اور کچھ پی آر او ہائر کر لیتے ہیں

اور کچھ پی آر او ہائر کر لیتے ہیں
اور کچھ پی آر او ہائر کر لیتے ہیں

  

سامنے زیادہ مسکراتے چہرے تھے ،کچھ سے شناسائی برسوں پرانی تھی ،مگر اس لمحے تو معانقے اور مصافحے میں بھی پانچ فٹ اونچا سٹیج حائل تھا اس لئے اظہار محبت اور مروت کچھ بھی ممکن نہ تھا ، ممکن ہے اس مشکل پر بھی قابو پا لیا جاتا، مگر منصورہ آڈیٹوریم میں اظہر اقبال حسن کے اشارے پر محبی محمد عمران ملک نے میزبان ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا اور فوراََمائیک میرے حوالے کر دیا،سننے والوں میں بہت سے چہرے نئے تھے اور بات سمجھنا بھی چاہ رہے تھے ،تعلقات عامہ کو شعبہ بنانے کا کام ہمارے ہاں نوے کی دہائی میں عام ہوا اس سے قبل اداروں ،سیاسی جماعتوں اور حکومتی سطح پر اہم ترین افراد خود ہی اس کا اہتمام کرتے ۔جنرل ضیا صاحب نے باقاعدہ اس فن کا استعمال کیا اور خوب کیا ان کی طرف سے دن بھر سرکاری کاموں کو نمٹانے کے بعدرات کے پہلے پہر سے لیکر آخری پہر تک فون کی گھنٹیاں ملک کے مختلف گوشوں میں بجا کرتیں ،وہ سیاسی زعما سے لے کر دینی راہنماوں سماجی کارکنوں،سابق بیوروکریٹس ہر اہم آدمی سے ذاتی اور شخصی رابطے میں رہتے ،اس معاملے میں ہمارے میاں نواز شریف کافی کمزور ہیں ،یہ اپنی بے نیازی سے بہت سے بنے بنائے تعلقات بھی خراب کر بیٹھتے ہیں حالانکہ جدہ بیٹھ کر ان کا رابطہ بہت موثر تھا،فون ،پیغامات ،ملاقاتیں اور دعوتیں ،ان کا سرو رمحل ہر روز نئے مہمانوں کا استقبال کرتا ،دسترخوان سجتا،مکالمہ ہوتا اور تعلقات کا ایک نیا باب کھلتا،یہ خوبی چوہدری برادران میں خوب رہی ہے ،وہ توتعلقات بنانے اور نبھانے میں سیاست دانوں میں ایک مثال سمجھے جاتے رہے ہیں ان کا دسترخوان ہمیشہ کھلا رہا۔

جناب آصف زرداری بھی اسی قبیلے کے خوشہ چیں ہیں ان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں بالکل متضاد رائے دی جاتی ہے ،کم ہی لوگوں کو ان کا مہمان بننے کا موقع ملا ہوگا وہ خود لاہور میں ہمیشہ سینیٹر گلزار کی مہمان بنا کرتی تھیں،ایک ہی گھرسے ایک ہی وقت میں تین سینیٹر بننے کا اعزاز اور مقام پانا کب آسان ہوتا ہے ،نوابزادہ نصراللہ خان اس حوالے سے مثالی نام ہے ،اکبر بگٹی کوئٹہ سے آکراواری لاہور میں مجلسیں سجایا کرتے تھے ،بلو چستان کے سابق وزیر اعلیٰ غوث بخش باروزئی نے اس روائت پر کام شروع کیا اور لاہور میں پذیرائی بھی پائی، مگر اس روائت کو برقرار رکھ نہ سکے ،صحافیوں میں مجیب الرحمن شامی کو جو عزت اور فضیلت حاصل ہے وہ ملک بھر میں کسی اور صحافی کے حاشیہ گمان میں بھی نہیں آسکتی، شائد ہی کوئی غیر ملکی مہمان ہوجو ملک میں آیا ہو اور ان کا مہمان نہ بنا ہو،خود صحافیوں کی میزبانی وہ ایسی محبت سے کرتے ہیں کہ ان سے اختلاف رکھنے والے بھی اس کے تعلقات کی زنجیر سے بندھے دیکھے ہیں ۔

ان کا حلقہ احباب سماجی خدمات سے سیاسی اور مذہبی ہی نہیں ادبی دائرے تک پھیلا ہوا ہے ،میں نے جناب اشفاق احمد سے بانو قدیہ تک کو ان کا ذکر محبت اور الفت سے کرتے دیکھا۔ جناب احمد ندیم قاسمی اور بعد میں جناب عطاالحق قاسمی کے دفاتر کی رونقوں کو میں تو اسی حوالے سے دیکھتا ہوں ، محمد طفیل کا نام بھی اسی دشت کے سیاحوں میں لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ،جمیلہ ہاشمی کے برعکس ان کی بہن سائرہ ہاشمی ایک مدت تک ادیبوں کی میزبانی اور رساول سے ان کی خدمت کرتی رہیں ۔ کچھ لوگ ہمیشہ دوسروں کے ہاں کھانے اور پینے کی وجہ شہرت رکھتے ہیں۔

بہاول پور سے تعلق رکھنے والی ادیبہ بشریٰ رحمنٰ صاحبہ نے سیاست اور ادب دونوں میں نام پایا ۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہواس کا حلقہ احباب نہ بڑھ سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا ہے اگر وہ صرف دعوتیں کھاتا رہے ،شہر لاہور میں پروفیشنل پی آر کے چند ہی ماہرین گزرے ہیں امرتسر جل رہا تھا والے خواجہ افتخار،پی ٹی والے غیاث الدین ،اورواپڈا والے رضی الدین شیخ جن کا لاہوری کھانوں کھابوں اور ہوٹلوں پر کالم بھی آیا کرتا تھا ، پاکستان میں پہلی بار فاسٹ فوڈ کا ذکر انہوں نے ہی کیا ، عابد علی ڈی پی آر تھے شہر میں کوئی بھی سماجی تقریب ان کے بغیر ادھوری ہی مانی جاتی تھی ۔ پی ٹی وی کے کرنٹ افیئرز کے سابق سربراہ فتخار مجاز کی دوستیاں اور تعلق بھی خوب یاد کئے جاتے ہیں ۔

شعبہ اشتہارات کے شریف وارثی اس شعبے میں بہت نامور تھے وہ کہا کرتے تھے کام کرنا اہم نہیں اس کو شاندار طریقے ے پیش کرنا اہم ہے ۔ایس ایم ظفر ایوب خان صاحب کے زمانے میں وزیر قانون رہے ،ان کے بعد کے ادوار میں وزیر رہنے والے بلاشبہ سینکڑوں میں ہوں گے، مگر ان کی پی آر آج بھی ان کو میدان سیاست اور صحافت میں اِن رکھتی ہے ۔

سنگ میل پبلی کیشنز کے نیاز احمد کی سادگی اور سمجھداری نے انہیں ادیبوں کی ترجیح اول بنائے رکھا وہ ان کی ضرورتوں اور عزت نفس کا بہت خیال رکھتے تھے ،ان کے صاحبزادے افضال احمد بھی باپ کے نقش قدم پر ہیں،پیپلز پارٹی کے سابق راہنما فرخ سہیل گوئیندی کا دفتر آج بھی لیفٹ سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا محبوب ٹھکانہ مانا جاتا ہے ،رائٹ کے لوگوں کے لئے یہ درجہ امیرالعظیم کی فیوچر وژن کے دفتر کو حاصل ہے۔

الخدمت کے سربراہ عبدالشکور کے وسیع تعلقات اور ان کی پذیرائی بھی ایک عمدہ مثال ہے،میرے لئے اصل حیرت کی وجہ جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالا علیٰ مودودی کے تعلقات اور ان کی کمال اثر پذیری ہے،ان کے عہد کے عالم ،جید وکلاء، صحافی، طلبہ جس جس نے بھی ان کی محفل میں شرکت کی وہ ان کا اسیر ہو گیا،شورش کاشمیری سے لے کر اے کے بروہی ،خالد اسحاق تک سبھی ان کی محبت کا دم بھرتے رہے ۔جماعت اسلامی کے بیشتر قائدین اس کو ایک غیر ضروری فعل ہی سمجھتے رہے ہیں ،ان کا خیال یہ رہا ہے کہ دعوت حق اور سچ ہے تو پھر کسی کے نخرے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے،میاں طفیل صاحب اور منور صاحب اسی نقطہ نظر کے قائل اور اپنی سادگی کے ساتھ اسی پر عمل پیرا تھے۔البتہ قاضی حسین احمد صاحب نے اس کی اہمیت کو پورے طور پر جانا ،یہ ان کے مزاج اور تہذیب کے بھی قریب تھا ، یہی وجہ ہے کہ ان کے جماعت سے فارغ ہونے کے بعد بھی ان کی عزت وقعت اور اہمیت میں کمی نہ ہو سکی ،سراج الحق صاحب نے کم عرصے میں اپنی فطری معصومیت ،ذہانت اور موثر روابط سے اپنا حلقہ اثر بہت بڑا کیا ہے، ان کے سامنے ہدف بہت واضح ہے وہ ہر صورت جماعت کی سیاسی کامیا بی کا جھنڈا سربلند کرنے کے آرزو مند ہیں ،مجھے لگتا ہے اب ان کو اپنی ٹیم میں ایک جوہری تبدیلی لے آنی چاہئے اور ،تمام مرکزی ذمہ داریوں پر اپنی سوچ سے ہم آہنگ ،نسبتاََ کم عمر ٹیم لانی چاہئے اور دعوت کے میدان میں اس تمام بزرگ قیادت کی صلاحیتوں کو مرکوز کر دینا چاہئے جو سیاسی طور پر کامیابی میں زیادہ لچسپی نہیں رکھتے ،وہاں زیادہ پی آر کی ضرورت نہیں ہوتی،ویسے تو مولانا طارق جمیل نے یہ متھ بھی توڑ دی ہے ،دینی راہنمائی پر فائز لوگوں کو بھی تعلقات بنانے اور نبھانے کا ملکہ ہونا چاہئے ۔

پبلک ریلیشن کا لفظ پہلی بار 1898ء میں استعمال ہوا ،شروع میں اس کے لئے صرف پبلسٹی اور صحافت سے وابستہ لوگوں سے تعلقات کو ہی کافی مانا جاتا تھا، 1982ء میں اس شعبے کو نئی تعریف دی گئی،جماعتوں ،اداروں ،نظریات ،خیالات ،خدمات اور پیداوار یا پراڈکٹس کو عوام میں قابل قبول بنانے کے عمل کو تعلقات عامہ کا نام دیا گیا ۔اشتہار سے بات تحائف،تعلقات ،سفیروں ،پروگراموں،دعوتوں ۔ڈائریوں اورذ اتی خوشیوں میں شرکت تک جا پہنچی ۔

جماعت کے صفدر چودہری صاحب کے کام اور تعلقات کی آج بھی مثال دی جاتی ہے ،لیاقت بلوچ صاحب نے بھی اس طرف بھرپور توجہ دی ہے، مگر مجموی طور پر بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

آج کی پی آر میں منصوبہ بندی ،تعلقات ،لوگوں کو انگیج کرنا،ان سے ملتے رہنا ان کی خوشی غمی میں ساتھ رہنا ،اپنا امیج بہتر کروانا،موثر لوگوں سے موثر رابطہ رکھنا، پی آر دفاتر میں نہیں دفاتر سے باہر کی جاتی ہے ۔

یہ ذمہ داری نہیں ایک طرز زندگی ہے ۔تعلق بنتا ہی تب ہے جب آپ بحث میں نہیں پڑتے ،روز کی خبروں اور کالموں پر تبصرے کرنے سے تعلق خراب ہوتے تو دیکھے ہیں بنتے نہیں۔شرکاء کو جب یہ بتایا کہ آج کی دنیا کا سب سے کامیاب انسان بل گیٹس کسی کو اچھا لگے یا برا اس کی ایک بات مزے کی ہے وہ کہتا ہے میرے پاس ایک ڈالر بھی بچا ہو تو اس کو پی آر پر خرچ کروں گا۔

سیاسی پی آر کا مطلب اپنی گڈ ول بنانا اور اسے بہتر کرنا ہے ،ان دنوں مسلم لیگ ن کی گڈ ول کا مسلہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ان کو شدت سے احساس ہونا چاہئے کہ میڈیا میں ان کی مینجمنٹ اور پی آر ہر آنے والے دن غیر موثر ہو رہی ہے اور غیر سیاسی قوتوں کی بڑھ رہی ہے میڈیا میں ان کے تعلقات دیکھ کر میں پہلی بار تو خود حیران ہی رہ گیا تھا واقعی سیاست میں کچھ لوگ پیدا ہی بڑے ہوتے ہیں ،کچھ وقت کے ساتھ عظمت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ پی آر او ہائر کر لیتے ہیں ۔

مزید :

کالم -