خواتین کیلئے صحت سہولیات آزادکشمیر میں بہتر ہیں،ناصرہ جاویداقبال

خواتین کیلئے صحت سہولیات آزادکشمیر میں بہتر ہیں،ناصرہ جاویداقبال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مظفرآباد (بیورورپورٹ) ویمن یونیورسٹی آزاد جموں وکشمیر باغ میں افکار اقبال کے عنوان پر سیمینار کا انعقاد،سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر ،وزیر جنگلات سردار میر اکبر ،جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال کی خصوصی شرکت ،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حلیم خان نے سیمینار کی صدارت کی،سیمینار میں جامعہ کی طالبات نے افکار اقبال کے موضوع پر مختلف پروگرامز پیش کیے،تقریب سے بہ طور مہمان اعزاز خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ میرے لئے آزاد کشمیر کی پہلی ویمن یونیورسٹی میں آنا اعزاز کی بات ہے جس پر میں وائس چانسلر کی مشکور ہوں ،انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی طالبات نے ایسے پروگرامات پیش کئے جو شاید لاہور کے کسی کالج میں بھی آج تک نہ دیکھے ، مجھے یہ جان کر بھی بڑی خوشی ہوئی کہ کشمیر کا شرح خواندگی پاکستان سے زیادہ ہے،خواتین کی صحت کی سہولیات آزاد کشمیر میں پاکستان کی نسبت بہتر ہیں اور مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال کا کشمیر کے ساتھ خاص لگاؤ تھا کیونکہ ان کے والدین پہلگام سے آ کر سیالکوٹ آباد ہوئے تھے۔علامہ اقبال کشمیر کی فروخت پر بہت غمگین تھے ، علامہ اقبال کی فکر کا مطلب بھیک مانگنا نہیں تھا جو ہم نے کر دیا ہے، پوری قوم کو کھربوں روپے کے قرضوں میں ڈال دیا ہے، ہم نے قوم کو خودی کے درس سے دور کر دیا ، ہم بیرون ملک سے لائی گئی اشیاء خوشی سے خریدتے ہیں اور اپنی اشیاء کو نظر انداز کر دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں موروثیت آ گئی ہے جس کو معاویہ نے متعارف کروایا اور یزید نے ایک سال کی شہرت پائی اور تاقیامت ضلالت اس کے حصے میں آئی جب کہ آج بھی امام حسین کا چہلم اسی آب وتاب سے جاری ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے بچوں کو تحریری وصیت کی تھی کہ آلِ محمد سے محبت رکھنی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ 2012میں بھارت میں ایک کانفرنس میں گیا اور خصوصی طور پر الہ آباد گیا جہاں وہ جگہ دیکھی جہاں خطبہ الہ آباد ہوا ، انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کو ایشیا ء کا ہر ملک کہتا ہے کہ ہمارے شاعر ہیں ،اقبال نے ہمیں ملک کا تصور دیا ،ایران ان کی تعلیمات کو کتابوں میں پڑھاتا ہے۔ علامہ اقبال عالمِ اسلام و انسانیت کا ایک اثاثہ ہیں جن کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر جنگلات سردار میر اکبر نے کہا کہ وائس چانسلر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے جسٹس ناصرہ جیسی ہستی کو باغ یونیورسٹی میں مدعو کیا جو ہم سب کے لئے باعثِ عزت ہے، حکومتِ آزاد کشمیر یونیورسٹی باغ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، یونیورسٹی کی ترقی میں مشکلات آئیں گی ،سیاستدان اپنی بھرتیوں کا بھی کہیں گے لیکن سرسید کی طرح منزل پانے کے لئے ہر مشکل کو برداشت کرنا پڑے گا ۔تقریب کے آخر میں وائس چانسلر نے اسپیکراسمبلی شاہ غلام قادر، جسٹس ناصرہ جاوید اقبال ، سردار میر اکبر خان کو شیلڈز پیش کیں، محترمہ ناصر جاوید اقبال کو خصوصی طور پر کشمیری شال پیش کی گئی جب کہ سپیکر اسمبلی کو بھی کشمیری شال و کشمیری ٹوپی بھی پیش کی گئی ۔