آئی ایم ایف کی شرائط اور بڑھتی ہوئی مہنگائی

آئی ایم ایف کی شرائط اور بڑھتی ہوئی مہنگائی

آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا، یہ مذاکرات20نومبر تک جاری رہنے کا امکان ہے، وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے، آئی ایم ایف کو مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کے متعلق بتایا گیا، مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات، خسارے میں کمی اور ٹیکس آمدن بڑھانے کا جائزہ لیا گیا،اِس سلسلے میں حکام نے محصولات میں اضافے کا پلان پیش کیا۔ اجلاس میں بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور گردشی قرضے میں کمی کے لئے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا، مذاکرات کے مجموعی طور پر سات دور ہوں گے،جس کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج دینے کا فیصلہ کرے گا،جس کی مالیت6ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو گی۔

یہ فیصلہ تو حکومت نے بہت پہلے کر لیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لے گی،لیکن یہ راستہ بذریعہ سعودی عرب اور چین اختیار کیا گیا،یعنی پہلے اِن دو برادر اور دوست ممالک سے تعاون طلب کیا گیا، پہلے سعودی عرب کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد طے پایا کہ سعودی حکومت پاکستان کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں تین ارب ڈالر جمع کرائے گی، جس کی پہلی قسط ایک ارب ڈالر ہے، باقی رقم بھی غالباً دو اقساط کی شکل میں ملے گی۔اس کے بعد چین سے اس سلسلے میں رجوع کیا گیا اور واپسی پر وزیراعظم سمیت وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ نے خوشی خوشی اعلان کیا کہ چین نے بھی پاکستان کو خوش کر دیا ہے،تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چین سے پاکستان نے کیا مانگا اور جواب میں اُس نے کیا عطا کیا۔ البتہ یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ چین کی خواہش یہ ہے کہ اِس سلسلے میں معاملات خفیہ رکھے جائیں۔ عین ممکن ہے یہ اطلاع بھی پاکستان کو براستہ آئی ایم ایف ہی ملے کہ چین کے ساتھ کیا معاملہ طے ہوا ہے،کیونکہ ہمارے حکمران جو بات عوام اور پارلیمینٹ سے خفیہ رکھنا چاہتے ہیں وہ آئی ایم ایف کو بتانے پر شاید مجبور ہوں،کیونکہ اس نے تو کسی پیکیج سے پہلے چینی قرضوں کی تفصیل پہلے ہی طلب کر رکھی ہے۔پاکستان جب یہ تفصیل آئی ایم ایف کو دے گا تو کسی نہ کسی طریقے سے یہ اطلاع پاکستان کے عوام کو بھی مل ہی جائے گی،اِس لئے بہتر تو یہی تھا کہ خود حکومت اس معاملے کو خفیہ نہ رکھتی۔

وزیراعظم عمران خان جب برسر اقتدار آنے کی جدوجہد کر رہے تھے تو سابق حکمرانوں کو اِس بات پر مسلسل رگیدتے رہتے تھے کہ وہ عوام کو سچ نہیں بتاتے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کرتے تھے کہ وہ جب وزیراعظم بنیں گے، تو عوام سے کچھ نہیں چھپائیں گے،لیکن اب وہ خود بھی بہت سے دوسرے امور کی طرح اِس معاملے میں بھی سابق حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چل کھڑے ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ بات بھی صاف طور پر نہیں بتائی گئی کہ دراصل آئی ایم ایف سے کتنا قرض مانگا گیا۔ اِس سلسلے میں مختلف قسم کی رقوم گردش کر رہی ہیں،کبھی پانچ ارب ڈالر، کبھی چھ ارب ڈالر اور کبھی اس سے بھی زیادہ رقم بتائی جا رہی ہے،جب سعودی عرب کے ساتھ معاملہ طے نہیں ہوا تھا، اُس وقت تو آئی ایم ایف کے ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان15ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کا خواہاں ہے،اب شاید کم کا طلب گار ہے۔

آئی ایم ایف جب بھی کوئی پیکیج دیتا ہے اپنی شرائط بھی عائد کرتا ہے،عام طور پر بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں،لیکن آئی ایم ایف شاید مزید اضافے کا خواہاں ہے،اس طرح سبسڈی بھی کم کی جا رہی ہے، بجلی کے جو نرخ اِس وقت مقرر ہیں وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور لوگوں کی آمدنیوں کا ایک بڑا حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، آئی ایم ایف اضافے کا جو مطالبہ کرتا ہے اس میں مخصوص پاکستانی حالات کو پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا، جہاں لوگوں کی آمدنیاں بہت معمولی ہیں، بجلی کے لائف لائن صارفین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے،جو بمشکل بجلی کا بِل ادا کر پاتے ہیں اگر اِن کے لئے بھی سبسڈی ختم کر دی گئی تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا ایسے صارفین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے،لیکن آئی ایم ایف کو تو یہ یقین دہانی درکار ہوتی ہے کہ اِس کا دیا ہوا قرضہ وقتِ مقررہ پر واپس آئے اور وہ واپس کرنے کے سلسلے میں کسی مُلک کی استعداد کو پیشِ نظر رکھتا ہے اِسی لئے وہ عموماً یوٹیلٹی بلوں کی قیمت بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے،کیونکہ یہی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

بجلی گیس اور پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد قیمتوں میں اضافے کا جو چکر چلا ہے اس نے لوگوں کی مشکلات میں ناقابلِ بیان اضافہ کر دیا ہے،جس کی وجہ سے حکومت بھی نکتہ چینی کا ہدف بنی ہوئی ہے،وزراء اِس ضمن میں اپنا اپنا راگ الاپتے چلے جا رہے ہیں کہ غریبوں کے لئے قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، حالانکہ قیمتوں میں جس شرح سے اضافہ ہوا ہے اس سے غریب تو غریب اچھے خاصے متوسط طبقے کے لوگ بھی بلبلا اُٹھے ہیں اور تنخواہ دار طبقہ اس سے خصوصی طور پر متاثر ہو رہا ہے،آنے والے دِنوں میں اس سلسلے میں مزید اضافے کے جو خدشات ہیں اس سے بھی پریشانی کی لہر آئی ہوئی ہے، لیکن حکومت نے پہلے تو معاشی بحران کا رونا رویا اور جب سعودی عرب اور چین سے قرض مل گیا تو اس پر اظہارِ مسرت کرتے وقت یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ معاشی بحران ختم ہو گیا ہے،حالانکہ حکومت بحران کو جس نقطہ نظر سے دیکھتی ہے عوام اس پہلو سے نہیں دیکھتے۔وہ تو معاشی بحران سے اِس لئے بھی پریشان ہیں کہ اس کی وجہ سے مہنگائی کی جو لہر آئی ہے اس نے اُن کی آمدنی کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا ہے،انہیں جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کرنی پڑتی اور پھر بھی اسے پاؤں پھیلانے کے لئے پوری چادر میسر نہیں، اِس لئے ضروری ہے حکومت آئی ایم ایف سے جو پیکیج لے رہی ہے اس کے کچھ اثرات عوام کی بہتری پر بھی پڑنے چاہئیں، ایسا نہ ہو کہ عوام تو مہنگائی کے چکر میں پھنسے رہیں اور پیکیج کا فائدہ ایک بار پھر اشرافیہ اٹھا لے جائے۔

مزید : رائے /اداریہ