لنڈیکوتل کے باشندہ کا جائیداد پر قابض گروپ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

لنڈیکوتل کے باشندہ کا جائیداد پر قابض گروپ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

خیبر ایجنسی (بیور ورپورٹ)لنڈی کوتل کے رہا ئشیوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ،وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان اور آئی جی پولیس سے اپیل کی ہے کہ ان کی جائیدادپر قبضہ گروپ کیخلاف کاروائی کر کے ہماری زمین واگزار کرائی جا ئے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں اختر رسول افریدی،عارف اللہ نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہا کہ رنگ روڈ ٹول پلازہ کے قریب ہماری 31مرلہ زمین ہے جس کی مالیت 9کروڑ کے لگ بگ ہے جس کے تمام تر دستا ویزات ہمارے پاس موجود ہے مگرسابق ایم این اے ناصر خان آفریدی اور سینیٹر مومن خان نے ہمارے جائیداد پر تعمیراتی کام شروع کیاہے جن کے ساتھ سرکار کی طرف دی گئی سیکورٹی بھی اسلحہ کے ساتھ موجود ہوتی ہیں اور اسلحہ کے جنگ کی حالت کی طرح پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے جائیداد پر قبضہ گروپ کے تعمیراتی کے خلاف تھانہ سربند کے ایس ایچ او کو کام بند کرنے کی درخوست بھی دیا ہے لیکن ابھی تک ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی ہے اور قبضہ گروپ نے اسلحہ کے زور پر تعمیراتی کام جاری رکھا ہے،انہوں نے کہاکہ ہم اپنا جائیداد کو کسی کو بھی نہیں چھوڑتے اور ان پر تعمیراتی کام بند کرینگے چاہئے جس میں ہماری جانیں کیوں نہ چلے جائے انہوں نے کہاکہ انصاف کے نعرے لگانے والے حکومت میں ناجائز افراد غریب اور محنت کش لوگوں کسی قسم کا انصاف نہیں مل رہا ہے جبکہ سیاسی لوگ اپنے سیاسی اثررسوخ استعمال کرتے ہوئے دہشت پھلانے کیلئے لگے ہوئے ہیں انہوں نے الزام لگایاکہ ناصر خان اور سینیٹر مومن خان کا تعلق ڈرگ مافیا سے ہے جن کے خلاف اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمات بھی درج کئے ہیں جن کی ورنٹ گرفتاری کئی سال پہلے جاری ہوئی تھی لیکن یہ اپنی سیاسی اثررسوخ استعمال کرتے ہوئے ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں اور مومن مرکز کے نام پر ان کاایک عالیشان گھر تھا جس سے دہشتگرد کاروائی کرتے تھے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان ،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ،آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی جائیدادپر قبضہ گروپ کیخلاف کاروائی کر کے ہماری زمین واگزار کرائی جا ئے اور خونریزی کو رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر