صنعتی اداروں کا زہریلا دھواں سموگ کا باعث

صنعتی اداروں کا زہریلا دھواں سموگ کا باعث

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ادارتی اعتبار سے محکمہ ماحولیات کی اہمیت کلیدی ہے کیونکہ اس شعبہ کا براہ راست تعلق ماحول کو صاف ستھرے بنانے کی صورت میں انسانی جانوں کے تحفظ سے ہے لہذا اس شعبہ سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ وہ تمام تر مفادات سے بالاتر ہو کر منصب کے احیاء کو مدنظر رکھتے ہوئے احساس ذمہ داری کا بھرپور عملی مظاہرہ کریں اور صحت عامہ کی بحالی کی راہ میں آلودگی کورکاوٹ بنے نہ ہونے دیں، اس سلسلہ میں اگر ترقی یافتہ ممالک کی انتظامی و ادارتی صورت حال پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے ہاں نہ صرف اپنی حکومتی ترجیحات میں محکمہ ماحولیات دیگر بہت سے محکمانہ جات کی نسبت کہیں بڑھ کر اہمیت طلب ہے بلکہ بجٹ میں بھی اس شعبہ کیلئے کثیر فنڈز مختص کئے جاتے ہیں البتہ محکمہ ماحولیات کو فنڈز اور مراعات کی فراہمی ہمارے ہاں بھی خاصی مناسب ہے مگر محکمہ سے وابستہ افسران و ملازمین امور ذمہ داری کی پوری طرح بجاآوری سے قاصر دکھائی دیتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق سال 2015 کے دوران دنیا بھر میں 90لاکھ افراد آلودگی کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جبکہ وہ ممالک جن میں آلودگی کے باعث یہ ہلاکتیں ہوئیں ان میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے جس کے 21.9فیصد شہریوں کی ہلاکتیں واقع ہوئیں جبکہ ملک کا تیسرا بڑا صنعتی سیکٹر ہونے کے باعث ضلع شیخوپورہ شدید متاثرہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پنجاب بھر کے دیگر اضلاع کی طرح شیخوپورہ میں بھی چھائی اسموگ کے انسانی صحت پرپڑتے برے اثرات کا تدارک ہوتا نظر نہیں آرہا اور نہ ہی محکمہ ماحولیات اس حوالے سے کوئی قابل ذکر اقدام اٹھا پایا ہے جس کے نتیجہ میں صنعتی آلودگی انسانی جانوں کے درپے ہے ، شہری مختلف امراض کا شکارہورہے ہیں مگر محکمہ ماحولیات کی مجرمانہ خاموشی بدستور جاری ہے اور عوامی سماجی حلقوں کا شدید احتجاج سامنے آنے کے باوجود اس اصلاح و احوال کی کوئی تدبیر سجھائی نہیں جاسکی ہے جبکہ سردی کی آمد کے ساتھ ہی گزشتہ برس کی طرح سموگ میں شامل صنعتی آلودگی کے مضر اثرات نے شہریوں کی صحت شدید متاثرہ کرنا شروع کردی تو پہلے سے صنعتی آلودگی کے ستائے شہریوں نے علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں کا رخ کرلیا،ایک محدود اندازے کے مطابق گزشتہ 10روز کے دوران سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں سانس ، آشوب چشم اور جلدی امراض میں مبتلا علاج کیلئے آنے والے مریضوں کی تعداد 1400سے زائد ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث شیخوپورہ میں قائم سینکڑوں صنعتی یونٹس کی انتظامیہ زہریلہ دھواں فضا میں تحلیل کرنے سمیت زہریلے کیمیکلز کے اخراج کا سلسلہ بے دریغ جاری رکھے ہوئے جو زیر زمین پینے کے پانی میں شامل ہو رہا ہے جس کے مضراثرات سے شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے تو دوسری طرف سڑکوں کنارے پھینکی گئی فیکٹریوں کی راکھ بھی اڑ کر ہوا میں شامل ہورہی ہے جس سے نہ صرف مقامی آبادیوں کے افراد بلکہ دور دراز کے علاقوں سے آئے مسافربھی سانس سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جبکہ محکمہ ماحولیات کی طرف سے اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث صورتحال دن بدن مزید تشویشناک ہوتی جارہی ہے ،ذرائع کے مطابق محکمہ ماحولیات کے بعض افسران و ملازمین فیکٹری مالکان سے بھاری رقوم بھتہ کے طور پر وصول کرکے انہیں انسانی صحت سے کھیلنے کی کھلی چھٹی دیئے ہوئے ہیں تو دوسری طرف مویشیوں کی جانیں بھی داؤ پر لگی ہیں اوراسی آلودگی کا اثر ہے کہ شیخوپورہ جیسے زرعی ضلع میں فصلوں کی کاشت کی شرح بھی ہر سال کم ہورہی ہے جس کے باوجود محکمہ ماحولیات کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعتی یونٹس کی انتظامیہ زہریلہ دھواں فضا میں تحلیل کرنے سمیت زہریلے کیمیکلز کے اخراج کا سلسلہ بے دریغ جاری رکھے ہوئے ہے ، البتہ گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ ارقم طارق کی طرف سے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے کسانوں کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ فصلوں کی باقیات کو ہرگز نذر آتش نہ کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی اس اعلان پر عملدر آمد ہوا بھی مگر اتنے چھوٹے پیمانے پر کہ اب تک خلاف ورزی کے مرتکب افراد میں سے صرف 15 کسانوں پر مقدمات درج کئے گئے ہیں مگر ماحولیاتی آلودگی کے مرتکب افراد کی فہرست خاصی طویل ہے اسی طرح سٹیل انڈسٹریز کیخلاف بھی کاروائی کرتے ہوئے 20یونٹس سیل کردیئے گئے جو ناگزیر کاروائیوں کا عشر اشیر بھی نہیں، دوسری طرف کسانوں کا موقف سامنے آیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو بڑھاوا دینے میں کسانوں کا حصہ ایک فیصد بھی نہیں ہے حقیقی ذمہ دار صنعتی یونٹس ہیں جو سالہا سال سے ماحولیاتی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں جس سے صنعتی علاقوں کے قرب و جوار میں واقع آبادیاں شدید متاثر ہیں اور صنعتی یونٹس سے اڑنے والی خاک رہائشی آبادیوں پر ہمہ وقت چھائی رہتی ہے جس سے سانس اور آنکھوں کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اوربچے و معمر افراد اس کا زیادہ شکار بن رہے ہیں ، ذرائع کے مطابق سڑکوں کے گرد پھینکی گئی صنعتی یونٹس کی ویسٹ اڑنے کے باعث سائیکل وموٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے افراد بھی حادثات کا شکار ہورہے ہیں جبکہ اس خوفناک صورت حال کے تدارک کی بجائے مبینہ طورپر محکمہ ماحولیات کے بعض افسران و ملازمین فیکٹری مالکان سے بھاری رقوم بھتہ کے طور پر وصول کرکے انہیں انسانی صحت سے کھیلنے کی کھلی چھٹی دیئے ہوئے ہیں اسی طرح آبی آلودگی میں کمی کیلئے بھی کسی طرح کے خاطر خواہ اقدامات نہ کئے جانے کے باعث بھی متعدد اقسام حیات ناپیدا ہوگئیں جن میں سے اہم مچھلی کی وہ نایاب اقسام ہیں جن کا وجود آبی آلودگی کے باعث ختم ہوا جبکہ نہایت قابل ذکر امرماحولیاتی آلودگی کے باعث پیدا شدہ مسائل کا انسانی زندگیوں پر مضر اثرات مرتب کرنا ہے جس کے تحت فضائی آلودگی شہریوں میں سانس ، دمہ اور جلدی امراض سمیت دیگر مختلف امراض پیدا کرنے کا موجب ہے تو آبی آلودگی کے باعث جلدی بیماریاں لاحق ہونے کا انکشاف ہوا ہے تاہم زمینی آلودگی کے باعث انسانی