معاشی قوت اور حربی و ضربی طاقت کے بغیر تبدیلی کا عمل!

معاشی قوت اور حربی و ضربی طاقت کے بغیر تبدیلی کا عمل!
معاشی قوت اور حربی و ضربی طاقت کے بغیر تبدیلی کا عمل!

  

گزری صدی کی آٹھویں دھائی میں ایک صاحب بصیرت ایلون ٹافلر کی پیش بینیوں کا تذکرہ بڑی یکسوئی اور تن دہی کے ساتھ کیا جاتا تھا، انہوں نے آنے والی دہائیوں یعنی مستقبل قریب کا نقشہ ایسے کھینچا کہ حیرانی ہونے لگی، ان کی تھرڈویو اور ’’فیوچر شاک‘‘ نامی کتب نے ریکارڈ سیل کی، یعنی ان کتب نے فروخت کے ریکارڈ قائم کئے۔ ایلون ٹافلر نے تہذیبی و تمدنی ارتقاء کو دیکھا، پڑھا، پرکھا،ارتقائی عمل میں کارفرما ضوابط کا مطالعہ کیا اور تبدیلی کے میکانزم کا عمیق نظری سے مشاہدہ کرکے نتائج اخذ کئے، انہیں تاریخی سفر اور تسلسل پر لاگو کیا اور مستقبل کی پیش گوئی کی۔ علمی حلقوں میں ان کا نام اور کام اب بھی عزت اور وقار سے لیا اور دیکھا جاتا ہے۔انسان کی معلوم تاریخ ہزاروں سال پر مشتمل ہے، انسان نے جب رہنا سیکھا، بلکہ یوں کہئے جب اس نے ’’ہنر سیکھا‘‘ یعنی زندگی گزارنے کا فن سیکھا تو تہذیب کا ارتقا شروع ہوا۔ انسان پتھر اور غاروں کے دور سے نکل کر تہذیب و تمدن کی طرف آنے لگا۔ انسان نے زمین کا سینہ چاک کرکے اناج نکالنے کا ہنر سیکھا۔ یہ زرعی دور کی ابتدا تھی، یہی ہماری ماڈرن تہذیب کا نقطۂ آغاز ہے، انسان نے تہذیب کا سفر شروع کیا اور پھر یہ سفر رکا نہیں، انسان کہیں بھی کبھی بھی جھکا نہیں آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔ عروج و ارتقاء جاری رہا اور ہنوزیہ سفر جاری ہے، بڑی جرأت اور لگن کے ساتھ۔

پہیہ انسان کی سب سے پہلی دریافت ہے، اس نے پہیہ بنایا اس کی شکل گولائی میں تھی، اس پہیے کے ذریعے اس نے اپنی آؤٹ ریچ میں اضافہ کیا۔ سفر میں تیزی آئی، فاصلے سمٹنے لگے، پہلی گاڑی اس سفر کی ابتدائی شکل تھی، جو آگے بڑھتے بڑھتے آج کی برق رفتار زمینی و خلائی سواریوں تک آن پہنچی ہے۔ انسان نے سوچا کہ سست روی کو کیسے تیز رفتاری سے بدلا جائے؟ انسان نے بھاپ کی طاقت دیکھی، پتھر کی رگڑ سے چنگاری اور پھر آگ جلانا اس نے پہلے ہی سیکھ لیا تھا، بھاپ کی طاقت نے انسان کو مسحور کیا۔ ویل اور بھاپ کے ملاپ نے مشین پیدا کی، مشین بغیر بھاپ کی، پہلی شکل چرخہ تھی، جس نے ٹیکسٹائل کی عظیم الجثہ صنعت کی بنیاد رکھی، کھیتی باڑی میں رہٹ پہلی مشین تھی، جو بیلوں کی طاقت کے ذریعے کھیتی باڑی کے لئے پانی مہیا کرتی تھی۔

کوہلوبھی مشین کی ایک شکل تھی، جس کے ذریعے بیجوں سے تیل نکالا جاتا تھا، زرعی دور میں یہ آلات اور اوزار انسان کی کارکردگی میں اضافے اور بہتری کا باعث بنتے گئے، انہوں نے انسانی زندگی میں سہولتیں پیدا کیں، زمین کے ساتھ انسانی معاش کے تعلق کا یہ دور دس ہزار سال تک جاری رہا۔اس دور میں ’’زمین‘‘ یا ’’ملکیت زمین‘‘ کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے انسانوں کی ملکیت یعنی غلاموں کی تعداد ایک طاقت تصور کی جاتی تھی، جس شخص کے پاس جس قدر زیادہ زمین ہوتی اور اس پر کام کرنے والے غلاموں کی وافر تعداد بھی ہوتی تو اس شخص کو اسی قدر طاقت ور اور باوقار تصور کیا جاتا تھا، زمینداری کا یہ نظام زرعی دور میں غالب رہا۔ زمین سے حاصل کردہ پیداوار، زمین دار کی ملکیت ہوتی تھی اور اس پیداواری عمل کو سرانجام دینے والوں کی زندگیاں مشکلات میں گھری ہوئی تھیں اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے۔

