اب ٹیم ورلڈ کپ کی تیاری کرے

اب ٹیم ورلڈ کپ کی تیاری کرے

دوبئی میں ہونے والی غیر معمولی بارش کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ سے سیریز جیتنے میں کامیابی حاصل نہ کر سکی حالانکہ اس میچ میں بلے بازوں کی اچھی بیٹنگ کے باعث ہدف بھی ایسا تھا کہ جیت کی پوری توقع تھی، بقول میڈیا شاہینوں کو ٹاس جیتنے کی وجہ سے پہلے کھیلنے کا موقع مل گیا اور ابتدا بھی اچھی ہوئی کہ فخر زمان اور حفیظ نے 64 رنز کا آغاز فراہم کر دیا، اس مرحلے پر حفیظ بدقسمتی سے فرگوسن کی گیند پر ہٹ وکٹ ہو کر بولڈ ہو گئے وہ بیک فٹ پر کھیلنے گئے بال مس ہو گئی لیکن ان کا بایاں پاؤں وکٹ کو چھو گیا جس سے بیل گر گئی اور تھرڈ امپائر نے ٹی وی فوٹیج چلا کر آؤٹ دے دیا، انہوں نے اس وقت تک 19 رنز بنائے تھے۔ اس کے بعد بابر اعظم اور فخر زمان نے سکور سنبھالا، فخر 66 رنز تک پہنچ کر آؤٹ ہوئے ان کے بعد حارث سہیل آئے اور اس بار وہ جم کر کھیلے بابر اعظم کا ساتھ دیا اور 60 سکور کئے۔ بابر اعظم ایک مرتبہ پھر نروس نائٹٹیز کا شکار ہو گئے اور حوصلہ رکھنے کی بجائے بڑی شارٹ کھیلنے لگے اور کیچ آؤٹ ہو گئے۔ باقی کھلاڑیوں نے اپنا تھوڑا، تھوڑا حصہ ڈالا اور پچاس اووروں میں ٹیم 8 وکٹ پر 279 رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ یوں نیوزی لینڈ کو 280 کا ایک بڑا ہدف ملا، جو پاکستان کی اچھی باؤلنگ کے باعث ذرا مشکل نظر آ رہا تھا۔ تاہم بارش نے میچ بھی دھو ڈالا کہ گزشتہ چند دنوں میں خلیج میں غیر معمولی بارشیں ہوئی تھیں۔ نیوزی لینڈ ٹیم اپنا جارح اوپنر منرو کھو کر 6.5 اوور میں صرف 35 رنز بنا سکی تھی کہ بارش نے آ لیا۔ تیز بارش نے باقی کھیل ختم کر دیا اور پاکستان کی جیت کا موقع نکل گیا۔ جو سات سال بعد ملا تھا کہ اتنے عرصہ سے پاکستان والے نیوزی لینڈ سے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی کوئی سیریز نہیں جیت سکا، جبکہ حال ہی میں ٹی 20 میں تینوں میچ جیت کر وائٹ واش کیا تھا اور ایسا بارہویں سیریز میں ہوا کہ اس سے پہلے پاکستان کو ہی شکست کا سامنا رہا۔ پاکستان اور اس حوالے سے ہماری ٹیموں اور کھلاڑیوں پر اللہ ہی کا کرم ہے کہ ایک کے بعد ایک کھلاڑی مل جاتا ہے۔ محمد عامر آؤٹ آف فارم ہوئے تو ٹیسٹ میں محمد عباس اور اب محدود اووروں کے دونوں فارمیٹ میں شاہین آفریدی مل گئے جن کی کارکردگی پہلے میچ کے بعد ہی سے نکھرتی چلی آ رہی ہے اسی طرح فخر زمان اتار چڑھاؤ کے باوجود قیمتی اثاثہ بن گئے۔ حفیظ کو مکی آرتھر کی ناپسندیدگی کے باوجود موقع ملا تو انہوں نے اپے تجربے سے اہلیت ثابت کر دی۔ تاہم اب بھی نوجوان کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ابھی ورلڈ کپ اگلے سال ہونا ہے۔ چیف کوچ، کپتان اور چیف سلیکٹر کو بھی اپنے رویئے میں تبدیلی لانا ہو گی۔ پسند نا پسند کی بناء پر کامران اکمل ، عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسے کھلاڑیوں کو جبراً باہر کر کے ان کا کیریئر ختم کردیا اور اب محمد عامر کی باری آ گئی کہ نیوزی لینڈ سیریز میں بالکل نظر انداز کیا گیا۔ یہ رویہ درست نہیں۔ یہ بجا کہ وہ آؤٹ آف فارم رہے۔ اہم کھلاڑیوں نے تشویش بھی ظاہر کی۔ اس کے باوجود ان کی اہلیت تو ختم نہیں ہوئی اس لئے صاف باہر کر دینا درست نہیں۔ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی وکٹوں پر ان کی ضرورت ہو گی۔ سمجھانے کے لئے اتنی سزا کافی ہے انہیں خود بھی اپنی فکر کرنا ہوگی۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی زرخیز والی بات ہے۔ یہاں بہت ٹیلنٹ موجود ہے توجہ کی ضرورت ہے جس کے لئے ذاتی پسند نا پسند اور تعصب کی عینک اتارنا ہوگی۔ اس کے علاوہ شاہین آفریدی اور شنواری جیسے کھلاڑیوں کی مقابلوں کے بعد تربیت کرنا ضروری ہے اور خصوصی کیمپ لگائے جانے چاہئیں تاکہ بیٹنگ، باؤلنگ بھی بہتر ہو جائے کپتان سرفراز کو خود پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ خوش قسمتی ساتھ دے تو ٹیم کی کارکردگی کپتان کے لئے بہتر ثابت ہوتی ہے تاہم ان کو خود مثال بننا ہوگا۔ بہتر ہے کہ اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ پر بھی توجہ دیں۔ بہر حال جیت مبارک یہ بھی بہت ہے کہ بارش نے کام خراب کر دیا ورنہ۔۔۔!

مزید : رائے /اداریہ