جسم کو لاحق ہونے والی بیماریوں کی تعداد غیر معمولی ہے اور زمینی آلودگی کی وجہ سے آلودہ ہونے والا زیر زمین پانی انسانی حیات کو شدید نقصانات سے دوچار کئے ہوئے ہے جبکہ ہمارے ہاں پائی جانیوالی آلودگی کے اسباب ہوا میں ٹرانسپورٹ انجنوں اور صنعتی مشینری سے نکلنے والا زہریلا دھواں، سڑکوں وگزر گاہوں پر اڑتا گردو غبار، فیکٹریو ں اور کارخانوں سے خارج ہونیوالے کیمیکل زدہ پانی، شہری و دیہی علاقوں میں پڑے کوڑے کرکٹ اور گندگی و فضلہ کے ڈھیر، مروجہ طریقہ سے ہٹ کر زرعی اجناس پر کیا جانے والا ادویاتی سپرے، کیمیکل زدہ اشیاء کی ری سائیکلنگ کا فقدان، پبلک مقامات اور رہائشی ایریاز میں کھلے نالے اور مین ہولز ، قریبی ندی نالوں میں گرایا جانیوالا شہری آبادیوں کا استعمال شدہ پانی اور پلاسٹک بیگز کو درست انداز میں تلف نہ کئے جانے سمیت دیگر عوامل شامل ہیں جبکہ دیگر شہروں کی نسبت ضلع شیخوپورہ میں ماحولیاتی آلودگی دوہرے نقصان کا موجب ہے چونکہ ضلع شیخوپورہ کراچی کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا صنعتی مرکز بن چکا ہے اور اس میں قائم سینکڑوں صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والا کیمیکل زدہ زہریلا پانی ٹریٹ کئے بغیرمقامی ندی نالوں میں گرایا جارہا ہے تو دوسری طرف کیمیکل زدہ مادہ بھی ریسائیکل یا’’ڈنپ‘‘ کئے بغیر فیکٹریوں کے اطراف میں پھینکا جارہا ہے اور بارشوں کی صورت میںیہ خارج شدہ مادے بہہ کر بارشی پانی کے ساتھ ہی زیر زمین چلے جاتے ہیں اور اس حوالے سے ذرائع کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ حالیہ ماحولیاتی رپورٹ میں بھی زیر زمین پانی کے مضر صحت ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے اور ندی نالوں کے پانی کو ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے جبکہ ایک زرعی علاقہ ہونے کے باعث شیخوپورہ کی زیادہ تر زرعی اراضی بھی آلودہ و کیمیکل زدہ مضر پانی کے استعمال کے باعث بھرپور کاشت سے قاصر ہوتی جارہی ہے اورپیداواری شرح کا سالانہ ہجم بھی بری طرح گر رہا ہے اور یہ تنزلی بدستور جاری ہے، اسی طرح مویشی بانی کا شعبہ بھی نہایت متاثر ہو رہا ہے اور پالتو جانوروں کے بیمار یوں کے باعث ہلاک ہونے کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے تاہم سب سے زیادہ نقصان دہ عنصر آلودگی کے باعث انسانی حیات کو مسائل لاحق ہونا ہے اور چونکہ یہ بات اظہر الشمس ہوچکی ہے کہ شہریوں کا لاحق بیماریوں کا بڑا حصہ فضائی، آبی اور زمینی آلودگی کا شاخسانہ ہے جو اب تک نہ صرف متعدد افراد کی جان لے چکی ہے بلکہ لاتعداد افراد کی زندگیاں گرہن زدہ کئے ہوئے ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے ستائے شہریوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے اور انہوں نے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے موجودہ محکمانہ افسران و ملازمین کو فارغ کرکے انکی جگہ ایماندار اور فرض شناس افسران کی تعیناتی ہنگامی بنیادوں پر عمل میں لائی جائے تاکہ فیکٹری مالکان کا قبلہ درست کرنے میں مدد مل سکے لہذا شہریوں کے اس جائز مطالبہ پر متعلقہ حکام بھی کان دھرتے ہیں یا نہیں یہ آئندہ بہت جلد واضح ہو جائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -