ضلع خیبر میں پہلی بار15 نومبر کواساتذہ یونین کے قانونی انتخابات ہونگے

ضلع خیبر میں پہلی بار15 نومبر کواساتذہ یونین کے قانونی انتخابات ہونگے

خیبر (بیورورپورٹ) ضلع خیبر میں پہلی بار15 نومبر کواساتذہ یونین کے قانونی انتخابات ہونگے، 29 سو مرد و خواتین اساتذہ اپنی رائے کا استعمال کرینگے،ڈائریکٹریٹ فاٹا ایجوکیشن نے اساتذہ یونین کے انتخابات کی نوٹیفیکیشن جاری کر دی ہے،تین پینلز مد مقابل ہیں، صدارتی امیدوار نصیر شاہ ، شاہد خان اور گلاب دین کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ 15 نومبر کو ضلع خیبر کی سطح پر پہلی بار ڈائریکٹریٹ آف فاٹا ایجوکیشن کی نوٹیفیکیشن کی روشنی میں اساتذہ یونین کے قانونی انتخابات ہونگے جس کے لئے لنڈی کوتل ، باڑہ اور جمرود میں تقریباً16 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جن میں لنڈی کوتل میں تین پولینگ سٹیشنز لنڈی کوتل ہائی سکول، باذار ذخہ خیل تود کمر ہائی سکول اور لوئے شلمان ہائی سکول میں قائم کئے گئے ہیں اساتذہ کے مطابق کل انتیس سو اساتذہ تین مختلف الخیال پینلز کے لئے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کر سکیں گے ووٹنگ کا عمل صبح 9 سے 3 بجے تک جاری رہیگا اساتذہ الیکشن کے لئے ریٹرنگ آفیسر گریڈ اٹھارہ کے عابد علی ہونگے ، جمرود کے لئے عثمان ،باڑہ کے لئے محمد زاہد اور لنڈی کوتل کے لئے زاہد خان پریزائڈنگ آفیسر ز ہونگے جو آخری نتائج تک الیکشن کے عمل کی نگرانی کرینگے ہر پینل میں دس عہدیدار ہونگے جن میں سے دو خواتین استانیاں بھی شامل ہونگیں تمام ووٹرز پر پہلی بار عجیب قسم کی پابندی لگائی گئی ہے کہ جس ووٹر نے کسی بھی پینل میں ایک امیدوار کو بھی ووٹ دیا تو اس کے تمام ووٹ اسی پینل کے حق میں شمار ہونگے اور ایک ووٹر تینوں پینلز میں سے مختلف عہدوں کے لئے امیدواروں کو ووٹ نہیں دے سکے گا واضح رہے کہ اساتذہ الیکشن کے لئے تینوں پینلز کے صدارتی امیدوار باڑہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اساتذہ کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے اساتذہ الیکشن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریاتی کارکن حصہ لے رہے ہیں جن میں جماعت اسلامی،جمعیت علماء اسلام، اے این پی اورپی ٹی آئی کے کارکن شامل ہیں اس الیکشن میں ضلعی ایجو کیشن آفس کے اثر و رسوخ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم اب تک کی انتخابی مہم کے دوران ایجو کیشن آفس کی طرف سے کسی کو کچھ نہیں کہا گیا ہے تاہم سوشم میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ضلع خیبر کے ایجو کیشن آفیسر جدون وزیر نے کہا ہے کہ اساتذہ الیکشن کے موقع پر تمام تعلیمی ادارے کھلے رہینگے اور وقت پر چھٹی ہوگی اساتذہ پینلز نے اپنے اپنے منشور میں اساتذہ کے مسائل کے حل کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ دوسری طرف اساتذہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قبائلی اساتذہ کو سینیارٹی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی قابلیت اور کوالیفیکیشن کی بنیاد پر ترقی اور انکریمنٹس دےئے جائیں مد مقابل پینلز نے اساتذہ کی اپ گریڈیشن، ٹیچنگ الاؤنس ،انکم ٹیکس ، کنوینس الاؤنس ، مرحوم اساتذہ کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرنے جیےے دعوے کئے ہیں دیکھنا ہوگا کہ

مزید : پشاورصفحہ آخر