کار انداز کی بینکاری کے قابل روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کی رپورٹ جاری

کار انداز کی بینکاری کے قابل روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کی رپورٹ جاری

لاہور(پ ر) کار انداز پاکستان نے بینکاری کے قابل روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے متعلق ایک رپورٹ کا اجراء کیا ہے۔ نقل و حمل کا شعبہ معیشت کے اہم عناصر میں سے ایک ہے۔ جیسے کہ نقل و حمل کی توجہ اشیاء کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہوتی ہے، اسی طرح لاجسٹکس سے مراد اس بہاؤ کا انتظام ہے، اس میں ٹرانسپورٹ کے علاوہ اسٹوریج، ہینڈلنگ، انونٹری اور دیگر اشیاء کی پیکجنگ شامل ہوتی ہے۔ پاکستان کے روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں موجودہ تحقیق بہت پرانی ہوچکی تھی۔ اس رپورٹ میں روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ بالخصوص اس کے امور کار اور فنانسنگ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ٹرانسپورٹ سیکٹرز کا مجموعی طور پر احاطہ کیا گیا ہے جو روڈ ٹرانسپورٹ کے بنیادی حصوں، ان کی بنیادی معیشت، بینکاری اور اس شعبہ کی ترقی کے امکانات کے بارے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور مواصلات کے شعبہ نے مالی سال 2016-17ء میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اپنا اندازاً 13 فیصد حصہ ڈالا، اس میں 62 فیصد حصہ روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کی جانب سے شامل تھا۔ 2014-15ء میں اس سیکٹر میں 3.1 ملین افراد ملازم تھے۔ و

سیع پیمانے پر بنیادی و ثانوی تحقیق سمیت اس رپورٹ کا بنیادی مقصد مالیاتی اداروں کو اس شعبہ کا ایک تجزیہ فراہم کرنا ہے تاکہ اس شعبہ کی موجودہ طلب کو پورا کرنے کیلئے مناسب مالیاتی سہولیات ترتیب دینے میں مدد مل سکے۔

مطالعہ رپورٹ کارانداز کی ویب سائیٹ https://karandaaz.com.pk/karandaaz-publication/ سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

پسینجر ٹرانسپورٹ اور فریٹ ٹرانسپورٹ کے شعبے انتہائی منافع بخش ثابت ہوئے ہیں ۔ رکشہ مالکان کی جانب سے خرچ کی گئی رقم آٹھ ماہ میں پوری ہو جاتی ہے اور اسی طرح چھوٹے ٹرکوں اور سپر ڈیلیکس بسوں کے مالکان 50 مہینوں میں اپنی لاگت پوری کرنے کی بعد منافع حاصل کرتے ہیں ۔ آئندہ دس سالوں میں سی پیک کی مجوزہ ترقی کے پیش نظر جی ڈی پی میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ سی پیک کی روڈ اور ہائی وے کی تعمیرات میں متوقع 13 فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے شعبہ پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

کار انداز پاکستان کی ڈائریکٹر نالج مینجمنٹ اینڈ کمیونیکیشنز مہر شاہ نے مطالعہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی تحقیق مسافر طبقات کے ساتھ ساتھ مال برداری سے متعلق قومی سروے پر مشتمل ہے۔ اس سروے میں مالیاتی اداروں، غیر رسمی قرض دہندگان، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنوں، لاجسٹکس کمپنیوں اور اڈہ آپریٹرز سمیت دیگر کے انتہائی اہم معلوماتی انٹرویوز بھی شامل ہیں۔

کار انداز پاکستان کے سی ای او علی سرفراز نے کہا کہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ایس ایم ای سیکٹرز میں جدت انتہائی ضروری ہے۔ ایس ایم ایز کے لئے اس شعبہ تک رسائی آگے بڑھنے کا درست راستہ ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کے روڈ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ٹرانسپورٹ کی صنعت کیلئے دستیاب شواہد پر مبنی یہ تحقیق متعلقہ سرکاری شعبہ کے فیصلہ سازوں اور بینکنگ سیکٹر کے ساتھ ساتھ نجی افراد اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید معاشی سرگرمی لانے کے لئے معاون ہوگی۔

سروے میں دیئے گئے مندرجات کے مطابق مال بردار ٹرانسپورٹ سیکٹرز انتہائی منافع بخش ہے جس کا منافع 21 فیصد (بڑے ٹرکس) سے 43 فیصد (رکشہ) ہے۔ 95 فیصد مال بردار گاڑیاں مقامی مارکیٹ سے خریدی گئیں جبکہ 75 فیصد خریدی گئی گاڑیاں استعمال شدہ ہیں۔ مال برداری کے شعبہ میں قرضوں کے حجم کے حوالے سے بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں سے لیا گیا اوسطاً قرض 890,000 روپے، غیر رسمی قرض دہندگان سے 567,000 روپے اور غیر رسمی گاڑیوں کے فراہم کنندگان کی جانب سے 3.2 ملین روپے کے درمیان ہے۔ ان میں سے 50 فیصد کے پاس بینک اکاؤنٹس، 42 فیصد کے پاس اے ٹی ایم کارڈ ہیں اور 26 فیصد سمارٹ فون استعمال کرنے والے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے، صرف سندھ میں مال بردار گاڑیوں کے مالکان کی تعداد 45 فیصد ہے۔

اگر ہم پسینجر شعبہ پر غور کریں، گاڑی کی قسم کے حوالے سے منافع کی شرح بھی زیادہ ہے جو ویگنوں کیلئے 30 فیصد سے سپر ڈیلکس بسوں کے لئے 50 فیصد تک ہے۔ بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کی جانب سے پسینجر شعبہ کیلئے اوسطاً قرض کا حجم 746,000 روپے ہے جبکہ غیر رسمی قرض دہندگان کی جانب سے اوسطاً 1.3 ملین روپے اور گاڑیوں کے غیر رسمی فراہم کنندگان کی جانب سے 1.1 ملین روپے ہے۔ پسینجر ٹرانسپورٹ مالکان میں سے 34 فیصد سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ بقیہ (66 فیصد) فیچر فونز استعمال کرتے ہیں۔ 50 فیصد کے پاس بینک اکاؤنٹ ہے اور 37 فیصد کے پاس اے ٹی ایم کارڈز ہیں۔

مزید : کامرس