طلائی زیور ات لیکر جانیوالا نوجوان ، گھاس چوری پر لڑائی میں 1قتل

طلائی زیور ات لیکر جانیوالا نوجوان ، گھاس چوری پر لڑائی میں 1قتل

شجاع آباد، جلال پور پیر والہ ، سرائے سدھو( نمائندگان) طلائی زیورات لیکر جانیوالا نوجوان گھاس چوری پر لڑائی میں 1 قتل شجاع آباد سے نامہ نگار کے مطابق بہن کی شادی کے طلائی زیورات لینے آیا ہوا مجاہد حسین نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ۔تفصیلات کے مطابق مقتول مجاہد حسین بیٹ میں کچے کا رہائشی تھامقتول کے والد نور محمد نے بتایا کے میرا بیٹے مقتول مجاہد حسین سے نامعلوم افراد نے تین تولہ طلائی ریورات اور نقدی چھین لی مزاحمت پر(بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے مجاہد کو ہلاک کردیا مقتول کے والد نے صحافیوں کو بتایا کہ ہماری کسی کوئی زاتی دشمنی نہ ہے شجاع آباد سے واپسی طلائی زیوارت لے کر گھر جارہا تھاکہ راستے میں میرے بیٹے مجاہدحسین سے چھننے کی کوشش کی مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ سے ہلاک کرکے فرار ہوگئے ۔جلالپور پیروالا سے نامہ نگار کے مطابق نواحی علاقے موسن والی میں گھاس کی چوری کے معاملہ پر لڑائی میں ایک شخص جاں بحق، 2 زخمی ہو گئے، تفصیلات کے مطابق 2 روز قبل عابد نے مبینہ طور پر دوست محمد کے کھیتوں میں سے گھاس چوری کی تھی جس پر اس کی دوست محمد سے تلخ کلامی ہو گئی تھی سوموار کی شام عابدنے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کاشف، اعجاز اورمختیار کے ہمراہ دوست محمد، اس کے بھائی محبوب اور بھتیجے اصغر پر کلہاڑیوں، سریوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا اور تینوں کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے، زخمیوں کو اہل علاقہ نے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال پہنچایا جہاں 57 سالہ دوست محمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ پولیس تھانہ صدر کی جانب سے اندراج مقدمہ میں تاخیر پر ورثاء نے میت رکھ کر احتجاج کیا بعد ازاں ایف آئی آر درج ہونے پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔ منگل کے روز مقتول کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی تھانہ صدر پولیس نے وقوعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔سرائے سدھو سے نمائندہ خصوصی کے مطابق

سرائے سدھو کے رہائشی محمد جاوید جالندھری کی جواں سالہ بیٹی اقصیٰ جاوید چند روز قبل مبینہ آشناء کے ساتھ گھر سے فرار ہو گئی تھی جو کہ گزشتہ روز گھر واپس آگئی گزشتہ سے پیوستہ شام اقصیٰ جاوید کو اس کے بھائی نے گھر میں گلا دبا کر قتل کردیا گھر والوں نے اس قتل کو طبعی موت قرار دے کر گذشتہ روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعدنعش تدفین کے لئے مقامی قبرستان لے گئے ابھی اسے لحد میں اتارنے کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ پو لیس تھانہ سرائے سدھو نے پہنچ کر تدفین کی بجائے نعش قبضے میں لے کر پوسٹمارٹم کے لئے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کبیروالا منتقل کر دی جس پر لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ گھر سے باہر گیا تو واپسی تک میرا بیٹاطارق اپنی بہن کے ساتھ جھگڑا کررہا تھا اور اس کا گلا دبارہا تھا میں روکا تو مجھے بھی مارنے کی دھمکی دی دیگر کی مدد سے جب میں نے اقصیٰ کو چھڑایا تو وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی اور ملزم فرار ہو گیا ہے،پو لیس نے والد کی اس بیان پر طارق کے خلاف تو مقدمہ درج کرلیا لیکن قتل کو چھپانے میں مدد کرنے والے والد سمیت کسی اور ملزم کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی بادی النظر میں قتل میں معاونت کرنے والے والد کو مدعی مقدمہ بنا دیا۔

قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر