حکومت کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس

حکومت کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس
حکومت کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس

  

چیف جسٹس ثاقب نثار نے فرمایا ہے کہ حکومت میں اہلیت ہے نہ صلاحیت۔۔۔چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بنی گالا تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران دیئے،جس میں وزیراعظم عمران خان کو اپنا گھر ریگولرائز کرانے کا حکم دیا جا چکا ہے، تاہم ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ شاید چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو اس بات پر حکومت کی اہلیت اور صلاحیت پر شبہ ہوا ہو اور اسی وجہ سے حکومت کی منصوبہ بندی پر بھی سوالات اُٹھائے ہوں۔اہم ترین بات یہ ہے چیف جسٹس اہلیت یا صلاحیت پر تو سوالات اُٹھا رہے ہیں، مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ موجودہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں جیسی کرپٹ ہے۔

چیف جسٹس کے پاس موجودہ حکومت کا ایسا کوئی کیس آیا ہے اور نہ ہی چیف جسٹس کو اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا پڑا ہے، جن حکومتی شخصیات کے خلاف نیب تحقیق کر رہا ہے، ان کے خلاف کیسز بھی موجودہ عہدوں کے حوالے سے درج نہیں ہوئے، بلکہ ان کا تعلق ماضی سے ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمران خان چیف جسٹس کی باتوں پر زیادہ جذباتی نہیں ہوتے۔ پھر وہ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ عدلیہ کے ساتھ بگاڑ سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں دیتا۔ عدلیہ کے احکامات پر کھلے دِل سے عمل کرنا بہت سے مسائل کو کم کر دیتا ہے۔ جب آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا جھگڑا کھڑا ہوا تو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے غالباً عمران خان سے پوچھے بغیر یہ کہہ دیا کہ وزیراعظم اگر آئی جی کا تبادلہ بھی نہیں کر سکتا تو پھر اُس کے وزیراعظم بننے کا فائدہ کیا ہے۔

چیف جسٹس نے اس پر فواد چودھری کو طلب کیا تو غالباً عمران خان بھی اس سے پہلے اُن کی سرزنش کر چکے تھے،اِس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ چیف جسٹس کے فیصلے کی مخالفت کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے، سو صاف لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت چیف جسٹس سے عدم محاذ آرائی کی پالیسی پر گامزن ہے۔اس سلسلے میں اِس بات کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا جا رہا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے یا چیف جسٹس کی وجہ سے حکومت کو کام کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

یہ بہت دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے، چیف جسٹس اپنی رائے دے رہے ہیں، رکاوٹ کھڑی نہیں کر رہے، سب کام حکومت اپنی مرضی سے کر رہی ہے۔ فوج اور عدلیہ سے خواہ مخواہ کا ٹکراؤ ماضی میں کیا کیا رنگ دِکھا چکا ہے۔اُس تصادم میں یہ بات بھی ثابت ہے کہ زیادہ تر اَنا کے ٹکراؤ نے حالات خراب کئے۔ عمران خان نے صرف اختیارات کی ہوس میں بہت سے معاملات کو اپنی اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ریاست کے اِن دونوں بڑے اداروں کے مقابل کھڑے ہونے کی بجائے انہیں ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اپنائی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کھچاؤ تناؤ کی فضا کہیں نظر نہیں آ رہی،صرف اپوزیشن ہی ایک ایسی سیاسی مخالف ہے ، جس سے حکومت کو نبرد آزما ہونا ہے۔

یہ کوئی مشکل کام نہیں، کیونکہ ابھی تک حکومت کی عوام کی نظر میں ساکھ برقرار ہے اور لوگ بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ماضیئ قریب میں اگر آپ دیکھیں تو ریاست کا ٹرائیکا پوری طرح ایک دوسرے کے مقابل نظر آئے گا۔ حکومت، عدلیہ، فوج کی راہیں جدا جدا ہوں گی،بلکہ ایک ایسی فضا نظر آئے گی،جس میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی مفقود دکھائی دے گا۔ خلائی مخلوق جیسے بیانیے سامنے آئیں گے اور آئی ایس پی آر کے بیانات اس تاثر کو گہرا کرتے رہیں گے کہ حکومت اور فوج میں فاصلے بڑھ گئے ہیں اور سازشی تھیوری پوری طرح کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو یہ کریڈٹ ملنا چاہئے کہ انہوں نے اس برائی کو جڑ سے ختم کر دیا۔ چیف جسٹس اب بھی ماضی کی طرح حکومت کے بارے میں سخت ریمارکس دیتے ہیں۔ کئی ایسے فیصلے بھی دے چکے ہیں جو حکومت کے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں، مگر اس کے باوجود وہ فضا نہیں بن سکی، جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں موجود تھی۔اُدھر فوج کے ساتھ بھی وزیراعظم کے تعلقات مثالی ہیں اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان مطلق العنان نہیں بننا چاہئے۔یہ خواہش ماضی میں وزرائے اعظم کو بُرے دن دِکھا چکی ہے۔اُدھر فوج کا رویہ بھی بدلا ہوا ہے۔ہر معاملے میں وزیراعظم کو اہمیت دینے کی پالیسی پہلے دن سے نمایاں ہے۔

اِن سب باتوں کے باوجود اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ عمران خان کی حکومت ابھی تک اپنا گہرا نقش نہیں جما سکی، معاشی مجبوریوں کو ایک حقیقت مان بھی لیا جائے، تب بھی یہ اس بات کا جواز نہیں بنتیں کہ حکمرانی میں بہتری نہ آ سکے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف حکومت آتے ہی انتظامیہ میں بہت سی سٹرکچرل تبدیلیاں لائے گی، خاص طور پر نچلی سطح کی کرپشن کو کم کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔آج ہی ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان امجد شعیب کا ایک انٹرویو چھپا ہے، جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹروں کا عملہ کرپشن میں پٹواریوں کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے، پٹواریوں کو پکڑنا آسان ہے،انہیں تو پکڑنا بھی مشکل ہے، کیونکہ وہ تکنیکی طور پر نظام کو اُلجھا کر رکھ دیتے ہیں۔

اُدھر ہسپتالوں کے معاملات جوں کے توں ہیں، سو دن بھی مکمل ہونے والے ہیں اور کسی شعبے میں بھی کسی بڑی تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔پولیس بھی وہی ہے اور بیورو کریسی کے لچھن بھی وہی ہیں۔ اُلٹا نقصان یہ ہوا ہے کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز عوام کی دسترس سے نکل گئے ہیں۔ بیورو کریسی اور پولیس اُن پر حاوی ہو گئی ہے۔وہ کسی کو فون بھی کریں تو خبر بن جاتی ہے۔یوں عملاً عوام بے یارو مددگار ہو گئے ہیں،تاہم نظام کا جبر بھی وہی ہے اور عوام کو ذلیل و خوار کرنے والی سرکار بھی نہیں بدلی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے غالباًبہ جملے ازبر کر رکھے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی لا کر رہیں گے،

عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،سرکاری افسران کو عوام کا خادم بنائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ نجانے اُن کے یہ عزائم کب پورے ہوں گے۔اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے،اُن میں کوئی تبدیلی نہ آئی اور یہ احساس بڑھتا گیا کہ حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، تو چیف جسٹس کے یہ الفاظ تازیانہ بن کر اُتریں گے کہ حکومت میں اہلیت ہے نہ صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی، اگر اتنے اعلیٰ منصب پر بیٹھے ہوئے مُلک کے سب سے بڑے قاضی نے یہ ریمارکس دیئے ہیں تو انہیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کی پالیسی کے نذر نہ کیا جائے،بلکہ سنجیدگی سے اپنی کوتاہیوں، خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔بڑے بڑے دعوؤں کے بعد اقتدار میں آنے والوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ کئی ماہ ہنی مون پیریڈ سمجھ کر گزاریں اور انہیں کچھ نہ کہا جائے۔

مزید : رائے /کالم