مشترکہ مفادات کونسل ، نئی حلقہ بندیوں کیلئے قانون سازی پر اتفاق ، سندھ کا مردم شماری ریکارڈ چیک کرنے کا مطالبہ تسلیم

مشترکہ مفادات کونسل ، نئی حلقہ بندیوں کیلئے قانون سازی پر اتفاق ، سندھ کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے ہونیوالے اجلاس میں تمام جماعتیں ملک میں نئی حلقہ بندیوں کیلئے جلد قانون سازی پر متفق ہوگئی ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے سندھ حکومت کامردم شماری کاریکارڈچیک کرنے کا مطالبہ بھی تسلیم کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں تمام صوبوں کے و زرائے اعلی کاانتخابات وقت پرکرانے کا عزم کیا ہے۔وزیراعلی سندھ نے اس حوالے سے کہاکہ وفاق نے مردم شماری کاتمام ڈیٹاجاری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ مردم شماری کاایک فیصدتھرڈپارٹی سے چیک کرانے کاحق دیاگیاجس کے تحت کسی بھی ایک بلاک کی مردم شماری چیک کرائی جاسکتی ہے اگر اعدادوشمارمیں فرق آیاتووفاق اس کاازالہ کرے گا۔مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ تمام جماعتیں نئی حلقہ بندیوں کیلئے جلدقانون سازی کرنے پرمتفق ہیں اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے انتخابات وقت پرکرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اجلاس میں الیکشن کمیشن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانامشکل ہوگا لہٰذاحکومت حلقہ بندیوں کیلئے نئی ترمیم جلدمنظورکرائے۔ ادارہ شماریات کے حکام نے غیرملکیوں کا ڈیٹا جاری کرنے کیلئے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکیوں کی درست تعداد مردم شماری کے مکمل نتائج سے پہلے نہیں بتا سکتے۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ شکر ہے کہ حکومت کو دیر سے سہی لیکن بات سمجھ تو آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی اور آئینی موقف اپنایا اور نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل کی حمایت کریں گے۔خورشید شاہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل 2017 کی مکمل حمایت کریں گے۔
مشترکہ مفادات کونسل اجلاس

مزید :

صفحہ اول -