اس دور کے دوران جب انسان نے پہیے اور بھاپ کے ملاپ سے انجن بنایا، چرخے کی جگہ تکلے اور کھڈی نے لے لی تو پھر زمینداری نظام کی قوت کمزور ہونے لگی۔ نیا نظام تشکیل پانے لگا، صنعتی دور کا سورج طلوع ہونے لگا۔ انسانی کارکردگی میں چار نہیں چھ آٹھ چاند لگنے لگے، پیداواری عمل کی رفتار اور پیداوار کا حجم تیزی سے بڑھنے لگا۔ پیداوار ضروریات سے کہیں زیادہ ہونے لگی تو پھر اس پیداوار کو فروخت کرنے اور نفع اندوزی کے لئے انسانی گروہوں، قوموں اور ملکوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی، پہلی جنگِ عظیم اسی صنعتی دور کی یادگار ہے، جب ’’تہذیب یافتہ‘‘ اقوام مغرب و مشرق نے آگ کا جہنم دھکایا، جس میں کروڑوں انسان بھسم ہوئے، بے انداز املاک تباہ و برباد ہوئیں۔ انسان اپنی لگائی ہوئی آگ میں جھلس جھلس گئے، کارکردگی، افادیت اور پیداواریت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو ہلاک کرنے، نقصان پہنچانے اور جہنم رسید کرنے کی طاقت کا حصول بھی ایک منزل قرار پایا۔ انسان نے ہلاکت آفرینی کو بھی اپنا ایک مقصد حیات قرار دے لیا۔ معیشت اور ہتھیار سازی/عسکریت ایک دوسرے کا اٹوٹ انگ بن گئے، ویسے تو انسان نے اپنی حفاظت کے لئے ہتھیار بنانے شروع کردیئے تھے، لیکن جب بلاکت آفرینی و بلاکت خیزی مطمح نظر قرار پایا تو پھر ہتھیار سازی نے ایک انتہائی اہم صنعت کی صورت اختیار کرلی، بلکہ اب تو یہ عالمی غلبے کا ذریعہ بھی ہے۔

دس ہزار سال تک زرعی دورِ تمدن میں رہنے کے بعد انسان مشینی اور صنعتی دور میں داخل ہوا تو معیشت کے ساتھ ساتھ جنگی صلاحیت اور ہلاکت آفرینی کی قوت کے حصول کی بھی دوڑ شروع ہوگئی، جو ہنوز جاری ہے۔ صنعتی دور تین سو سال تک جاری رہا، اس دور میں انسان نے ’’فتوحات‘‘ جاری رکھیں۔ اپنی پراڈکٹس اور مصنوعات کو بیچنے کے لئے منڈیوں کی تلاش کے باعث اقوام میں دشمنی کے جذبات پیدا ہوئے، لسانی، قومی، مذہبی ودیگر اختلافات اپنی جگہ، لیکن منڈیوں کے معاملات میں مسابقت کے باعث شدید خونریزی ہوئی۔ انسانیت تباہ و برباد ہوئی، پھر انسان نے صلح صفائی کے لئے لیگ آف نیشنز قائم کی، تاکہ جنگ نہیں امن کو فروغ دیا جاسکے۔ پہلی جنگ عظیم 1914-18ئکے بعد جنگ کی دھول ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ ایک بار پھر جنگ کے بادل امڈنے لگے،

لیگ آف نیشنز بھی کچھ نہ کرسکی، حتیٰ کہ 1939ء میں دوسری عظیم جنگ شروع ہوگئی، جو 1945ء تک جاری رہی، انسان نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ’’ایٹم بم‘‘ کی تباہ کاریوں کو پہلی مرتبہ کھلی آنکھوں سے دیکھا، ایسی ہلاکت خیزی تباہی بربادی انسان نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، ایسی سفاکی گزری انسانی تاریخ میں کہیں نہیں تھی۔ اس جنگ میں برطانیہ عظمیٰ کا رعب و دبدبہ اور فرعونیت پیوندِ خاک ہوا۔ جرمن قوم نے اپنی مضبوط معیشت اور حرب و ضرب کی حیران کن طاقت کے ذریعے اقوام عالم کو سحرزدہ کرکے رکھ دیا۔ جرمن قوم نے اڈولف ہٹلر کی قیادت میں معاشی استحکام حاصل کیا، اپنی قوت حرب و ضرب کو بڑھایا اور پھر یورپی دنیا کو للکارا۔

عالمی غلبے کی کوششیں کیں، لیکن امریکہ نے اس دوران نہ صرف معاشی استحکام کی فقید المثال راہیں ہموار کیں۔ متحارب اقوام کو اشیاء فراہم کیں، سپلائی لائن قائم کرکے ایک طرف متحارب اقوام کی ضروریات پوری کرکے جنگ کی بھٹی کو دھکائے رکھا اور دوسری طرف ایٹمی معیشت کو استحکام بخشا۔ امریکہ نے اپنی حربی و ضربی قوت کو بھی موثر و مضبوط کرکے دکھایا۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہلاکت خیز ہتھیار ایٹم بم تیار کرکے دنیا کو حیران کردیا، پھر ہیروشیما اورناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر اپنی لامحدود حربی و ضربی طاقت کا اظہار کیا، یہاں سے امریکہ کی عالمی بالادستی کے سفر کا آغاز ہوا اور ہنوز یہ سفر جاری ہے۔

انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کی تاریخ میں معاشی استحکام اور حربی صلاحیت نے قوموں کے عروج و زوال میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یونانی قوم ہو یا رومی اور فارسی اقوام، ہر ایک نے معاشی طاقت اورحربی و ضربی قوت کے بل بوتے پر دنیا پر حکمرانی کی۔ مسلمانوں نے بھی نظریے کے ساتھ ساتھ معاشی اور حربی قوت کے ساتھ دنیا کے تین براعظموں پر حکومت کی۔ دنیا کی رہنمائی کی، عالمی قیادت کا فریضہ سر انجام دیا، پھر مسلمان اندرونی خلفشار کا شکار ہونے لگے، قومیتوں کے اختلافات نے سرابھارناشروع کردیا۔ قبائلی عصیتیوں نے مسلمانوں کے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا شروع کردیا، پھر ہم نے دیکھا، جنگِ عظیم اول میں خلافتِ عثمانیہ تار تار ہوگئی، اس سے پہلے انگریزوں نے برصغیر میں پانچ صدیوں سے قائم مغلیہ سلطنت کو ختم کیا۔

برطانوی حکمرانی کے دور کے خاتمے کے بعد امریکہ عالمی سیاست کا چودھری بنا۔ اس نے عالمی معیشت کی سربراہی بھی سنبھالی، اب صورت حال یہ ہے کہ امریکی معیشت، عالمی معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتی ہے، پوری دنیا کی معیشت میں اتار چڑھاؤ، امریکی معاشیات میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ممکن ہوتا ہے، امریکی معیشت، عالمی اقتصادیات کے لئے رہنما اور گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے،امریکہ نے دنیا کے اطراف میں 7سو سے زائد فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ دنیا کے بحری راستے ہوں یا زمینی سفر، ہوائی سرحدیں ہوں یا خلائی جگہ، ہر طرف امریکہ آگے نظر آتا ہے۔ امریکہ اپنی مرضی دنیا پر مسلط کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

دنیا ہر امریکی اشارۂ ابروکو دیکھتی ہے، امریکہ اپنی تحقیقات یعنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے نہ صرف معاشیات میں، بلکہ آلات حرب و ضرب کی تیاری میں اقوام عالم میں ممتاز حیثیت قائم رکھتا ہے۔امریکہ تھرڈٹیمپل کی تعمیر کے ذریعے دنیا پر صہیونی غلبے کے لئے کوشاں ہے، اس مقصد کے لئے اہل حرم کا ناطقہ بند کیا جارہا ہے، ڈیڑھ ارب آبادی اور وسیع انسانی و قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود عالم اسلام ذلت و رسوائی کا شکار ہے، اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ہم اہل قیادت سے محروم ہیں، نہ ہماری معاشیات درست ہے اور نہ ہی ہماری حربی قوت اس قابل ہے کہ ہم صہیونی وصلیبی سازشوں کا مقابلہ کرسکیں۔المختصر معاشی قوت اور حربی و ضربی طاقت کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔

مزید : رائے /کالم