سینئر صحافی احسان اللہ شیر پاؤ کے قتل کے محرکات کا منظر عام پر آگئے

سینئر صحافی احسان اللہ شیر پاؤ کے قتل کے محرکات کا منظر عام پر آگئے

چارسدہ(بیورو رپورٹ) چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری اور سینئر صحافی احسان اللہ شیر پاؤ کے قتل کے محرکات سامنے آ گئے۔ خاندانی زرائع کے مطابق صحافی احسان اللہ شیرپاؤ شہیدکو علاقے سے آئس کے نشے کے خاتمے کیلئے جدو جہد کی سزاہ دی گئی ۔ قاتل آئس کا عادی ہے اور اس نشے کا کاروبار بھی کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری احسان شیر پاؤ شہید کے بڑے بھائی عنایت اللہ نے اس بات کا انکشاف کیاہے کہ احسان اللہ شیر پاؤ کا قاتل چچا زاد بھائی ارشد جمال گزشتہ ڈھائی سال سے آئس نشے کا نا صرف عادی ہے بلکہ اسکا کاروبار بھی کرتا ہے۔ احسان شیر پاؤ ملزم کو آئس کے استعمال اور کاروبار سے منع کر تے تھے اور اس بناء پرتقریباً دوسال قبل احسان اللہ شیر پاؤ نے ملزم ارشد جمال اور اسکے دو ساتھیوں کی پھٹائی بھی کی تھی۔ ملزم کو اس بات کا رنج تھا اور دونوں کے مابین یہی چپقلس جاری تھی ۔ احسان شیرپاء نے کئی بار مقامی پولیس کو بھی ملزم کے دھندے کے حوالے سے شکایات کیئے جس پر پولیس ملزم کو تنگ کرتا رہا۔ احسان شیر پاء نے علاقہ تنگی اور شیر پاؤ میں سوشل میڈیا پر آئس کے کاروبار اور استعمال کے خلاف خصوصی مہم بھی چلائی جس سے ملزم اور انکے ساتھیوں کا احسان شیر پاؤکے ساتھ اختلافات مزید بڑھ گئے ۔چارسدہ پریس کلب کے سینئر صحافیوں سید شاہ رضا شاہ باچہ اور رفاقت اللہ نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباَ ڈیڑھ سال قبل ملزم ارشد جمال صحافی احسان شیرپاؤ کو ڈھونڈنے چارسدہ پریس کلب بھی آیا تھا تاہم اس وقت احسان شیر پاؤ کوریج کیلئے پریس کلب سے باہر گئے تھے۔ دونوں صحافیوں کے مطابق ملزم ارشد جمال نے انہیں احسان شیر پاؤ کے حوالے سے دھمکی امیز پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میرے معاملات میں مداخلت بند نا کی گئی تواحسان شیر پاؤ کے حق میں اس کے نتائج بھیانک ہونگے۔ ارشد جمال نے مزید کہا کہ آئس کا نشہ اس کا زاتی فعل ہے اور احسان شیر پاؤ نا صرف خود مجھے تنگ کر ہا ہے بلکہ پولیس میں شکایات کر کے بھی تنگ کر رہا ہے۔ احسان شہید کے بھائی عنایت اللہ نے مزید بتایا کہ جب ملزم نے پیسو ں کے معاملے پر اپنی ماں، بھاوج اور بھتیجے کو قتل کیا تو اسکے چند منٹ بعد احسان شیر پاؤ کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ملزم اور احسان کے مابین اسکے سوا کوئی تنازعہ نہیں تھاْکہ احسان شیر پاؤ اسے آئس کے دھندے اور استعمال سے روک رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ احسان نے پولیس کے ذریعے بھی ملزم کو ڈرایا دھمکایا تھا اور ملزم نا صرف اسے اپنی راہ میں بڑی روکاوٹ سمجھ رہے تھے بلکہ اس سے ڈرتے بھی تھے ملزم کا خیال تھا کہ احسان کے ہوتے ہوئے وہ اپنا دھندہ جاری نہیں رکھ سکتا۔عنایت اللہ نے کہا کہ احسان اللہ شیر پاؤ ایک نیک مقصد کیلئے قربان ہو گئے انہوں نے ڈرگ مافیاں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا علاقہ تنگی اور شیر پاؤ سے آئس نشے کے کاروبار کا خاتمہ ان کا مشن تھا تاکہ علاقے کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر نہ لگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر