پنجاب یونیورسٹی کا المیہ

پنجاب یونیورسٹی کا المیہ
پنجاب یونیورسٹی کا المیہ

  

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمدنے پنجاب یونیورسٹی کو ایشیا کی نمبرون یونیورسٹی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر نیاز احمد کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو ڈاکٹر نیازاحمد یونیورسٹی کو حقیقی معنوں میں دنیا کی نمایاں ترین یونیورسٹی بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ان کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کی قابلیت، ذہانت اور خلوص نیت پر شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا مگر وہ ایک ایسی یونیورسٹی کو دنیا کی نمایاں یونیورسٹی بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں جس کے سابق وائس چانسلر جناب مجاہد کامران کے خلاف نیب میں مقدمات زیرتفتیش ہیں۔

ان کو اور ان کے ساتھ چار پروفیسروں کو جس طرح ہتھکڑیاں پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا، اس پر ہر سطح پر دکھ کا اظہار کیا گیاہے۔ ڈاکٹر نیازاحمد ایک ایسی یونیورسٹی کی قیادت کر رہے ہیں جو 14اکتوبر 1882ء کو تقریباً 136سال قبل قائم ہوئی تھی۔ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط اس یونیورسٹی نے پاکستان کے لئے بے پناہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں آپ کی جن پاکستانیوں سے ملاقات ہو گی ان کا کسی نہ کسی انداز سے پنجاب یونیورسٹی سے تعلق ہو گا۔ ڈاکٹر نیاز احمد کو گویا یونیورسٹی کی ترقی کے اوکھے اور لمبے پینڈے طے کرنے ہیں اوراس کی تحقیقی اور علمی کاوشوں کا معیار بلند کر کے دنیا سے بھی منوانا ہے۔

برصغیر کی تاریخ میں 1857ء کے سال کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس سال جنگ آزادی ہی نہیں لڑی گئی تھی جسے انگریز غدر یا بغاوت کا نام دیتے ہیں بلکہ اس سال برصغیر میں تین بڑی یونیورسٹیاں بھی قائم کی گئی تھیں۔ یہ کلکتہ یونیورسٹی، مدراس یونیورسٹی اور بمبئی یونیورسٹی تھیں۔ برصغیر میں انگریزی راج کی طرح انگریزی تعلیم بھی خلیج بنگال کے ساحلوں سے داخل ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ الہٰ آباد، بنارس، علی گڑھ، دہلی جیسے شہروں میں یونیورسٹیاں قائم کرتے کرتے لاہور تک پہنچی۔انگریزوں نے سب سے پہلے بنگال کو فتح کیا تھا اور کمپنی کی حکومت نے سب سے زیادہ لوٹ کھسوٹ بھی اسی صوبے میں کی تھی۔

انگریز کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے بنگال میں متعدد مرتبہ قحط پڑا۔مگر کلکتہ یونیورسٹی نے تعلیم کے فروغ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا۔ بنگالی ہندوؤں نے متعدد تعلیمی شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کلکتہ یونیورسٹی میں رابندرناتھ ٹیگور سمیت چار نوبل انعام یافتہ اساتذہ تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی سے چونکہ بنگالیوں نے زیادہ فائدہ اٹھایا تھا اس لئے جب انگریزوں نے انتظامی شعبوں پر ہندوستانیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تو سرسید نے اس پر احتجاج کیا تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان عہدوں پر ہندوؤں کا غلبہ ہو جائے گا جنہیں وہ بنگالی بابوؤں کانام دیتے تھے۔

برصغیر میں انگریزوں نے جس تعلیمی نظام کا آغاز کیا تھا اس کی بنیاد لارڈمیکالے کی پالیسیاں تھیں۔ لارڈ میکالے برصغیر میں ایک ایسا نظام تعلیم لانا چاہتا تھا جس کے ذریعے وہ کالے انگریز پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ یہاں جو دیسی انگریز پیدا کر ے گا وہ برطانوی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ مگر برطانوی دانشور مائیکل ایڈورڈز نے لارڈ میکالے پر کھل کر تنقید کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ لارڈ میکالے ہی تھا جس کی وجہ سے انگریزوں کو ہندوستان سے رخصت ہونا پڑا۔ وہ یہ دلیل دیتا ہے کہ جن لوگوں نے ہتھیار اٹھائے برطانوی حکومت نے انہیں کچل کر رکھ دیا مگر لارڈمیکالے کے نظام تعلیم نے جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلم تھمائے انہوں نے انگریزوں کو برصغیر سے رخصت ہونے پر مجبور کیا۔

