میرٹ پر ترقی دلانے کے لئے رات گئے تک فائلوں میں الجھے رہتے ہیں

میرٹ پر ترقی دلانے کے لئے رات گئے تک فائلوں میں الجھے رہتے ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سنئیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایڈمن لا ہور رانا ایا ز سلیم ایک پیشہ وارانہ اور محکمہ سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفسر ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر اور موثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کئے جاتے ہیں۔ لاہو پو لیس کے پر موشن اور شہدا فیملیز سروس کو کھڑا کرنے اور انکو موثر طریقے سے آپریشنل کرنے کا سہرا انہیں کے سر ہے۔ انگلش میں ماسٹر کرنے کے بعد انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس آف پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔انکا خیال ہے کہ آئی جی سے لیکر کانسٹیبل تک تمام پولیس افسران کو محکمہ کی عزت و وقار کوہروقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور آفسران اور ماتحتان میں اعتماد کی فضاہونی چاہیے۔ ماتحتان کو چاہیے کہ اپنے مسائل اپنے آفسران کو بیان کریں، ادھر اُدھرکی سفارشات ڈھونڈنے کے بجائے اپنے مسائل براہ راست اپنے افسران کو بتائیں اور افسران کو بھی چاہیے کے اپنے ماتحتوں کے مسائل ہر ممکن حد تک حل کریں۔ ایک ایسی فضاء ہونی چاہیے کہ پولیس ملازمین کوئی بھی غلط کام کرتے وقت یہ سوچیں کہ میرے اس عمل سے محکمہ اور میر ے افسران کی عزت پر حرف آئے گا اور ایسے کاموں سے باز رہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب دونوں کا انسانی سطح پر ایک دوسرے سے رابطہ ہواورآفسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ وقت گزاریں۔
روز نامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ 13امئی 1975 کو ضلع فیصل آبادمیں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد ایم اے انگلش کی ڈگر ی امتیازی نمبروں میں حاصل کی
2004میں پولیس سروس بطورِ اے ایس پی جائن کی اور 31ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں تربیت حاصل کی۔ 2004میں سی ایس اے اکیڈمی جبکہ2005میں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت رہے ۔ انکی پہلی پوسٹنگ 2005میں بطور اے ایس پی کراچی میں ہوئی، بعدمیں وہ پنجاب آگئے اور اے ایس پی ڈیفنس ر ہے ا ور پھر اے ایس پی چنیوٹ کیلئے انھیں تعینات کر دیا گیا۔ ایس پی کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انکی پہلی پوسٹنگ فیصل آباد میں ہو ئی ۔ فیصل آباد کے بعد ایس پی ما ڈل ٹاؤن لا ہو ر جبکہ بہتر کا کر دگی کی بنیاد پر انھیں ڈی پی او ساہیوال لگادیا گیا ۔ ساہیوال کے بعد ڈی پی او خا نیوال اور اس کے بعد ایس ایس پی انوسٹی گیشن لا ہوربھی رہے۔بطور ایس ایس پی انو سٹی گیشن ان کی کا کردگی مثالی رہی۔ اور اب وہ ایس ایس پی ایڈمن لا ہور کا م کر رہے ہیں۔
انسانی فطرت کا احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ ہمارے پاس ایسا کوئی فارمولا نہیں جس کی مدد سے جانچا جا سکے کہ کوئی انسان کن حالات میں کن عادات کا مالک ہوتا ہے ۔ یہاں وہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے پاس طاقت اور اختیار آ جائے تو ان کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہیں اللہ جتنی طاقت ، اختیار اور عزت سے نوازے ان کا سر اتنا ہی سجدے میں جھکتا چلا جاتا ہے ۔یقیناًایسے افراد کو ہی اشرف المخلوقات کا درجہ دیا جاتا ہے جو اللہ کی زمین پر اس کی جانب سے ملنے والے اختیارات کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہماری بیوروکریسی اور پولیس فورس میں ایسے مزاج کے حامل لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن اس خیال کی بنیاد کم علمی یا محض ایک دو کیس سٹڈیز پر رکھی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں عہدہ ، طاقت اور اختیارات خاص اللہ کی جانب سے تفویض کیا جاتا ہے اور جہاں جہاں ان کی ضرورت ہو وہاں وہاں ان کی ڈیوٹیاں لگتی ہیں ۔ بظاہر یہ سوچ عام زندگی میں حقیقت سے دور لگتی ہے لیکن تصوف کا علم رکھنے والوں کا یہی کہنا ہے کہ ہماری بیوروکریسی اور پولیس میں بھی بعض ایسی شخصیات موجود ہیں جن سے انسانیت کی خدمت کا کام لیا جاتا ہے ۔ آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ ان افسران کو عموما ایسے علاقوں یا سیٹ پر تعینات کیا جاتا ہے جس سے دیگر افسران بچنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر یہ ایسی پوسٹ ہوتی ہے جس پر کام کر کے انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے اور پھریہی منتخب افراد ایسی پوسٹ پر تعینات ہونے کے بعد شہریوں کی متعدد مشکلات دور کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دنیا کے نظام کے متوازی ایک ایسا ان دیکھا نظام بھی چل رہا ہے جہاں سے کی جانے والی تعیناتیوں کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے ۔ اس ان دیکھے نظام کی جس پر نظر کرم ہو جائے وہ انسانیت کی خدمت کے لئے چن لیا جاتا ہے ۔ لاہور کے شہری اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ان دنوں لاہور پولیس میں ایک ایسے ہی آفیسر تعینات ہیں جو اس معیار پر پورا اترتے نظر آتے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جانے لگا ہے کہ ان کی عاجزی اور عوام دوستی کی بدولت ان سے اللہ کوئی خاص کام لے رہا ہے ۔ اس آفیسر کا نام رانا ایاز سلیم ہے جو اس وقت ایس ایس پی ایڈمن کے طور پر متحرک ہیں ۔ وہ اپنے کام کی وجہ سے افسران کے منظور نظر بھی سمجھے جاتے ہیں اور ہر روز ہی ان کی کارکردگی کی تعریفیں بھی سننے کو ملتی ہیں لیکن دوسری جانب اتنا ہی وہ پولیس اہلکاروں کی ویلفئر اور شہریوں کی حفاظت کے لئے بھی متحرک نظر آتے ہیں ۔ عوامی حلقوں میں تو ان کی سیلفی کو بھی خاصی شہرت حاصل ہے جو وہ ہر بڑے مشن کی کامیابی پر شہریوں اور افسران کے ساتھ بناتے ہیں ۔ جس سے نہ صرف فورس کے اہلکاروں کا مورال مزید بلند ہوتا ہے اور نادیدہ خطرات سے ڈرنے کی بجائے مقابلہ کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے بلکہ شہریوں کا مورال بھی بلند ہوتا ہے اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ لاہور پولیس ان کی حفاظت کا واضح پیغام دیتے ہوئے اپنے مورچوں میں الرٹ ہے ۔ اکثر لوگ بھی ان فاتح سپاہیوں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر اپ لوڈ کرتے نظر آتے ہیں جس سے خوف کی فضا یکسر ختم ہو جاتی ہے ۔
ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم اب تک متعدد ایسے پراجیکٹس متعارف کروا چکے ہیں جنہوں نے نہ صرف پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیری ہیں بلکہ ان کے مسائل بھی حل ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہیں سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس کی جانب سے مکمل سپورٹ اور فری ہینڈ حاصل ہے ۔پولیس ویلفئر کے حوالے سے چند ہفتے قبل ہی ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا جس کی بدولت رانا ایاز سلیم کی پولیس فورس میں عزت مزید بڑھ گئی ہے اورپولیس اہلکار ان کا حوالہ دینے لگے ہیں کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو اس آفیسر کے ہوتے ہوئے ان کی فیملیز کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ہوا کچھ یوں کہ ایک شہید اہلکار کی بیوہ کو شدید مالی مسائل کا سامنا تھا ۔ ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ گھر میں راشن تک نہ رہا۔ ان کے پاس ایک آخری امید کے طور پر صرف ایک فون نمبر ہی بچا تھا ۔ انہوں نے اس نمبر پر رابطہ کیا اور صرف اتنا بتایا کہ ان کے گھر میں کھانے کے لئے راشن نہیں ہے جبکہ پیسے بھی ختم ہو چکے ہیں جس سے راشن خرید سکتیں ۔ یہ اتوار کا دن تھا اورسرکاری دفاتر میں چھٹی تھی۔ اس کے باوجود ان سے فوری طور پر رابطہ کیا گیا اور ایک آفیسر نے ذاتی حیثیت میں فوری طور پر انہیں راشن اور پیسے فراہم کئے اور کہا کہ دفتری معاملات بعد میں حل ہوتے رہیں گے لیکن یہ ممکن نہیں کہ میں کسی شہید کے اہل خانہ کو تکلیف میں دیکھ سکوں ۔ اس آفیسر کا نام رانا ایاز سلیم ہے اور خاتون نے جس نمبر پر رابطہ کیا تھا وہ رانا ایاز سلیم کا متعارف کرایا گیا ایک پراجیکٹ تھا جس کا نام ’’ویلفئر آئی‘‘ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے چند ماہ قبل ہی شہید پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کی سہولت کے لئے ویلفئر آئی کے نام سے ایک ایپ تیار کروائی تھی جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شہید کے اہل خانہ کو کوئی کام ہو تو وہ خود دفاتر کے چکر لگانے کی بجائے اپنا مسئلہ گھر بیٹھے ایک فون کال یا ایس ایم ایس کی مدد سے ویلفئر آئی کی ٹیم تک پہنچا دیں ۔ اس کے بعد لاہور پولیس از خود شہید کے اہل خانہ کے نمائندے کے طور پر وہ مسئلہ حل کرواتی ہے ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی ۔میں ایسے پولیس اہلکاروں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنے گھر والوں کو ایس ایس پی رانا ایاز سلیم کا نمبر لکھوا رکھا ہے کہ اگر دوران ڈیوٹی انہیں کچھ ہو جائے توگھر والے رانا ایاز سلیم کو فون کر لیں ۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ڈیوٹی کے دوران کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اگر ان کے گھر والوں کا رانا ایاز سلیم سے رابطہ ہو گیا تو ان کے تمام مسائل یہ آفیسر از خود اپنے ذمے لے کر ہنگامی بنیادوں پر حل کروا دے گا ۔
لاہور پولیس میں ایس ایس پی ایڈمن کوخاص طور پر پولیس اہلکاروں کی پروموشن کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ریکارڈ مدت میں ہزاروں اہلکاروں کی ترقیوں کو یقینی بنایا ہے ۔ یہ وہ اہلکار تھے جنہیں کسی قسم کی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ترقی کی کوئی امید نہیں تھی لیکن رانا ایاز سلیم نے دن رات لگا کر ان کے کیس مکمل کیے اور پھریکے بعد دیگر پروموشن بورڈ کے اجلاس بلائے اور ان تمام اہلکاروں اور چھوٹے افسروں کو ترقی دلوائی جن کے پاس اللہ کے سوا کوئی سفارش نہ تھی ۔ ان اہلکاروں کے لئے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ کوئی افسرکسی جان پہچان کے بغیر انہیں ان کی جائز ترقی دلوانے کے لئے رات گئے تک اپنے دفتر میں فائلوں میں الجھا رہتا ہے ۔پولیس اہلکاروں کی ویلفئر کے حوالے سے ایس ایس پی ایڈمن لاہور انتہائی حساس معلوم ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کئی اضافی کام بھی سر انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں عوامی اور صحافتی سطح پر سراہا جاتا ہے ۔ لاہور میں کرکٹ میچ کی سکیورٹی ہو یا محرم الحرام کے حوالے سے ریڈ الرٹ جاری ہوئی ہو ، ہم نے رانا ایاز سلیم کو ایسے ہر موقع پر دفتر چھوڑ کر سڑکوں پر دیکھا ہے ۔ عام طور پر ایسے حالات میں فیلڈ پوسٹنگ پولیس آفیسرز اپنے دفاتر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن رانا ایاز سلیم جو کہ فیلڈ پوسٹ پر تعینات نہیں ہیں وہ ایسے ہرموقع پر فائلوں کو میز پر رکھ کر سڑکوں پر چلے آتے ہیں اور سکیورٹی کے فرائض بھی نبھاتے ہوئے سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کے شانہ بشانہ کام کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس طرح سکیورٹی چیک کرنا بظاہر ان کی ذمہ داریوں کا حصہ نہیں ہے ، وہ اپنے دفتر میں رہیں تب بھی کوئی ان سے سوال نہیں کر سکتا کہ وہ دفتر میں کیوں تھے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں اپنی جان سے زیادہ شہریوں کی جان کی فکر ہے ۔شاید یہی وہ درد دل ہے جس کی وجہ سے اللہ نے بھی انہیں ایسی جگہ تعینات کیا ہے جہاں رہ کر وہ پولیس فورس کے اہلکاروں اور شہریوں کی خدمت کر تے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ کا اپنا ایک نظام ہے اور وہ پولیس اور بیوروکریسی میں سے بھی ایسے افراد کو منتخب کرتا ہے جن سے اس نے عوام کی خدمت کا کام لینا ہوتا ہے ۔ یقیناًایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم کا شمار ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے جن کی پروفیشنل تربیت میں درویش صفت آفیسر سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس کا بھی بہت اہم کردار ہے ۔

کیپشن تصویر۔ ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم ویلفیئر آئی ایپ کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں

کیپشن تصویر۔سی سی پی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد امین وینس اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم شہید کی بیوہ کو گھر کی چابی اور کاغذات دے رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -