوبل سٹریٹجک کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف
امریکی ادارے گلوبل سٹریٹجک کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف

  

امریکی تحقیقاتی ادارے سے گلو بل سٹریٹجک پارٹنر نے پاکستانی عوامی رائے پر مشتمل ایک قومی سروے جاری کیا ہے جس میں اہم معاملات کی درجہ بندی اور اگلے سال کے عام انتخابات جیسے معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے عام طور پر عوام میں سیکیورٹی ، امن و امان اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اطمینان پا یا گیا ہے، جبکہ ملک کی معاشی صورت حال ، لو ڈ شیڈنگ اور کرپشن کے معاملات پر عوام میں خدشات پائے گئے ۔

حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی عوام میں پانامہ سکینڈل پر ناراضگی پائی جاتی ہے، عوام نے سپریم کو رٹ کے فیصلے کی حمایت کی اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے استعفے کے فیصلے کو سراہا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) رائے شماری کے امتحان میں 38فیصد کے ساتھ سر فہر ست رہی پاکستان تحریک انصاف 27فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر اور پاکستان پیپلز پارٹی 17فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر رہی ۔

سروے میں محمد نو از شریف کے ممکنہ جانشین کے حوالے سے میڈیا میں زیر بحث ناموں پر بھی لو گوں سے رائے لی گئی ۔ پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف سب سے طاقتور امید وار اورمحمد نواز شریف کے ممکنہ جانشین کے طور پر پسندیدہ امید وارکی حیثیت سے سامنے آئے ۔

سیاسی رہنماؤں کی پسندید گی کے حوالے سے 65فیصد نے شہباز شریف ، نواز شریف 59،عمران خان 51،مریم نواز 49بلاول بھٹو 47،کلثوم نواز 41اور شاہد خاقان عباسی کو 39فیصد لو گوں نے پسند کیا۔

ممکنہ وزیر اعظم کے حوالے سے 60فیصد لو گوں نے شہباز شریف ،47فیصد نے عمران خان، 42فیصد نے مریم نو از اور 41فیصد نے کلثوم نو از کے بارے میں اپنی رائے دی ۔

شہباز شریف ، مریم نو از، اور کلثوم نو از کے وزیر اعظم بننے کے حوالے سے 55فیصد نے شہباز شریف ، 13نے مریم نو از اور 2نے کلثوم نو از کے حق میں رائے دی ۔

عمران خان اور شہباز شریف میں سے 53فیصد لو گوں نے شہباز شریف کو اچھا وزیر اعظم 39فیصد نے عمران خان کے حق میں رائے دی۔ مریم نو از اور عمران خان کے حوالے سے 42فیصد نے مریم نواز اور 46فیصد نے عمران خان کے حق میں رائے دی ۔

قومی اسمبلی کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے 38فیصد لو گوں نے کہا کہ مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے ۔ 27نے پی ٹی آئی ، 17نے پی پی پی ، 3فیصد ایم کیو ایم اور ایک فیصد نے دیگر جماعتوں کے حق میں ووٹ دینے کا کہا ۔

جبکہ پنجاب میں 58فیصد نے مسلم لیگ (ن)،23فیصد نے پی ٹی آئی ، 6فیصد نے پی پی پی اور ایک فیصد نے دیگر جماعتوں کو ووٹ دینے کا کہا ۔ سندھ میں 52فیصد نے پی پی پی ، 12فیصد نے مسلم لیگ (ن) ، 11فیصدنے ایم کیو ایم ، 2فیصد نے فنکشنل لیگ اور ایک فیصد نے دیگر جماعتوں کے حق میں ووٹ دینے کا کہا ۔خیبر پختونخواہ میں 62فیصد نے پی ٹی آئی ، 10فیصد نے مسلم لیگ (ن) ، 5فیصد نے اے این پی ، دو فیصد پیپلز پارٹی اور ایک فیصد نے دیگر جماعتوں کے حق میں ووٹ دینے کا کہا ۔ بلو چستان میں 33فیصد پی ٹی آئی ، 15فیصدنے مسلم لیگ (ن) ، 9فیصد نے پی پی پی ، 8 فی صد نے بی این پی، 6فیصد نے پی کے میپ کے حق میں ووٹ دینے کا کہا ۔

امریکی تحقیقاتی ادارے کے سروے میں عوام نے محمد نو از شریف کے جانشنین کے طور پر محمد شہباز شریف کو پسند کیا اور کارکر دگی کے حوالے سے بھی شہباز شریف کو فیورٹ قرار دیا اور ممکنہ نئے وزیر اعظم کے طور پر بھی شہباز شریف کے حق میں عوام کی اکثریت نے رائے دی ۔

اسی طرح چین کے دورے پر گئے پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے سینئر سفارت کا ر لی پنگ فو نے سی پیک کے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا 50منصوبوں میں سے 19منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل پر ہیں۔ انہوں نے ساہیوال کول پر اجیکٹ کی مثال دیتے ہو ئے کہاکہ یہ منصوبہ چین کے توقعات سے زیادہ تیزی کے ساتھ مکمل ہو ا ہے ۔

انہوں نے سی پیک کے منصوبوں کی تیزی سے اور بروقت تکمیل پر پنجاب حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سی پیک منصوبے تیزی سے تکمیل پا رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی پنجا ب ماڈل کی پیروی کریں گے ۔ چین کے سینئر سفارت کا ر کے خیالات سے ظاہر ہو گیا ہے کہ سی پیک کے تحت تیزی کے ساتھ تکمیل پانے والے منصوبوں کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجا ب محمد شہباز شریف کو جاتا ہے ۔

ملک اس وقت نازک صورت حال سے گزر رہا ہے اور کسی محاذآرائی کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ داخلی اور خارجی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ۔

شخصیات اہم نہیں ہوتیں ملک اہم ہو تے ہیں ۔ قومی لیڈر شپ کو ذات اور خاندان کے خو ل سے باہر نکل کر قوم اور ملک کے مفادات کو دیکھنا چاہے ۔ قوم ملک سے کر پشن کا خاتمہ چاہتی ہے اور احتساب چاہتی ہے لیکن احتساب کو ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے گزشتہ 70سال سے قومی وسائل لو ٹنے والوں کا احتساب کیا جائے ۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کے افکار کے مطابق ملک کو اسلامی فلاحی و جمہوری ریاست بنانے کے لیے سب کو کردار ادا کر نا چاہیے جہا ں پر عدل انصاف کا نظام قائم ہو جہاں پر طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہو جہاں پر اقربا پروری کا خاتمہ ہو جہاں پر میرٹ کا نظام ہو جہاں پر تعلیم اور علاج مفت ہو جہاں پر بیروزگاری کا خاتمہ ہو جہا ں پر امن قائم ہو ۔

مزید :

کالم -