اس کا خیال ہے کہ جب آپ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیتے ہیں تو ان پر کسی انداز سے یہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ کیا پڑھیں گے اور پھر کیا لکھیں گے؟ جہاں تحریک آزادی میں حصہ لینے والے مسلمانوں میں علی گڑھ اور دیگر مسلمان تعلیمی اداروں کے افراد نمایاں نظر آتے ہیں وہاں ہندوستانی سیاست میں کلکتہ یونیورسٹی، مدراس یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والوں نے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ برصغیر میں انگریزی تعلیم نے سیاسی شعور پیدا کیا اور قومی درد سے بھی آگہی ہوئی۔ مگر اس میں شبہ نہیں ہے کہ انگریزی تعلیم نے بہت سے مسائل بھی پیدا کئے۔ 1860ء کے عشرے میں پنجاب کے ایک گورنر نے اپنے ایک مراسلے میں بتایا کہ اس صوبے میں جو بچے انگریزی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کے متعلق یہ شکایت پیدا ہو رہی ہے کہ وہ بدتمیز ہو رہے ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد انگریز رخصت ہو گئے مگر ان کے دور اقتدار کے دو تحفے اب بھی ہماری قومی زندگی کا حصہ ہیں۔ برصغیر میں خوبصورت وہ ہے جس کا رنگ انگریزوں کی طرح گورا ہے۔ آج بھی مائیں اپنے بیٹوں کے لئے میم جیسی گوری بہو تلاش کرتی ہیں۔ آج بھی برصغیر میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ رنگ گورا کرنے والی کریمیں فروخت ہوتی ہیں کیونکہ اکثر لڑکیاں اور بعض لڑکے رنگ گورا کرنے کے جنون میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس وقت لوگوں کو باقاعدہ صدمہ ہوتا ہے جب انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی کالی لڑکی کو مس ورلڈ کا ٹائٹل ملا ہے، یعنی اس کا مطلب ہے کہ وہ کالی لڑکی اس سال کی دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے۔

اسی طرح ذہین اور قابل ہونے کا مطلب ہے کہ آپ انگریزی بہت اچھی طرح بول سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ حقیقت ہضم نہیں ہوتی کہ بہت سے ایسے لوگوں کو بھی نوبل پرائز ملا ہے جو انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتے تھے۔ انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل ہونے کے بعد آج بھی علمی اور جسمانی طور پر ہم انگریزی معیارات کے غلام ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ علم کا بڑا خزانہ انگریزی میں ہے۔ مگر انگریزی کو انگریزوں جیسے انداز میں لکھنے اور بولنے کے جنون سے صرف برصغیر میں ملاقات ہوتی ہے۔ ایم جے اکبر نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ بھٹو صاحب نے خالد حسن سے دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ برصغیر میں انگریزوں کی سب سے بڑی ناکامی کیا تھی؟ خالد حسن کے نفی میں جواب پر بھٹو نے کہا کہ انگریز اپنے دوسو سالہ دوراقتدار میں ایک ہندوستانی کو بھی درست انگریزی سکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات وزارت خارجہ کے ایک لیٹر کو پڑھتے ہوئے کہی تھی جو انہیں منظوری کے لئے بھجوایا گیا تھا۔

جدید دنیا میں انگریزی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ایک مرحوم دوست کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں طالب علم متاثر انگریزی سے ہوتے ہیں، سمجھتے اردو میں ہیں اور یاد پنجابی میں رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کی زبان وہ ہوتی ہے جس میں آپ خواب دیکھتے ہیں۔ اسی زبان میں آپ کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہی نہیں ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں انگریزی، اردو اور پنجابی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کے ہاں رسائی کے لئے عربی بھی ہمارے لئے لازم ہوتی ہے۔ مختلف قومی امور میں کنفیوژن کی ایک بڑی وجہ چار زبانوں پر دسترس کی ضرورت کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ماہر تعلیم خاتون اصرار کر رہی تھیں کہ پاکستان میں انتہائی مہنگے تعلیمی ادارے جو تعلیم دے رہے ہیں ان سے فارغ التحصیل ہونے والوں میں صرف لندن یا نیویارک کے میکڈانلڈ یا کے ایف سی جیسے ریستورانوں میں ویٹر کی نوکری کی صلاحیت ہوتی ہے۔

ان سے کسی انتظامی، سائنسی، تحقیقی یا علمی کمالات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کا اصرار تھا کہ باقاعدہ تحقیق ہونی چاہیے کہ ان انتہائی مہنگے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم زندگی میں کیسی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں ایسی کوئی تحقیق نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس سے ان اداروں کی کارکردگی سامنے آئے گی اور ان کے کاروباری مفادات متاثر ہوں گے۔ خرابی انگریزی اداروں تک ہی محدود نہیں ہے۔ اردو میڈیم کے بچوں کو اردو نہیں آتی۔ اکثر ٹیلی ویژن چینلوں پر اینکر حضرات اردو کے ساتھ مذاق کرتے کرتے خود مذاق بن جاتے ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے نیک ارادوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ارباب اختیار کو ان اداروں پر بھی توجہ دینا ہو گی جن میں طلبہ ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر ان اداروں کا تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو گا تو پھر ڈاکٹر نیازاحمد جیسے درددل رکھنے والے لوگوں کی کاوشوں کے متعلق زیادہ پرُامید ہونا خاصا مشکل ہو گا۔

مزید : رائے /کالم