سورج مکھی کے بیج میں اعلیٰ قسم کا 40فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے،ماہرین

سورج مکھی کے بیج میں اعلیٰ قسم کا 40فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے،ماہرین

فیصل آباد(آن لائن )سورج مکھی کے بیج میں اعلیٰ قسم کا 40فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے اور انسانی صحت کے لیے ضروری حیاتین اے ، بی ،ای اور کے بھی پائے جاتے ہیں۔ سور ج مکھی کم دورانیہ کی فصل ہے جو 100سے 125 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے ۔ اسے سال میں دو دفعہ بہار اور خراں کے دوران با آسانی کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ پیداواری ٹیکنالوجی پر عملد رآمد سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔زر عی توسیعی کارکنان سورج مکھی کی پیداواری ٹیکنالوجی میں دی گئی جدید سفارشات کاشتکاروں تک پہنچائیں ان خیالات کا اظہار چوہدری عبدالغفور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن لاہور نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری ٹیکنالوجی سورج مکھی 2019-20کی منظوری کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کے دوران گزشتہ سال کے پیداواری منصوبہ سورج مکھی کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ۔محمد آفتاب ڈائریکٹر آئل سیڈنے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اس سال فی ایکڑ پیداوار تقریباً20من گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوئی ہے ۔ اس سال سورج مکھی کے رقبہ وپیداوار میں اضافہ کے لیے ٹارگٹ میں رقبہ و پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں رواں سال سورج مکھی کی کاشت کے حوالے سے سفارشات مرتب کی گئیں جن میں سورج مکھی کی پیدواری ٹیکنالوجی کے تمام عوامل جن میں ہائبرڈ اقسام ، زمین کی تیاری ، کھادوں کا استعمال ، آبپاشی ، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں وبیماریوں کی پہچان وانسداد اور فصل کی برداشت وسٹوریج کے طریقے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں امسال حکومت پنجاب سورج مکھی کے کاشتکاروں کوسبسڈی بھی دے گی اجلاس میں زرعی ماہرین کی مشاورت سے پیداواری ٹیکنالوجی سورج مکھی 2019-20 میں چند ضروری ترامیم کرنے کے بعد ٹیکنالوجی کی منظوری دے دی گئی۔ #/s#

*****

اجلاس میں محمد آفتاب ڈائریکٹر آئل سیڈ،رائے مدثر عباس ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن، ڈاکٹر آصف شہزاد اسسٹنٹ پروفیسر میاں نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان، ڈاکٹر شکیل انجم اسسٹنٹ پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ، علیم سرور اسسٹنٹ سائل فرٹیلٹی آفسیر ، عبدالرحمن اور ثروت ضیاء شعبہ پیسٹ وارننگ فیصل آباد ڈاکٹر ساجدہ حبیب باٹنسٹ شعبہ تیل دار اجناس ، محمد لطیف نائب ماہر حشرات ، اور قمر یوسف راحیل اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات کے علاوہ دیگر زرعی ماہرین نے بھی شرکت کی۔

مزید : کامرس