بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے مکالمہ ناگزیر ،ملکی آئین کے تحت آسیہ بی بی کو تمام حقوق حاصل ہیں:وزیر اعظم عمران خان

بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے مکالمہ ناگزیر ،ملکی آئین کے تحت آسیہ بی بی کو ...
بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے مکالمہ ناگزیر ،ملکی آئین کے تحت آسیہ بی بی کو تمام حقوق حاصل ہیں:وزیر اعظم عمران خان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئین کے تحت آسیہ بی بی کو تمام حقوق حاصل ہیں،بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے مکالمہ ناگزیر ہے، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے صدر انتونیو تاجانی نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا۔دوران گفتگو  وزیر اعظم نے ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے انفرادی بات چیت کے ساتھ ساتھ مکالمہ ناگزیر ہے۔یورپی پارلیمنٹ کے صدر انتونیو تاجانی نے آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کی حفاظت اور سیکیورٹی یقینی بنانے پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور وزیر اعظم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ نےآسیہ بی بی کے معاملے پر بحث ملتوی کر دی ہے اور یورپی پارلیمنٹ حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے صدر یورپی پارلیمنٹ سے کہا کہ حکومت آسیہ بی بی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے گی، پاکستانی ہونے کے ناطے آسیہ بی بی اور اس کے خاندان کو تمام حقوق حاصل ہیں۔وزیراعظم عمران خان نےگستاخانہ خاکوں پر حکومت اور پاکستانی عوام کے سخت تحفظات سے بھی صدر یورپی پارلیمنٹ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ خاکوں پر یورپی ممالک کو مسلمانوں کی مذہبی حساسیت سے آگاہی دی جائے اور یورپی ممالک کو گستاخانہ خاکوں جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنی کوششیں دگنی کی جانے چاہئیں ۔وزیراعظم نے حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے حضرت محمدﷺےگستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کیا اور زور دیا کہ یورپی ممالک اس طرح کے اشتعال انگیز واقعات سے بچنے کے لیے مسلمانوں کی مذہبی حساسیت، بالخصوص حضرت محمد ﷺ کی عزت و احترام کے لیے آگاہی بیدار کرنے کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں۔وزیراعظم عمران خان نے یورپی کورٹ برائے انسانی حقوق کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں گستاخانہ عمل کی اجازت نہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی ممالک، یورپی عدالت کے فیصلے پر عمل کریں گے اور ایک دوسرے کے مذہب اور بین المذاہب ہم آہنگی کے احترام کو بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں