مسائل حل ہوں تو کس طرح؟

مسائل حل ہوں تو کس طرح؟
مسائل حل ہوں تو کس طرح؟

  

مسائل تو بہت ہیں، مگر ان کے حل ہونے میں رکاوٹیں حائل ہیں اور مسائل بظاہر ملکی لگتے ہیں، لیکن ہیں یہ عالمی۔ مثال کے طور پر سب کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جاسکتا ہے، مگر ملٹی نیشنل کمپنیوں سے پانی کون خریدے گا، اس سے منافع کے نام پر لوٹ مار اور کمیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ہمارے ملک کے تقریباً 80فیصد دیہاتوں، قصبوں اور شہری علاقوں کے بیشتر حصوں میں بیت الخلاء نہیں ہیں، لوگ رفع حاجت کے لئے جھاڑیوں، پہاڑوں یا میدانوں کا رخ کرتے ہیں، اگر اس طرف حکمران توجہ دیتے تو عوام کی مشکلات کافی حد تک کم ہوسکتی تھیں، لیکن آئی ایم ایف سے قرضے لے کر بڑے بڑے اور غیر ضروری منصوبوں پر لگائے جارہے تھے، جس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا ، مگر ہمارے حکمرانوں نے اسی طرح کے کام کئے۔ اس لئے کہ عوام کے فائدے والے کاموں کی اجازت آئی ایم ایف والے نہیں دیتے ہوں گے اور حکمرانوں کی کمیشن بھی نہیں بنتی ہوگی ۔

ہمارے ملک میں مشروبات کے لئے بے شمار پھل ہیں، ہم چاہیں تو مقامی فیکٹریوں میں پھلوں کے مشروبات تیار کرسکتے ہیں، مگر غیر ملکی کمپنیوں کا کیا ہوگا، جو بااختیار لوگوں کو کمیشن دے کر اپنا کام کر رہی ہیں۔ وہ اربوں روپے عوام سے بٹور رہے ہیں اور زرمبادلہ باہر بھیج رہی ہیں، ڈالروں کی شکل میں۔ پاکستان میں زراعت کی سب سے زیادہ پیداوار روئی کی ہے اور ہم روئی کی مصنوعات بڑھانے کی بجائے روٹی برآمد کر دیتے ہیں، اگر ہم بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل ملیں اور فیکٹریاں قائم کریں تو لاکھوں محنت کشوں کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے اوربے روزگاری پر کنٹرول ہوسکتا ہے، اس کے لئے غیرپیداواری اخراجات میں کمی کرکے صنعتی شعبے کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔

ایک تحقیقاتی ادارے نے رپورٹ دی تھی کہ پاکستان میں شمسی توانائی سے تین چار لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، اگر اس طرح کریں یا کیا گیا تو تیل کمپنیوں،پاور کمپنیوں فرنس آئل کے بیوپاریوں اور کمیشن ایجنٹوں کا کیا ہوگا۔ وہ کس طرح اس کو کامیاب ہونے دیں گے، وہ ملک کو چھوڑ دیں گے، صرف کراچی سے بجلی کمپنی ماہانہ اربوں روپے منافع کماتی ہے،اسی طرح ملک کے بڑے بڑے شہروں میں پاور کمپنیاں اربوں کا منافع کما رہی ہیں۔ ان کو قومی تحویل میں لیا جائے تو حالات کافی بہتر ہوسکتے ہیں، ان کمپنیوں کی لوٹ مار کی وجہ سے بجلی مہنگی ہے، اخراجات اتنے نہیں ہیں، منافع کمانے کے لئے حکومت اور عوام کو بلیک میل کیا جارہا ہے اور ان کمپنیوں کا نیا فراڈ یہ ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کا ساتھ دے کر موجودہ حکمرانوں کو بدنام کرنے کے لئے مختلف قسم کے اقدامات کر رہی ہیں۔

پاکستانی تقریباً دوسو روپے کلو چاول خرید رہے ہیں، مختلف اقسام کے مختلف ریٹ ہیں، ہم چاول برآمد کر رہے ہیں، پہلے عوام کی ضرورت پوری کرنی چاہئے، اس کے بعد برآمد۔ لیکن زرمبادلہ حاصل کرنے کے لئے ملک کے عوام کا احساس نہیں کیا جاتا۔ دنیا کا بہترین چاول پاکستان میں پیدا ہوتا ہے، تقریباً دو سو اقسام کے چاول پیدا ہوتے ہیں اور غریب چاول خرید نہیں سکتے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، یہاں سبزیاں بڑے پیمانے پر پیدا ہوتی ہیں اور عوام مہنگی ترین سبزیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم سبزیاں برآمد کرتے ہیں اور آلو کی بہترین پیداوار کے باوجود ہم آلو چین، ہندوستان اور بنگلہ دیش سے خرید رہے ہیں۔ بکرے اور گائے کا گوشت ایک ہزار اور پانچ سو روپے خرید رہے ہیں اور ہم گوشت روس کو برآمد کر رہے ہیں، ہمارے سارے بڑے مویشی روسی اور افغانستانی کھا رہے ہیں،

جبکہ ملک میں بڑے مویشیوں گائے، بھینسوں کی شدید قلت ہے، چینی تیس روپے مل سکتی ہے، بک سکتی ہے، مگر چینی کارخانوں کے بیشتر مالکان ان سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو باری باری اقتدار میں آتے رہتے ہیں، وہ کیوں چینی سستی ہونے دیں گے۔ گنے کی خریداری مل مالکان کم قیمت پر کرتے ہیں، کسانوں کو پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی اور عوام کو بھی مہنگی چینی خریدنی پڑتی ہے۔ حکومت اگر ان چینی کی ملوں کی طرف توجہ دے یا قومی تحویل میں لے لے اور فیکٹری کے پیداواری کارکنان کے حوالے کردے تو کسانوں کو گنے کی زیادہ قیمت مل سکتی ہے، ویسے پاکستان میں قومی تحویل میں فیکٹریاں اور کارخانے لینے کا اقدام بدنام ہوچکا ہے، لیکن سخت گیرو ایماندار حکمران اس منصوبے کو کامیاب کراسکتا ہے اور اگر عوام کا سوچنا ہے تو پھر حکمرانوں کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

کینودنیا میں سب سے اچھا بھلوال، سرگودھا میں پیداہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر برآمد کیا جاتا ہے، مگر کسانوں کو بہت کم قیمت ملتی ہے اور عوام بھی مہنگے کینو خریدنے پرمجبور ہیں، انڈے 120تک مل رہے ہیں۔ اتنی مہنگائی عوام کے ساتھ زیادتی ہے، ڈالر اور پاؤنڈ کا کئی چیزوں سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ڈالر مہنگے ہونے کا بہانہ بناکر عوام کو لوٹا جارہا ہے، تنگ کیا جا رہاہے اور بدنام حکمرانوں کو کیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کا قصور یہ ہے کہ وہ چیک اور بیلنس نہیں کر رہے، ان کو کون سی فکر ہے،خالی باتوں اور تقریروں سے عوام کا فائدہ نہیں،عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت خود کینو کی خریداری کرکے برآمد کرے اور کسان نو اچھی قیمت مل سکتی ہے اور عوام کو سستا کینو مل سکتا ہے، صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ناراض ہوں گی اور کمیشن ایجنٹ بُرا منائے گا، بہرحال حکومتی لوگوں کو سابقہ روایات کو توڑ کرچلنا ہوگا، ہم دودھ کی مصنوعات ہالینڈ، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور آسٹریلیا وغیرہ سے منگواتے ہیں، جبکہ یہ ساری مصنوعات پنیر، مکھن، مایونیز اور ملک پاؤڈر وغیرہ پاکستان میں بہتر اور سستے داموں میں مل سکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ڈیری فارمز کی نگرانی کرے۔ ان کی پیداوار کے لئے فیکٹریاں قائم کرے اور انہیں سہولتیں مہیا کرے، مگر ایسا کرنے سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پراڈکٹس کی برآمد بند ہو جائے گی، جس سے ان کی اربوں روپے کی لوٹ مار ختم ہو کر رہ جائے گی اور عوام کو سستا دودھ اور دودھ کی مصنوعات ملنے لگیں گی،

اس عمل سے سرمایہ داروں کو نقصان ہوگا، لیکن عوام کو فائدہ ہوگا، ان تمام مسائل کا حل ہوسکتا ہے، لیکن ان میں بڑی رکاوٹ سرمایہ دارانہ نظام ہے،ابھی نئی حکومت برسرِِاقتدار آئی ہے، بے شک زیادہ تر پرانے لوگ ہیں، لیکن حکمران کنٹرول کرنے والا نیا ہے، اب عوام کی بھلائی کے لئے منصوبہ بندی کرنا وقت کا تقاضا ہے، اس لئے کہ عوام کے مسائل کا واحد حل ایک غیر طبقاتی آزاد معاشرے کا قیام ہے، جو ریاست کی جگہ خود کار نظام ہے ۔ بلدیاتی نظام کی شکل میں جن میں ایماندر مخلص عوام کا درد اور ملک کی ترقی کادرد رکھنے والے لوگ شامل ہوں، پرانے لوٹ مار، مار دھاڑ اور اقربا پروری کے نظام سے جان چھڑانا ہو گی،جس طرح وزیراعظم عمران خان سابقہ حکمرانوں کی فضول خرچیوں کو ختم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں، عمران خان کے ساتھیوں کو اس کا ساتھ دینا ہوگا، ورنہ عوام سب سے حساب کتاب لے سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم